روس یوکرین جنگ کے جنوبی ایشیا پر منفی معاشی اثرات مرتب ہوں گے، افتخار علی ملک

اسلام آباد۔2مئی (اے پی پی):سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر افتخار علی ملک نے کہا ہے کہ روس اور یوکرین کی جنگ جاری رہی تو جنوبی ایشیائی ممالک پر اس کے منفی معاشی اثرات مرتب ہوں گے۔ ممبر ایگزیکٹو کمیٹی لاہور چیمبر مومن علی ملک کی قیادت میں تاجروں کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عالمی معیشت کورونا وائرس کی وبا کی وجہ سے …

اسلام آباد۔2مئی (اے پی پی):سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر افتخار علی ملک نے کہا ہے کہ روس اور یوکرین کی جنگ جاری رہی تو جنوبی ایشیائی ممالک پر اس کے منفی معاشی اثرات مرتب ہوں گے۔ ممبر ایگزیکٹو کمیٹی لاہور چیمبر مومن علی ملک کی قیادت میں تاجروں کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عالمی معیشت کورونا وائرس کی وبا کی وجہ سے کساد بازاری اور بدترین معاشی بحران سے گزرنے کے بعد ابھی ٹھیک ہونا شروع ہوئی تھی کہ روس یوکرین جنگ نے اسے متاثر کرنا شروع کردیا ہے،

عالمی معیشت کے لیے 2022 کا آوٹ لک منفی نظر آرہا ہے اور جنوبی ایشیا بھی اس سے متاثر ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ روس اور یوکرین تیل، گیس اور دیگر اجناس کی عالمی سپلائی میں نمایاں حصہ دار ہیں اس لئے جنگ سے ان اشیاکی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے، جنوبی ایشیا پر اس کے براہ راست اثرات اشیاکی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی صورت میں پڑیں گے کیونکہ یہ خطہ اجناس کا درآمد کنندہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس جنگ سے قبل ہی جنوبی ایشیائی ممالک میں مہنگائی عالمی منڈیوں کے مقابلہ میں زیادہ تھی اور اب اجناس کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے یہ فرق مزید وسیع ہو گا اور پیداواری لاگت میں اضافہ خطے میں سستی مزدوری اور توانائی کی مسابقت کو ختم کردے گا، جنوبی ایشیا میں توانائی کی پیداوار کے لیے فوسل فیول پر انحصار دیگر ایشیائی علاقوں کے مقابلے میں پہلے ہی زیادہ ہے۔

افتخار علی ملک نے کہا کہ اس کا براہ راست اثر فوری طور پر افراط زر کی صورت میں گا جب کہ بالواسطہ اثر کے نتیجے میں اقتصادی ترقی سست ہوگی اور دوسرے مرحلے میں معیشت جمود کا شکار ہوگی، جنوبی ایشیا پر اس جنگ کے معاشی اثرات کورونا کے مجموعی معاشی اثرات سے بھی زیادہ منفی ہوسکتے ہیں۔