ریٹیل ٹرانزیکشنز کی تعداد رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں 2.8ارب ، ادائیگیوں کی مالیت166 ٹریلین روپے تک پہنچ گئی،رپورٹ

اسلام آباد۔30دسمبر (اے پی پی):ریٹیل ٹرانزیکشنز کی تعداد رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں 2.8ارب جبکہ ادائیگیوں کی مالیت166 ٹریلین روپے تک پہنچ گئی، پہلی سہ ماہی میں ملک بھر میں 20,527 اے ٹی ایم کے نیٹ ورک سے 267 ملین ٹرانزیکشن انجام پائیں جن کی مالیت 4.5 ٹریلین روپے رہی۔یہ بات سٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں ادائیگیوں کے …

اسلام آباد۔30دسمبر (اے پی پی):ریٹیل ٹرانزیکشنز کی تعداد رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں 2.8ارب جبکہ ادائیگیوں کی مالیت166 ٹریلین روپے تک پہنچ گئی، پہلی سہ ماہی میں ملک بھر میں 20,527 اے ٹی ایم کے نیٹ ورک سے 267 ملین ٹرانزیکشن انجام پائیں جن کی مالیت 4.5 ٹریلین روپے رہی۔یہ بات سٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں ادائیگیوں کے نظام کے حوالے سے جاری رپورٹ میں کہی گئی ہے۔ رپورٹ میں ادائیگیوں کے موجودہ نظام، ادائیگی کے منظرنامے کو بدلنے والے ابھرتے ہوئے اہم رجحانات کے جامع تجزیے کے ساتھ مالی سال26-2025 کی پہلی سہ ماہی کے دوران اس شعبے میں ہونے والی قابل ذکر پیش رفت کو اجاگر کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق خردہ ادائیگیوں کا حجم بڑھ کر 2.8 ارب ٹرانزیکشنوں تک پہنچ گیا جو گزشتہ سہ ماہی کے مقابلے میں 10فیصد زیادہ ہے ، خردہ ادائیگیوں کی مالیت بڑھ کر 166 ٹریلین روپے تک پہنچ گئی جو گزشتہ سہ ماہی کی نسبت 6 فیصد زائد ہے۔اس توسیع کا بنیادی محرک موبائل ایپ کے ذریعے بینکاری میں مسلسل اضافہ ہے۔رپورٹ کے مطابق ڈیجیٹل ادائیگی کے ذرائع سے 2.5 ارب ٹرانزیکشن انجام پائیں جو مجموعی خردہ ادائیگیوں کا 90 فیصد بنتا ہےجبکہ پچھلی سہ ماہی میں یہ تناسب 87 فیصد تھا۔ ڈیجیٹل ذرائع سے ٹرانزیکشن کی مجموعی مالیت بڑھ کر 55 ٹریلین روپے تک پہنچ گئی جو ملکی معیشت میں ان ذرائع کے بڑھتے ہوئے استعمال کی عکاسی کرتا ہے۔

ڈیجیٹل منظرنامے میں موبائل ایپ سے ادائیگیوں کا حصہ سب سے زیادہ رہا جن میں بینکوں، برانچ لیس بینکاری فراہم کرنے والے اور الیکٹرانک منی اداروں (ای ایم آئی) کی ایپس کے ذریعے 2.0 ارب ٹرانزیکشن کی گئیں۔ یہ ٹرانزیکشن مجموعی ڈیجیٹل ادائیگیوں کا 81 فیصد تھیں اور ان کی مالیت 33.7 ٹریلین روپے رہی۔ یہ چینل مختلف اقسام کی ڈیجیٹل ادائیگیوں کے لیے استعمال ہوتا ہےجن میں فرد سے فرد ادائیگی، بلوں کی ادائیگی اور اکاؤنٹ والٹ پر مبنی مرچنٹ ادائیگیاں شامل ہیں جو آن لائن پلیٹ فارم اور فزیکل ریٹیل آؤٹ لیٹ دونوں پر کی جاتی ہیں۔رپورٹ کے مطابق انٹرنیٹ بینکاری میں بھی مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا جہاں ڈیجیٹل چینلز کے ذریعے ٹرانزیکشن کرنے والے صارفین کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔

کارڈز کے صارفین کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا، چنانچہ زیرِ گردش پیمنٹ کارڈ کی تعداد 61.3 ملین تک پہنچ گئی جن میں سے 90 فیصد ڈیبٹ کارڈ جبکہ 4 فیصد کریڈٹ کارڈ ہیں۔’’راست‘‘ فوری ادائیگی کے نظام نے اپنی نمو کی مستحکم رفتار برقرار رکھی۔ دورانِ سہ ماہی فرد سے فرد (پی 2 پی) ٹرانزیکشن کی تعداد بڑھ کر 535 ملین ہو گئی (31 فیصد اضافہ) جن کی مالیت 11.3 ٹریلین روپے رہی۔ دوسری جانب ’’راست‘‘ کی فرد سے مرچنٹ (پی 2 ایم) ٹرانزیکشن دگنی ہو کر 4.3 ملین تک پہنچ گئیں جن کی مجموعی مالیت 17.0 ارب روپے رہی۔’’راست‘‘ کے ذریعے مجموعی طور پر 544 ملین ٹرانزیکشن انجام پائیں جن کی مالیت 12.8 ٹریلین روپے تھی۔

پی او ایس ٹرمینلز اور ای کامرس کی سرگرمیوں میں مسلسل اضافہ ہوا، کارڈز کے ذریعے یومیہ 1.5 ملین ٹرانزیکشن درج کی گئیں۔ ملک بھر میں 20,527 اے ٹی ایم کے نیٹ ورک سے 267 ملین ٹرانزیکشن انجام پائیں ، جن کی مالیت 4.5 ٹریلین روپے رہی۔ اوسطاً ہر اے ٹی ایم سے یومیہ 142 ٹرانزیکشن ہوئیں، فی ٹرانزیکشن اوسط مالیت 16,800 روپے رہی۔ اے ٹی ایم اور دیگر ڈیجیٹل چینلز کے علاوہ فزیکل ٹچ پوائنٹس پر بھی خردہ ادائیگیوں کی معاونت جاری رہی۔

19,852 بینک برانچوں اور 756,480 برانچ لیس بینکاری ایجنٹوں نے نقد ڈیپازٹس، رقوم نکلوانے اور منتقلی، اور بل ادائیگیوں جیسی اووردی کاؤنٹر خدمات فراہم کیں۔ بینک برانچوں نے 137 ملین ٹرانزیکشن پراسس کیں، جن کی مجموعی مالیت 110 ٹریلین روپے تھی، جبکہ برانچ لیس بینکاری ایجنٹوں نے 129 ملین ٹرانزیکشن میں سہولت فراہم کی، جن کی مجموعی مالیت 0.9 ٹریلین روپے رہی۔ترجمان سٹیٹ بنک کے مطابق بحیثیتِ مجموعی یہ امر پاکستان میں زیادہ موثر، شمولیتی، اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کے ایکو سسٹم کی جانب مسلسل پیش رفت کا عکاس ہے۔