زرعی خوشحالی کےلئے ضروری ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں اور حکومت مل بیٹھ کر پالیسی بنائیں ،خالد محمود کھوکھر

ملتان۔ 02 نومبر (اے پی پی):کسان اتحاد کے مرکزی چیئرمین خالد محمود کھوکھر نے کہا کہ ملک میں کاشتکاروں اور زراعت کی خوشحالی کےلئے صوبائی حکومتوں سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو مل بیٹھ کر پالیسی بنانا ہو گی۔ملتان پریس کلب میں دیگر کسان رہنماؤں کے ہمراہ نیوز کانفرنس کرتے ہوئے خالد کھوکھر کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں زراعت سبسڈی پر ہے لیکن پاکستان ایک زرعی ملک ہونے کے …

ملتان۔ 02 نومبر (اے پی پی):کسان اتحاد کے مرکزی چیئرمین خالد محمود کھوکھر نے کہا کہ ملک میں کاشتکاروں اور زراعت کی خوشحالی کےلئے صوبائی حکومتوں سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو مل بیٹھ کر پالیسی بنانا ہو گی۔ملتان پریس کلب میں دیگر کسان رہنماؤں کے ہمراہ نیوز کانفرنس کرتے ہوئے خالد کھوکھر کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں زراعت سبسڈی پر ہے لیکن پاکستان ایک زرعی ملک ہونے کے باوجود یہاں کاشتکاروں پر ٹیکس کا بوجھ ہے۔جس کی وجہ سے کسان بے حد پریشان ہے۔انہوں نے کہا کہ جب کاشتکار کو اس کی پیداواری لاگت سے بھی کم معاوضہ ملے گا تو فصلوں کی پیداوار میں کمی واقع ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ یہ المیہ ہے کہ ہم چینی،دالیں ،چاول و دیگر چیزیں اب بھی امپورٹ کرتے ہیں جب تک مل بیٹھ کر کاشتکاروں کے تحفظات کو دور نہیں کیا جاتا تب تک کاشتکار گندم ،کپاس اور دیگر فصلوں کو اگانے میں ہچکچائے گا۔خالد کھوکھر نے ہائی کورٹ لاہور کے گندم کو ڈی ریگولیٹ کرنے کے فیصلے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ زراعت کی ترقی کےلئے ایک مثبت پیش رفت ہے۔اس فیصلے کے نفاذ سے کاشتکاروں کی مایوسی دور ہو گی۔

اگر حکومت اس فیصلے کے ریویو میں گئی تو کسان اتحاد بھی جائے گا۔انہوں نے کہا کہ گندم کی قیمت کے تعین کےلئے اسے مارکیٹ فورسز پر چھوڑ دیا جائے۔اسی سے ہی مسائل کا خاتمہ ممکن ہے۔کاشتکاروں کو اعتماد میں لے کر ہی فیصلے کئے جائیں تو گندم اور کپاس کی کاشت میں اضافہ ہو گا۔کسانوں کو ٹیکسوں کے بوجھ سے نجات چاہئے۔انہوں نے کہا کہ گندم کی فصل ہمارے لئے اہم ہے ۔کسانوں کو مناسب منافع ملنے سے گندم اور آٹے کا بحران نہیں ہو گا۔