زرعی شعبے کی ترقی حکومت کی اولین ترجیح ہے، حکومت کسانوں کی سہولت کاری کے لیے ہر ممکنہ اقدامات اٹھائے گی، وزیر اعظم عمران خان کا کسان اتحاد کے وفد سے ملاقات میں اظہار

اسلام آباد ۔ 26 جون (اے پی پی)وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ زرعی شعبے کی ترقی حکومت کی اولین ترجیح ہے لہذا حکومت کسانوں کی سہولت کاری کے لیے ہر ممکنہ اقدامات اٹھائے گی، کورونا کی وبا کی وجہ سے مشکل معاشی صورتحال کے باوجود حکومت نے زرعی شعبے کی ترقی کے لیے پچاس ارب کا پیکیج دیا ہے،اس بات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو کسان …

اسلام آباد ۔ 26 جون (اے پی پی)وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ زرعی شعبے کی ترقی حکومت کی اولین ترجیح ہے لہذا حکومت کسانوں کی سہولت کاری کے لیے ہر ممکنہ اقدامات اٹھائے گی، کورونا کی وبا کی وجہ سے مشکل معاشی صورتحال کے باوجود حکومت نے زرعی شعبے کی ترقی کے لیے پچاس ارب کا پیکیج دیا ہے،اس بات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو کسان اتحاد کے وفد سے یہاں ملاقات میں کیا ہے۔ کسان اتحاد کے وفد میں صدر کسان اتحاد خالد محمود کھوکھر، سیکرٹری جنرل چوہدری احسان اکرم اور صوبائی صدر رضوان اقبال شامل تھے۔ وفاقی وزیر برائے نیشنل فوڈ سیکیورٹی سید فخرامام ، چیئرپرسن خصوصی کمیٹی برائے زرعی پیداوار شاندانہ گلزار بھی ملاقات میں موجود تھیں۔ وفد نے زرعی شعبے کی ترقی کے لیے وزیر اعظم کی گہری دلچسپی اور اقدامات کو سراہا اور وزیر اعظم کو کسانوں کو درپیش مسائل سے بھی آگاہ کیا۔ ٹیوب ویلوں کے حوالے سے بجلی کے نرخ، فرٹیلائزر کی مناسب قیمت پر فراہمی، معیاری بیج کی دستیابی، کراپ انشورنس و دیگر اہم معاملات پر تفصیلی گفتگو کی۔ اس موقع پر وزیر اعظم نے وفد سے بات چیت کے دوران اس عزم کا اعادہ کیا کہ زرعی شعبے کی ترقی حکومت کی اولین ترجیح ہے لہذا حکومت کسانوں کی سہولت کاری کے لیے ہر ممکنہ اقدامات اٹھائے گی۔ انہوں نے کہا کہ کورونا کی وجہ سے مشکل معاشی صورتحال کے باوجود حکومت نے زرعی شعبے کی ترقی کے لیے پچاس ارب کا پیکیج دیا ہے۔ وزیر اعظم نے اپنے وزراءکو ہدایت کی کہ زرعی ٹیوب ویلوں پر بجلی کے نرخوں کے حوالے سے مطالبے پر غور کیا جائے ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ زرعی شعبے میں پیداوار میں اضافے اور جدید ٹیکنالوجی متعارف کرانے کے لیے دوست ملک چین سے اشتراک کیا جارہا ہے۔ وزیر اعظم نے وزیر برائے نیشنل فوڈ سیکیورٹی کو ہدایت کی کہ کسانوں کو درپیش مسائل کے حوالے سے صوبائی حکومتوں کی مشاورت سے ترجیحی بنیادوں پر لائحہ عمل تشکیل دیا جائے۔

مزید خبریں