سابقہ مقدمہ بغیر اجازت واپس لینے پر نیا دعویٰ ناقابلِ سماعت ہے،سپریم کورٹ

اسلام آباد۔ 17 جنوری (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار دیا ہے کہ اگر کوئی فریق ایک ہی سببِ دعویٰ پر دائر کیا گیا مقدمہ عدالت کی اجازت کے بغیر واپس لے لے تو وہ بعد ازاں اسی معاملے پر نیا مقدمہ دائر کرنے کا مجاز نہیں رہتا۔یہ فیصلہ جسٹس شاہد بلال حسن اور جسٹس شکیل احمد پر مشتمل دو رکنی بینچ نے سول پٹیشن فار لیو ٹو …

اسلام آباد۔ 17 جنوری (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار دیا ہے کہ اگر کوئی فریق ایک ہی سببِ دعویٰ پر دائر کیا گیا مقدمہ عدالت کی اجازت کے بغیر واپس لے لے تو وہ بعد ازاں اسی معاملے پر نیا مقدمہ دائر کرنے کا مجاز نہیں رہتا۔یہ فیصلہ جسٹس شاہد بلال حسن اور جسٹس شکیل احمد پر مشتمل دو رکنی بینچ نے سول پٹیشن فار لیو ٹو اپیل نمبر 5071/2025 کی سماعت کے بعد جاری کیا۔ کیس پشاور ہائی کورٹ کے 7 اکتوبر 2025 کے فیصلے کے خلاف دائر کیا گیا تھا۔

سپریم کورٹ کی جانب سے رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلہ کے مطابق درخواست گزاروں کے والد نے کوہاٹ میں واقع ایک دکان کے حوالے سے اعلانِ حق، دائمی حکمِ امتناع اور متبادل طور پر قبضے کے لیے دعویٰ دائر کیا تھا، جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ وہ دکان کے اصل لیز ہولڈر تھے اور ان کے حق میں لیز غیر قانونی طور پر ختم کر کے مدعا علیہ کے نام منتقل کی گئی۔

ٹرائل کورٹ اور اپیلیٹ کورٹ نے درخواست گزاروں کے حق میں فیصلہ دیا تاہم پشاور ہائی کورٹ نے نظرثانی میں یہ فیصلے کالعدم قرار دیتے ہوئے دعویٰ خارج کر دیا۔سپریم کورٹ نے ریکارڈ کا جائزہ لیتے ہوئے نشاندہی کی کہ درخواست گزاروں کے والد اس سے قبل اسی لیز ڈیڈ کے خلاف ایک اور مقدمہ دائر کر چکے تھےجسے 30 مئی 2009 کو بغیر کسی شرط اور عدالت کی اجازت کے واپس لے لیا گیا تھا۔

عدالت نے واضح کیا کہ اس نوعیت کی غیر مشروط واپسی آرڈر XXIII رول 1 سی پی سی کے تحت آئندہ اسی سببِ دعویٰ پر نیا مقدمہ دائر کرنے پر قانونی پابندی عائد کرتی ہے۔عدالت نے درخواست گزاروں کا یہ مؤقف بھی مسترد کر دیا کہ سابقہ مقدمہ فریقین کے مابین نجی سمجھوتے کی بنیاد پر واپس لیا گیا تھا، کیونکہ نہ تو سمجھوتے کی کوئی تفصیل عدالت کے سامنے پیش کی گئی اور نہ ہی اسے عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنایا گیا۔

عدالت کے مطابق ایسے نجی انتظامات جنہیں عدالتی توثیق حاصل نہ ہو، قانونی اثر نہیں رکھتے۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں متعدد سابقہ عدالتی نظائر کا حوالہ دیتے ہوئے قرار دیا کہ بغیر اجازت مقدمہ واپس لینا دعویٰ سے دستبرداری کے مترادف ہے اور اس کے بعد نیا مقدمہ نہ صرف ناقابلِ سماعت ہوتا ہے بلکہ قانونِ تحدیدِ مدت کے تحت بھی متاثر ہو سکتا ہے۔عدالت نے پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے سول پٹیشن فار لیو ٹو اپیل مسترد کر دی۔