سال 2025 پاکستان سٹاک مارکیٹ کے لیے تاریخی سال، کے ایس ای 100 انڈیکس میں 58 ہزار 927 پوائنٹس کا غیر معمولی اضافہ

اسلام آباد۔1جنوری (اے پی پی):سال 2025 پاکستان کی سرمایہ منڈی کے لیے ایک یادگار اور تاریخی سال ثابت ہوا، جہاں پاکستان سٹاک ایکسچینج میں کاروبار مجموعی طور پر زبردست تیزی کے رجحان کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔ سرمایہ کاروں کے اعتماد میں نمایاں بہتری، معاشی استحکام اور پالیسی سطح پر مثبت پیش رفت کے باعث سٹاک مارکیٹ نے نئی تاریخ رقم کی۔اعداد و شمار کے مطابق سال 2025 کے دوران …

اسلام آباد۔1جنوری (اے پی پی):سال 2025 پاکستان کی سرمایہ منڈی کے لیے ایک یادگار اور تاریخی سال ثابت ہوا، جہاں پاکستان سٹاک ایکسچینج میں کاروبار مجموعی طور پر زبردست تیزی کے رجحان کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔ سرمایہ کاروں کے اعتماد میں نمایاں بہتری، معاشی استحکام اور پالیسی سطح پر مثبت پیش رفت کے باعث سٹاک مارکیٹ نے نئی تاریخ رقم کی۔اعداد و شمار کے مطابق سال 2025 کے دوران پاکستان سٹاک ایکسچینج کے بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس میں مجموعی طور پر 58 ہزار 927 پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

تاہم، سال کے آخری کاروباری دن انڈیکس میں 418 پوائنٹس کی معمولی کمی دیکھی گئی، جس کے بعد انڈیکس ایک لاکھ 74 ہزار 54 پوائنٹس پر بند ہوا۔پورے سال کے دوران کے ایس ای 100 انڈیکس 73 ہزار 633 پوائنٹس کے وسیع بینڈ میں اتار چڑھاؤ کا شکار رہا، جو مارکیٹ میں سرگرمی اور سرمایہ کاروں کی دلچسپی کو واضح طور پر ظاہر کرتا ہے۔ سال کے اختتام پر 2025 کے آخری کاروباری روز انڈیکس نے اپنی بلند ترین سطح ایک لاکھ 75 ہزار 232 پوائنٹس کو چھوا، جو پاکستان کی اسٹاک مارکیٹ کی تاریخ کی ایک اہم سنگ میل قرار دی جا رہی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں کے ایس ای 100 انڈیکس کی کم ترین سطح ایک لاکھ ایک ہزار 598 پوائنٹس رہی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پورے سال کے دوران مارکیٹ مجموعی طور پر مضبوط بنیادوں پر قائم رہی اور بڑے کریش سے محفوظ رہی۔کاروباری حجم کے لحاظ سے بھی سال 2025 غیر معمولی رہا۔ سال بھر میں اسٹاک مارکیٹ میں 199 ارب شیئرز کے سودے ہوئے، جن کی مجموعی مالیت 9 ہزار 185 ارب روپے رہی۔ ماہرین کے مطابق اس بھاری کاروباری حجم نے مارکیٹ میں لیکویڈیٹی اور سرمایہ کاروں کے بڑھتے ہوئے اعتماد کو مزید مضبوط کیا۔اسی طرح، پاکستان سٹاک مارکیٹ کی مارکیٹ کیپٹلائزیشن میں 5 ہزار 993 ارب روپے کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد مجموعی مارکیٹ کیپٹلائزیشن بڑھ کر 19 ہزار 679 ارب روپے تک پہنچ گئی، جو ملکی معیشت میں سرمایہ کاری کے فروغ کی واضح علامت ہے۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ 2025 میں سٹاک مارکیٹ کی شاندار کارکردگی کے پیچھے حکومت کی معاشی اصلاحات، مالیاتی نظم و ضبط، افراطِ زر میں بتدریج کمی، شرح سود میں ممکنہ نرمی کی توقعات، اور آئی ایم ایف پروگرام کے تحت اعتماد کی بحالی جیسے عوامل شامل رہے۔ اس کے علاوہ بینکنگ، توانائی، سیمنٹ اور آئل اینڈ گیس کے شعبوں میں سرمایہ کاری نے بھی مارکیٹ کو سہارا دیا۔ماہرین کے مطابق اگر معاشی استحکام اور پالیسی تسلسل برقرار رہا تو آئندہ سال بھی پاکستان سٹاک مارکیٹ میں مثبت رجحان برقرار رہنے کی توقع کی جا رہی ہے، تاہم عالمی معاشی حالات اور اندرونی سیاسی صورتحال مارکیٹ کے لیے اہم عوامل رہیں گے۔