راولپنڈی۔ 31 دسمبر (اے پی پی):صدر راولپنڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری عثمان شوکت نے کہا ہے کہ معاشی لحاظ سے سال 2025 اہم سال تھا ،جس میں پاکستان کی معیشت نے اہم سنگ میل عبور کیے، میکرو اکنامک استحکام کے ساتھ ساتھ معاشی اعتماد میں اضافہ ہوا ، تازہ معاشی اعداد و شمار حوصلہ افزا ہیں، جن کے مطابق مالی سال 2026 کے پہلے چھ ماہ میں جی ڈی …
سال 2025 کا جائزہ: پاکستان میں معاشی اعتماد بحال ہوا، اب مائیکرو اکنامک استحکام کی جانب بڑھنا ہو گا، صدر راولپنڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری عثمان شوکت

مزید خبریں
راولپنڈی۔ 31 دسمبر (اے پی پی):صدر راولپنڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری عثمان شوکت نے کہا ہے کہ معاشی لحاظ سے سال 2025 اہم سال تھا ،جس میں پاکستان کی معیشت نے اہم سنگ میل عبور کیے، میکرو اکنامک استحکام کے ساتھ ساتھ معاشی اعتماد میں اضافہ ہوا ، تازہ معاشی اعداد و شمار حوصلہ افزا ہیں، جن کے مطابق مالی سال 2026 کے پہلے چھ ماہ میں جی ڈی پی کی شرح نمو 3.71 فیصد رہی، جو کہ 2025 میں شروع ہونے والی بحالی کے تسلسل کا واضح ثبوت ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستان ٹی وی گلوبل کے حالاتِ حاضرہ کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔
پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے صدر آر سی سی آئی نے کہا کہ میکرو اکنامک استحکام، مائیکرو اکنامک بہتری کے لیے بنیادی شرط ہے اور حالیہ اعداد و شمار سے یہ واضح ہو رہا ہے کہ حکومتی استحکامی اقدامات کے مثبت اثرات نچلی سطح تک منتقل ہونا شروع ہو چکے ہیں خصوصاً صنعتی شعبے کی قیادت میں ترقی نمایاں ہو رہی ہے۔ عثمان شوکت نے اہم معاشی اشاریوں کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ سال 2025 میں جی ڈی پی نمو 2.7 فیصد رہی جبکہ اپریل 2025 میں افراطِ زر 0.3 فیصد کی تاریخی کم ترین سطح تک آیا۔ اسی طرح مالی سال 2025 میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ سرپلس میں تبدیل ہونا ملکی معیشت کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ زرِ مبادلہ کے ذخائر 21 ارب ڈالر تک پہنچنا کئی برسوں بعد ایک مضبوط سطح ہے، جس سے عالمی اعتماد میں اضافہ ہوا ہے۔ صدر آر سی سی آئی نے کہا کہ مضبوط میکرو اکنامک بنیادوں کے نتیجے میں کارپوریٹ آمدن میں نمایاں بہتری آئی ہے جبکہ پاکستان سٹاک ایکسچینج 174,000 پوائنٹس کی حد عبور کر کے ایشیا کی بہترین کارکردگی دکھانے والی منڈیوں میں شامل ہو چکی ہے، جو سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی کا مظہر ہے۔
انہوں نے طویل عرصے سے زیرِ التواء نجکاری کے عمل میں پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے پی آئی اے کی نجکاری کو ساختی اصلاحات کی جانب ایک مثبت قدم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت مالیاتی نظم و ضبط سخت رہا، تاہم ان حالات میں بھی معاشی نمو کا حصول اس بات کا ثبوت ہے کہ معیشت پر اعتماد بحال ہو چکا ہے۔








