سرمایہ کاری اور جدید زرعی طریقے اپنا کر خوراک کی پیداوار میں کئی گنا اضافہ کیا جاسکتا ہے، شاہد عمران

لاہور۔6اکتوبر (اے پی پی):مناسب سرمایہ کاری، تکنیکی ترقی اور جدید زرعی طریقے اپنا کر پاکستان اپنی خوراک کی پیداوار میں کئی گنا اضافہ اور اضافی پیداوار بین الاقوامی منڈیوں کو برآمد کر سکتا ہے۔ یہ بات معروف فوڈ ایکسپورٹر اور فیملی فوڈ پراڈکٹس کے مینیجنگ ڈائریکٹر شاہد عمران نے فوڈ پروڈیوسرز کے ایک وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے متنوع زرعی منظرنامے اور فصلوں …

لاہور۔6اکتوبر (اے پی پی):مناسب سرمایہ کاری، تکنیکی ترقی اور جدید زرعی طریقے اپنا کر پاکستان اپنی خوراک کی پیداوار میں کئی گنا اضافہ اور اضافی پیداوار بین الاقوامی منڈیوں کو برآمد کر سکتا ہے۔ یہ بات معروف فوڈ ایکسپورٹر اور فیملی فوڈ پراڈکٹس کے مینیجنگ ڈائریکٹر شاہد عمران نے فوڈ پروڈیوسرز کے ایک وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے متنوع زرعی منظرنامے اور فصلوں کی کاشت کے لیے سازگار آب و ہوا کے پیش نظر عالمی فوڈ ایکسپورٹ مارکیٹ کا اہم رکن بننے کی بے پناہ صلاحیت ہے، پاکستان پہلے ہی گندم، چاول، گنا، پھل اور سبزیاں پیدا کرنے والے دنیا کے بڑے ممالک میں سے ایک ہے لیکن برآمدات کے لحاظ سے یہ شعبہ بہت پیچھے ہے۔

انہوں نے کہا کہ ویلیو ایڈڈ فوڈ پراڈکٹس، پراسیسڈ اور پیکجڈ فوڈ بشمول نمکو ہماری برآمدی آمدنی میں مزید اضافہ کر سکتے ہیں، کولڈ سٹوریج کی سہولیات کو وسعت اور نقل و حمل کے نیٹ ورک کو بہتر بنا کر فصل کی کٹائی کے بعد ہونے والے نقصانات کو کم اور برآمدی مال کے حجم میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سپلائی چین کے بنیادی ڈھانچے میں بہتری لاتے ہوئے کوالٹی کنٹرول کو معیاری بنا کر اور بین الاقوامی معیارات کی تعمیل پر توجہ دے کر پاکستان مشرق وسطی، یورپ اور دیگر منافع بخش غیر ملکی منڈیوں میں جگہ بنا سکتا ہے، ان خطوں کے ساتھ پاکستان کی جغرافیائی قربت جلد خراب ہونے والی اشیا کی نقل و حرکت کے لیے لاجسٹک فوائد فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نمکو کے لیے اٹلی کا انتہائی جدید مکمل خودکار پلانٹ آئندہ سال اگست تک ملتان میں نصب کرکے کام شروع کر دیا جائے گا۔

مزید خبریں