پنجاب میں تعلیمی اور سائنسی میدان میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں سرکاری سکول کے طلبہ نے وزیرِ تعلیم رانا سکندر حیات کی سرپرستی میں "سی ایم مریم نواز سہارا روبوٹ” تیار کر لیا ہے۔
سرکاری سکول کے طلبہ کا بڑا کارنامہ، فالج زدہ اور خصوصی افراد کے لئے مصنوعی ذہانت پر مبنی "سی ایم مریم نواز سہارا روبوٹ” تیار

مزید خبریں
راولپنڈی۔6جولائی (اے پی پی):پنجاب میں تعلیمی اور سائنسی میدان میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں سرکاری سکول کے طلبہ نے وزیرِ تعلیم رانا سکندر حیات کی سرپرستی میں "سی ایم مریم نواز سہارا روبوٹ” تیار کر لیا ہے۔ یہ جدید معاون روبوٹ فالج زدہ اور خصوصی افراد کی مدد کے لئے تیار کیا گیا ہے اور جدید ٹیکنالوجی کو انسانی خدمت کے مقصد سے جوڑنے کی ایک نمایاں مثال قرار دیا جا رہا ہے۔اس جدید روبوٹ کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ یہ جسمانی معذوری یا فالج کے باعث مشکلات کا شکار افراد کے لئے آسانیاں پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ روبوٹ آنکھوں کی حرکات کو سمجھتے ہوئے رابطہ قائم کر سکتا ہے، جس کے ذریعے ایسے افراد جو بولنے یا حرکت کرنے میں دشواری محسوس کرتے ہیں، اپنی ضروریات اور خواہشات کا اظہار نسبتاً آسان انداز میں کر سکیں گے۔
اس کے علاوہ یہ روبوٹ معالجین کی ہدایات کے مطابق مریضوں تک ادویات اور خوراک پہنچانے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ طبی مراکز، بحالی کے اداروں اور گھریلو نگہداشت کے نظام میں یہ سہولت خصوصی اہمیت کی حامل ثابت ہو سکتی ہے۔ یہ روبوٹ نرسنگ عملے کی معاونت کرتے ہوئے مریضوں کی بنیادی ضروریات پوری کرنے میں بھی مدد فراہم کرتا ہے، جس سے طبی عملے کے کام کا بوجھ کم ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔تعلیمی ماہرین کے مطابق یہ منصوبہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پاکستان کے نوجوان صرف روایتی تعلیم تک محدود نہیں بلکہ مصنوعی ذہانت، روبوٹ سازی اور جدید سائنسی علوم کے میدان میں بھی اپنی صلاحیتوں کا بھرپور اظہار کر رہے ہیں۔ یہ پیش رفت نوجوان نسل میں تخلیقی سوچ، تحقیق اور اختراع کے فروغ کی ایک مثبت مثال بھی سمجھی جا رہی ہے۔
اس منصوبے کے تصور، جدت اور عملی نفاذ کی قیادت محترمہ مریم فاطمہ نے کی، جو پاکستان کی ممتاز سٹیم تجربہ گاہ برائے اختراع و روبوٹ سازی کی ماہر کے طور پر جانی جاتی ہیں۔ ان کی رہنمائی میں طلبہ نے جدید تقاضوں کے مطابق ایک ایسا ماڈل تیار کیا ہے جو مستقبل میں صحت کے شعبے میں مؤثر کردار ادا کر سکتا ہے۔ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت اور روبوٹ سازی کا استعمال دنیا بھر میں تیزی سے فروغ پا رہا ہے اور ایسے منصوبے پاکستان کے لئے نہ صرف سائنسی اور تکنیکی ترقی کے نئے دروازے کھول سکتے ہیں بلکہ خصوصی افراد کی زندگیوں میں آسانیاں پیدا کرنے میں بھی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔یہ منصوبہ تعلیم، جدید سائنس اور انسانی خدمت کے امتزاج کی ایک بہترین مثال ہے، جو یہ پیغام دیتا ہے کہ اگر نوجوانوں کو مناسب مواقع، رہنمائی اور جدید وسائل فراہم کیے جائیں تو وہ عالمی معیار کی اختراعات پیش کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔








