سعودی عرب، ریاض میں کھدائی سے ابتدائی اسلامی دور کی کان کنی اور تجارت کے آثار قدیمہ برآمد

ریاض ریجن کی الدوادمی کمشنری میں واقع آثارِ قدیمہ کے مقام حلیت پر کی جانے والی کھدائی کے دوران عمارتوں کے آثار کے علاوہ متعدد اہم نوادرات اور دیگر قدیم اشیا ءبھی دریافت ہوئی ہیں۔

ریاض۔15جولائی (اے پی پی):ریاض ریجن کی الدوادمی کمشنری میں واقع آثارِ قدیمہ کے مقام حلیت پر کی جانے والی کھدائی کے دوران عمارتوں کے آثار کے علاوہ متعدد اہم نوادرات اور دیگر قدیم اشیا ءبھی دریافت ہوئی ہیں۔

اردو نیو ز کے مطابق اس دریافت سے اسلام کے ابتدائی دور میں کان کنی اور تجارت کی تاریخ کے پہلوؤں کا پتہ چلتا ہے۔سعودی ہیریٹیج کمیشن نے کہا ہے کہ الدوادمی کمشنری کے شمال مغربی سمت 110 کلومیٹر دوری پر واقع آثار قدیمہ کے مقام حلیت میں کھدائی کے چوتھے سیزن کے دوران پرانی طرز کی بستی کے آثار دریافت ہوئے جو تقریباً 18 رہائشی یونٹس پر مشتمل ہے۔ اس میں مسجد، بازار اور ورکشاپس کے ساتھ ایک مکمل گاؤں کے کچھ حصوں کے آثار موجود ہیں،اس کے علاوہ وزن کرنے کا بٹہ جس پر ’’الجزم‘‘ رسم الخط میں ’’رطل‘‘ کا لفظ لکھا ہے (رطل وزن کا پیمانہ ہے۔ ایک رطل 453 گرام کے مساوی ہوتا ہے) شامل ہے۔ اس پیمانے کے بارے میں گمان ہے کہ یہ پہلی یا دوسری صدی ہجری کے دور کا ہے۔دریافت ہونے والی اشیا ءمیں زیبائش و آرائش کے لیے استعمال ہونے والے دھاتی کڑے اور مختلف اشکال و رنگوں کی موتیاں شامل ہیں۔اس کے علاوہ مٹی کے مختلف اقسام کے برتن، شیشے کی بوتلوں کے ٹکڑے، چکی اور دیگر پتھر سے بنے اوزار بھی برآمد ہوئے ہیں۔ہیریٹیج کمیشن کا کہنا ہے کہ مملکت کے دیگر علاقوں میں آثار قدیمہ کی تلاش اور دریافت کا کام جاری ہے۔ دریافت ہونے والی اشیاء کو بہتر انداز میں محفوظ بنانے کے لیے بہترین میکانزم تیار کیا گیا ہے جس کا مقصد قومی ثقافتی ورثے کی پائیداری کو بڑھانا ہے۔