سعودی عرب کے عسیر ریجن کا شمار شہد فارمنگ کے حوالے سے مثالی علاقوں میں کیا جاتا ہے، یہاں کی معتدل آب و ہوا اور انواع و اقسام کی نباتات کی فراوانی کی کثرت کے باعث زمانۂ قدیم سے ہی یہ علاقہ شہد فارمنگ کا اہم مرکز رہا ہے
سعودی عرب کا عسیر ریجن ہنی فارمنگ کا مرکز، درختوں کے کھوکھلے تنوں میں شہد تیار کیا جاتا ہے

مزید خبریں
ریاض ۔3جولائی (اے پی پی):سعودی عرب کے عسیر ریجن کا شمار شہد فارمنگ کے حوالے سے مثالی علاقوں میں کیا جاتا ہے، یہاں کی معتدل آب و ہوا اور انواع و اقسام کی نباتات کی فراوانی کی کثرت کے باعث زمانۂ قدیم سے ہی یہ علاقہ شہد فارمنگ کا اہم مرکز رہا ہے۔ایس پی اے کے مطابق اس علاقے میں قدیم درختوں کے سوکھے تنوں کو شہد کی مکھیوں کی پرورش کے لیے استعمال کیا جاتا تھا، ان تنوں کے اندر انتہائی مہارت سے قدرتی چھتے تیار کیے جاتے تھے، یہ منفرد ڈیزائن مقامی افراد کی مہارت اور روایتی ورثے کی عمدہ مثال ہے۔پرانے وقتوں میں درختوں کے کھوکھلے تنوں کا استعمال کرتے ہوئے انہیں شہد فارمنگ کے لیے استعمال کرنے کا رواج عام تھا، اس مقصد کے لیے ایسے درخت منتخب کیے جاتے تھے جو قدرتی طور پر سوکھ چکے اور جنہیں پرندے بھی چھوڑ چکے ہوتے تھے ، ان کھوکھلے تنوں کو معمولی تبدیلیوں کے ساتھ شہد کی مکھیوں کے لیے قدرتی چھتوں میں تبدیل کر دیا جاتا تھا جہاں انہیں اپنی افزائش اور شہد کی تیاری کے لیے ایک محفوظ اور قدرتی رہائشی ماحول میسر آتا تھا۔درختوں کے تنوں کی موٹی دیوار قدرتی طور پر حرارت اور نمی کو متوازن رکھنے میں معاون ثابت ہوتیں جبکہ فارمر دراڑوں اور سوراخوں کو بند کرنے کے لیے موم اور تارکول استعمال کرتے تھے جس سے یہ چھتے کئی دہائیوں تک محفوظ رہتے اور نسل در نسل منتقل ہوتے رہے۔ان قدرتی چھتوں کی تیاری میں مقامی درختوں، خصوصاً بیری، املی اور الطلح کی لکڑی استعمال کی جاتی تھی کیونکہ یہ مضبوط، دیرپا اور سخت موسمی حالات کا مقابلہ کرنے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتی ہے۔درختوں کے تنے شہد کی مکھیوں کے لیے قدرتی ماحول فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ چھتے کے اندر درجہ حرارت اور نمی کو بھی متوازن رکھتے ہیں۔شہد فارمنگ سے منسلک حسن الجائزی نے بتایا کہ عسیر ریجن کا قدرتی ماحول اعلیٰ معیار کے مختلف اقسام کے شہد کی پیداوار کے لیے انتہائی موزوں ہے جن میں سدر، سمر، طلح، الضہیان، الشوکہ اور المجری نمایاں ہیں، ان کا ذائقہ اور رنگ و خصوصیات پھولوں کے موسم اور رس کے اعتبار سے مختلف ہوتے ہیں۔ شہد فارمنگ سے منسلک ماہرین کا ماننا ہے کہ قدیم لکڑی کے تنوں میں بنے چھتوں میں تیار ہونے والا شہد زیادہ خالص اور معیاری ہوتا ہے کیونکہ شہد کی مکھیاں ان کے اندر فطری انداز میں مومی چھتے بناتی ہیں جس کا مثبت اثر شہد کی خصوصیات اور معیار پر مرتب ہوتا ہے۔حسن الجائزی نے کہا کہ حالیہ برسوں میں روایتی اور جدید ٹیکنالوجی کے اشتراک کا رجحان فروغ پا رہا ہے جس کے تحت روایتی لکڑی کے چھتوں کو برقرار رکھتے ہوئے ان کے اندر جدید فریم نصب کیے جاتے ہیں تاکہ مومی چھتوں کی ترتیب بہتر، معائنہ آسان اور شہد کشید کرنے کا عمل بھی موثر و محفوظ ہو۔ریجنل وزارت ماحولیات، پانی و زراعت کی رپورٹ کے مطابق مملکت کی سطح پر عسیر کا علاقہ آج بھی شہد کی پیداوار میں نمایاں مقام کا حامل ہے، مملکت کی مجموعی شہد کی پیداوار کا 20 فیصد عسیر ریجن سے حاصل ہوتا ہے۔علاقے میں پانچ ہزار سے زائد افراد شہد فارمنگ سے وابستہ ہیں، یہ شعبہ روایتی ورثے اور جدید طریقوں کے امتزاج کے ذریعے پائیدار زرعی ترقی اور وژن 2030 کے اہداف کے حصول میں اہم کردار ادا کررہا ہے۔







