سپین میں غیر قانونی تارکینِ وطن کو قانونی دائرے میں لانے کے لیے شروع کی گئی حالیہ عام معافی کی مہم کے دوران اب تک 6 لاکھ سے زائد افراد کو عارضی طور پر کام کرنے کے اجازت نامے (ورک پرمٹ) جاری کر دیے گئے ہیں
سپین ، غیر قانونی تارکینِ وطن کو قانونی دائرے میں لانے کی مہم ،6 لاکھ افراد کو کام کے عارضی اجازت نامے جاری

مزید خبریں
میڈرڈ۔3جولائی (اے پی پی):سپین میں غیر قانونی تارکینِ وطن کو قانونی دائرے میں لانے کے لیے شروع کی گئی حالیہ عام معافی کی مہم کے دوران اب تک 6 لاکھ سے زائد افراد کو عارضی طور پر کام کرنے کے اجازت نامے (ورک پرمٹ) جاری کر دیے گئے ہیں ، اس اقدام کا مقصد ان تارکینِ وطن کو دستاویزات کی جانچ پڑتال کے عمل کے دوران ہی باقاعدہ ملکی معیشت کا حصہ بنانا ہے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز نے سرکاری حکام کے حوالے سے بتایا کہ ملک میں قانونی حیثیت حاصل کرنے کے لیے کل 11 لاکھ 70 ہزار (1.17 ملین) تارکینِ وطن نے درخواستیں دیں جن میں سے 6 لاکھ 9 ہزار 737 افراد کو عارضی ورک پرمٹ جاری کیے جا چکے ہیں،یہ افراد اب درخواستوں پر حتمی فیصلہ آنے تک قانونی طور پر ملازمتیں حاصل کر سکتے ہیں۔ سپین حکومت کی اس خصوصی مہم کے تحت ایسے تمام غیر قانونی تارکینِ وطن کو ایک سال کے لیے قابلِ تجدید رہائشی اجازت نامہ دیا جا رہا ہے جو سال 2025 کے اختتام سے قبل کم از کم پانچ ماہ سے سپین میں مقیم ہوں اور ان کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہ ہو۔اس مہم کے لیے درخواستیں جمع کرانے کا سلسلہ رواں سال 16 اپریل سے شروع ہوا تھا جو 30 جون کو اختتام پذیر ہوا۔سپین کی سیکرٹری آف سٹیٹ برائے ہجرت پیلار کینسیلا اور سیکرٹری آف سٹیٹ برائے سوشل سکیورٹی بورخا سواریز نے پریس کانفرنس کے دوران مہم کے تفصیلی اعداد و شمار جاری کیے۔رپورٹ کے مطابق حکومت کا ابتدائی اندازہ تھا کہ لگ بھگ 5 لاکھ افراد درخواستیں دیں گے، تاہم موصول ہونے والی درخواستوں کی تعداد اس سے دگنی سے بھی زیادہ رہی۔درخواست گزاروں کی اکثریت لاطینی امریکی ممالک سے تعلق رکھتی ہے۔عارضی ورک پرمٹ حاصل کرنے والے 6 لاکھ سے زائد افراد میں سے قریباً 1 لاکھ 60 ہزار تارکینِ وطن 30 جون تک باقاعدہ ملازمتیں حاصل کرنے میں کامیاب بھی ہو چکے ہیں۔اب تک 11 ہزار افراد کی درخواستیں مکمل طور پر منظور کر کے انہیں ایک سال کا باقاعدہ رہائشی پرمٹ جاری کیا جا چکا ہے۔سپین کی حکومت تارکینِ وطن کو روزگار کی فراہمی کے لیے تعمیرات، سیاحت، ٹرانسپورٹ اور کیئر سیکٹر (دیکھ بھال کے شعبے) کی نجی کمپنیوں کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے تاکہ افرادی قوت کی کمی کو پورا کیا جا سکے۔اعداد و شمار کے مطابق درخواست دینے والے غیر قانونی تارکینِ وطن میں سے 81 فیصدکی عمریں 45 سال سے کم ہیں جبکہ درخواست گزاروں میں مردوں کا تناسب 57 فیصد ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق اس اقدام سے جہاں لاکھوں تارکینِ وطن کی زندگیوں میں استحکام آئے گا وہاں سپین کی معیشت اور ٹیکس ریونیو میں بھی خطیر اضافہ متوقع ہے۔







