سندھ نے رواں خریف میں 10 فیصد اضافی پانی استعمال کیا ،وفاقی وزیر آبی وسائل کا قومی اسمبلی میں جواب

وفاقی وزیر آبی وسائل معین وٹو نے کہا ہے کہ سندھ نے رواں خریف میں 10 فیصد اضافی پانی استعمال کیا ہے جبکہ پنجاب نے 17 فیصد کم پانی استعمال کیا ہے۔

اسلام آباد۔11جون (اے پی پی):وفاقی وزیر آبی وسائل معین وٹو نے کہا ہے کہ سندھ نے رواں خریف میں 10 فیصد اضافی پانی استعمال کیا ہے جبکہ پنجاب نے 17 فیصد کم پانی استعمال کیا ہے۔جمعرات کو قومی اسمبلی میں سید نوید قمر اور دیگر کے سندھ اور بلوچستان میں پانی کی شدید قلت کی وجہ سے زرعی پیداوار بری طرح متاثر ہونے اور شدید مشکلات کے باعث بننے والے ارسا کے یکطرفہ اقدامات سے متعلق توجہ دلائو نوٹس کے جواب میں وفاقی وزیر معین وٹو نے بتایا کہ ارسا کی طرف سے وضاحت کی گئی ہے کہ تمام صوبوں کو خریف میں دو مراحل میں پانی کی فراہمی کی جارہی ہے۔10 جون تک پہلا مرحلہ تھا اور 11 جون سے 30 ستمبر تک دوسرا مرحلہ ہے۔انہوں نے بتایا کہ 7 اپریل کو ارسا کی ایڈوائزری کمیٹی کا اجلاس ہوا اس میں جو فیصلہ کیاگیا ہے پہلے مرحلے میں اس کے مطابق پانی فراہم کیاگیا۔سندھ کو ایڈوائزری کمیٹی کے فیصلے سے 10 فیصد زائد پانی دیا گیا۔بلوچستان نے جتنا مانگا اسے اتنا پانی ملا ہے۔

نوید قمر کے سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ یکم اپریل سے سیزن شروع تھا،ایک لاکھ 40 ہزار کیوسک سندھ کو دیا جارہا ہے۔دوسرا مرحلہ جاری ہے اس میں بتدریج اضافہ کیا جارہاہے۔اس وقت 90 ہزار کیوسک پانی دیا جارہا ہے اس میں مزید اضافہ کیا جائے گا۔شازیہ مری نے سوال کیا کہ ٹیلی میٹری سسٹم لگا ہے؟اس کے جواب میں بتایا گیا کہ ٹیلی میٹرنگ کی تنصیب 2027 تک مکمل ہوجائے گی۔ارسا کے اعدادوشمار درست ہیں۔سندھ نے زیادہ پانی استعمال کیا ہے اور پنجاب نے اپنے حصے سے کم پانی استعمال کیاہے۔سپیکر نے کہا کہ تمام ممبران کو ایک ساتھ بٹھائیں۔سپیکر نے کہا کہ ارسا کی ٹیم کو بلائیں اور تمام ممبران کو بھی بلائیں اور ان کو بریفنگ دیں۔یہ اہم اجلاس ہے کیونکہ اعداد وشمار سے دونوں اطراف متفق نہیں ہورہی ہیں۔سپیکر نے کہا کہ اگر اعداد وشمار درست نہ ہوئے تو ارسا حکام کو بتائیں کہ اس سے پارلیمان کا استحقاق مجروح ہوگا۔ مزید ممبران بھی چاہیں تو شامل ہوسکتےہیں۔