اسلام آباد ۔ 13 دسمبر (اے پی پی) سپریم کورٹ نے نجی سکولوں کی فیسوں میں اضافہ سے متعلق کیس میں نجی سکول مالکان کو فیسوں میں 20 فیصد کمی کرنے اور گرمیوں کی چھٹیوں کی فیس کا 50فیصد والدین کو واپس کرنے یا ایڈجسٹ کرنے کا حکم جاری کردیا ہے اور کیس کی مزید سماعت ملتوی کرتے ہوئے کہاکہ ایف بی آر و ایف آئی اے مختلف21 نجی سکولوں …
سپریم کورٹ ، نجی سکول مالکان کو فیسوں میں 20 فیصد کمی کرنے اور گرمیوں کی چھٹیوں کی فیس کا 50فیصد والدین کو واپس کرنے یا ایڈجسٹ کرنے کا حکم

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 13 دسمبر (اے پی پی) سپریم کورٹ نے نجی سکولوں کی فیسوں میں اضافہ سے متعلق کیس میں نجی سکول مالکان کو فیسوں میں 20 فیصد کمی کرنے اور گرمیوں کی چھٹیوں کی فیس کا 50فیصد والدین کو واپس کرنے یا ایڈجسٹ کرنے کا حکم جاری کردیا ہے اور کیس کی مزید سماعت ملتوی کرتے ہوئے کہاکہ ایف بی آر و ایف آئی اے مختلف21 نجی سکولوں کے مالی معاملات کا ریکارڈ قبضہ میں لے کران کا سات سالہ ٹیکس ریکارڈ چیک کریں ،ضروری ہواتو عدالت ان کا آڈٹ بھی کروائے گی ، عدالت نے واضح کیاکہ پانچ ہزار سے زائد فیس وصول کرنے والے نجی اسکولزفیس میں بیس فیصد کمی کریں اور حتمی فیصلے تک نجی اسکولوں کو تعلیمی سال کے خاتمہ پر فیس میں پانچ فیصد اضافہ کی اجازت ہوگی پانچ فیصد سے زائد اضافہ کرنے کا فیصلہ ریگولیٹری اتھارٹی کرے گی نجی اسکول بند ہوں گے اور نہ کسی اسٹوڈنٹ کو بے دخل کیا جائے گا، ورنہ شکایت پر ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی، جمعرات کوچیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی ، تو نجی اسکولوں کے وکیل مخدوم علی خان ، ڈپٹی آڈیٹر جنرل اور چیئرمین ایف بی آر عدالت میں پیش ہوئے۔ اس موقع پرعدالت میں بیکن ہاﺅس اور لاہور گرائمر اسکولوں کے ڈائریکٹرز اور چیف ایگزیکٹیو کی تنخواہوں اور مالی مراعات کی رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا گیا کہ 2017ءمیں بیکن ہاﺅس کے ڈائریکٹرز اور چیف ایگزیکٹو کو 62 ملین جبکہ لاہور گرائمر اسکول کے تین دائریکٹرز اور چیف ایگزیکٹیو کو 512ملین روپے ادا کئے گئے ہیں۔ جس پرچیف جسٹس نے کہا کہ ایک ڈائریکٹر کی ماہانہ تنخواہ 83لاکھ روپے ہے کیا ان لوگوں نے یورینیم کے کان لگارکھے ہیں کہ ان کواتنی بھاری تنخواہیں دی جار ہی ہیں، ایک جانب مالکان کہتے ہیں کہ اسکول خسارے میں چل رہے ہیں لیکن وہاں کے ڈائریکٹر تنخواہیں 83لاکھ روپے لے رہے ہیں،اگران کے پانچ سال کے کھاتے کھولے جائیں تو پتہ چل جائے گا کہ گھروں میں ذاتی منعقد ہونے والی پارٹیوں کے اخراجات بھی اسکول کے کھاتوں سے ادا ہوتے ہیں سماعت کے دوران عدالت کو بتایا گیا کہ فیس میں کمی کے بارے کچھ مقدمات ہائی کورٹس میں زیر سماعت ہیں، جس پرچیف جسٹس نے واضح کیا کہ یہ عدالت ہائی کورٹس کے فیصلوں کی پابند نہیں، ہمیں دیکھناہے کہ فیسوں میں مناسب کمی کس طرح کی جائے گی، یہ فیصلہ عدالت خود کرے گی ، عدالت کے روبرو بیکن ہاﺅس کی وکیل عائشہ حامد نے پیش ہوکرموقف اپنایا کہ ہر سکول کی فیس اور سالانہ اضافہ مختلف ہے، پنجاب کے سابق وزیر تعلیم نے سالانہ 10فیصد اضافے کا قانون بنانے کی کوشش کی تھی تاہم رانا مشہود اسمبلی سے صرف 8فیصد کی منظوری لے سکے۔جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس سے لگتا ہے سابق وزیر تعلیم کا اپنا بھی کوئی اسکول ہو گا۔چیف جسٹس نے کہا کہ ایک ایک کمرے کے اسکول سے اتنا پیسہ بنایا گیاکہ اب اسکول مالکان صنعت کار بن گئے ہیں ، ایڈووکیٹ عائشہ حامد نے عدالت سے کہا کہ تمام اسکول فیسوں میں 8 فیصد کمی کرنے کیلئے تیار ہیں،چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ 8فیصد کمی تو اونٹ کے منہ میں زیرے والی بات ہے، اگرہم نے 20سال کا آڈٹ کرالیا تو پھر نتائج بہت مختلف ہوں گے ، سماعت کے دوران جسٹس اعجاز الاحسن کا کہنا تھا کہ اسکولوں نے اپنی آڈٹ رپورٹس میں غلط اعداد وشمار عدالت میں پیش کئے ہیں۔ بیکن ہاﺅس کے وکیل نے بتایا کہ بیکن ہاﺅس نے 764ملین ٹیکس دیا ہے، جس پر فاضل جج کاکہنا تھاکہ آپ نے بہت ٹیکس دیا ہوگا لیکن اس کا طالب علموںکو کوئی فائدہ نہیں، ان کوفائدہ تب ہو گا جب فیس کم ہو گی، 8فیصد ہر سال بڑھائی جائے تو چار سالوں میں 32فیصد فیس بڑھے گی۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ لوگ ایک اسکول سے اڑھائی سو سکولوں کے مالک بن گئے ہیں، والدین بحوں کوپڑھانے پر مجبور ہیں، ایک ایک اسکول سے کئی سو اسکول بن گئے۔ چیف جسٹس نے چیئرمین ایف بی آر کو ہدایت کی کہ ان اسکولوں کا گزشتہ سات سالوں کا ٹیکس ریکارڈ چیک کیاجائے۔جسٹس اعجاز الاحسن نے نجی اسکول کے وکیل سے کہا کہ آپ لوگ کہتے ہیں کہ نجی سکول سرکاری اسکولوں کی کمی پوری کر رہے ہیں، اصل میں آپ لوگوں نے اپنی اجارہ داری قائم کر رکھی ہے۔ سماعت کے دورا ن جب عدالت نے فیس میں بیس فیصد کی کمی کی تجویز دی تو لاہور گرائمر اسکول کے وکیل مخدوم علی خان نے اس تجویز سے اتفاق رائے پیدا کرنے کے لئے ڈیڑھ ہفتے کی مہلت دینے کی استدعا کی۔ عدالت نے استدعا مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اسکولوں کے اتفاق رائے کی ضرروت نہیں،ہم آرڈر جاری کردیتے ہیں۔بعدازاں عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعدعبوری حکم جاری کرتے ہوئے قرار دیا کہ 5 ہزار روپے سے زائد فیس وصول کرنے والے سکول اپنی فیسوں میں 20 فیصد تک کمی کریں گے، نجی اسکول سالانہ 5 فیصد سے زیادہ اضافہ نہیں کریں گے اور اگر اس سے زیادہ اضافہ کرنے کی ضرورت ہوگی، تو اس کیلئے ریگولیٹری باڈی سے منظوری لینا ہوگا اور وہ بھی 8 فیصد سے زیادہ اضافہ نہیں ہوگا نجی اسکول گرمیوں کی فیسوں کا 50 فیصد والدین کو ادا یا اس رقم کو اسکول کی فیس میں ایڈجسٹ کریں۔ عدالت نے ایف بی آر کو نجی اسکولز مالکان اور ڈائریکٹرز کے انکم ٹیکس گوشواروں کی چھان بین کرنے کا حکم جاری کرتے ہوئے مزید سماعت 26 دسمبر تک ملتوی کردی۔








