سپریم کورٹ آف پاکستان نے بیوی کے قتل کے الزام میں قید ملزم رب نواز کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے باعزت بری کر دیا۔جسٹس ملک شہزاد احمد خان، جسٹس عقیل احمد عباسی اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل تین رکنی بینچ نے مقدمے کی سماعت کے بعد فیصلہ سنایا
سپریم کورٹ نے بیوی کے قتل کے مقدمے میں ملزم کو بری کر دیا

مزید خبریں
اسلام آباد۔18جون (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے بیوی کے قتل کے الزام میں قید ملزم رب نواز کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے باعزت بری کر دیا۔جسٹس ملک شہزاد احمد خان، جسٹس عقیل احمد عباسی اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل تین رکنی بینچ نے مقدمے کی سماعت کے بعد فیصلہ سنایا۔مقدمے کے مطابق رب نواز پر الزام تھا کہ اس نے 2013ء میں تھانہ آبپارہ کی حدود میں اپنی اہلیہ مسماۃ شازیہ بی بی کو ٹوکے کے پے در پے وار کرکے قتل کر دیا تھا۔سماعت کے دوران ملزم کے وکیل سید محمد طبیب شاہ ایڈووکیٹ نے موقف اختیار کیا کہ استغاثہ کا مقدمہ محض قرائنی شہادت پر مبنی ہے جو کمزور اور ناکافی ہے
جبکہ مدعی مقدمہ کے بیانات میں بھی سنگین تضادات موجود ہیں۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ ایسے مقدمات جن کی بنیاد قرائنی شہادت پر ہو، ان کے حالات و واقعات کا انتہائی باریک بینی اور احتیاط سے جائزہ لینا ضروری ہوتا ہے۔ عدالت نے کہا کہ قرائنی شہادت پر مبنی مقدمات میں تمام حالات و واقعات ایک مربوط اور مکمل زنجیر کی صورت میں ثابت ہونا چاہئیں جس کا ایک سرا مقتول کی نعش سے اور دوسرا بلاتعطل ملزم تک پہنچتا ہو۔عدالت نے مزید قرار دیا کہ ملزم سے منسوب آلہ قتل یعنی ٹوکے پر موجود خون کا ڈی این اے ٹیسٹ کرائے بغیر اس شہادت کو ملزم کے خلاف موثر ثبوت کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے شواہد میں موجود نقائص اور استغاثہ کے مقدمے میں پائے جانے والے شکوک و شبہات کے باعث رب نواز کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے باعزت بری کرنے کا حکم دے دیا۔








