سپریم کورٹ نے خیبر پختونخوا ریونیو و سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ سے متعلق کیس ہائیکورٹ کو دوبارہ بھجوا دیا

سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ کسی لیگل ایڈوائزر کو ریونیو و سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے تمام عدالتی مقدمات کا دفاع کرنے کا اختیار دیا جائے تو یہ اختیار عمومی طور پر اسی مقدمے سے متعلق اپیل اور نظرثانی کی کارروائی تک بھی پھیلتا ہے، جب تک تقرری کے حکم یا متعلقہ قانون میں واضح پابندی نہ ہو۔

اسلام آباد۔8ستمبر (اے پی پی):سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ کسی لیگل ایڈوائزر کو ریونیو و سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے تمام عدالتی مقدمات کا دفاع کرنے کا اختیار دیا جائے تو یہ اختیار عمومی طور پر اسی مقدمے سے متعلق اپیل اور نظرثانی کی کارروائی تک بھی پھیلتا ہے، جب تک تقرری کے حکم یا متعلقہ قانون میں واضح پابندی نہ ہو۔

جسٹس شکیل احمد اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے سول پٹیشن نمبر 260-P of 2022 کا فیصلہ سنایا۔ عدالت نے پشاور ہائیکورٹ کے 9 فروری 2022ء کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے معاملہ ازسرنو فیصلے کے لیے ہائیکورٹ کو بھجوا دیا۔ سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ نظرثانی کی درخواست اسی مقدمے کا تسلسل ہوتی ہے اور اسے کوئی نیا یا آزاد دعویٰ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ عدالت کے مطابق کسی مقدمے کے دفاع کا اختیار عموماً مقدمے کے دوران موثر قانونی اقدامات بشمول اپیل اور نظرثانی کی کارروائی تک پھیلتا ہے۔

عدالت نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت کے لیگل ایڈوائزر کو ’’ریونیو و سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ سے متعلق تمام عدالتی مقدمات کا دفاع کرنے‘‘ کا وسیع اختیار حاصل تھا، اس لیے صرف یہ بنیاد کہ تقرری کے حکم میں نظرثانی کی درخواست دائر کرنے کا لفظی طور پر ذکر نہیں کیا گیا، نظرثانی کی کارروائی کو ناقابل سماعت قرار دینے کے لیے کافی نہیں تھی۔ سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ پشاور ہائیکورٹ نے لیگل ایڈوائزر کے اختیار کی حد کے بارے میں حکم کی ضرورت سے زیادہ محدود تشریح کی۔ عدالت نے ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے نظرثانی کی درخواست کو زیرالتوا تصور کرنے اور قانون کے مطابق فیصلہ کرنے کی ہدایت کی۔ عدالت نے ہائیکورٹ کو ہدایت کی کہ مقدمہ پر فریقین کو مکمل سماعت کا موقع دینے کے بعد ازسرنو میرٹ پر فیصلہ کیا جائے اور چونکہ معاملہ کافی پرانا ہے، اس لیے نظرثانی درخواست کو حتی الامکان دو ماہ کے اندر نمٹایا جائے تاہم موسم گرما کی تعطیلات کا عرصہ اس مدت میں شمار نہیں ہوگا۔ فیصلہ جسٹس شکیل احمد نے تحریر کیا۔

مزید خبریں