سکھر ۔حیدرآباد موٹر وے پر تعمیراتی کام کا باقاعدہ آغاز رواں سال مئی میں کر دیا جائے گا، وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان

اسلام آباد۔10فروری (اے پی پی):وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے کہا ہے کہ سکھر حیدرآباد موٹر وے پر تعمیراتی کام کا باقاعدہ آغاز رواں سال مئی میں کر دیا جائے گا، سیالکوٹ۔کھاریاں موٹروے کو 4 کی بجائے 6 لین کرنے اور اسے کرتار پور سے منسلک کرنے کا فیصلہ کیاگیا۔ یہ اہم فیصلے منگل کو یہاں وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان کی زیر صدارت نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ …

اسلام آباد۔10فروری (اے پی پی):وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے کہا ہے کہ سکھر حیدرآباد موٹر وے پر تعمیراتی کام کا باقاعدہ آغاز رواں سال مئی میں کر دیا جائے گا، سیالکوٹ۔کھاریاں موٹروے کو 4 کی بجائے 6 لین کرنے اور اسے کرتار پور سے منسلک کرنے کا فیصلہ کیاگیا۔

یہ اہم فیصلے منگل کو یہاں وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان کی زیر صدارت نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کے اعلیٰ سطحی اجلاس میں کئے گئے جس میں چیئرمین این ایچ اے اور سینئر افسران نے شرکت کی۔سکھر۔ حیدرآباد اور کراچی موٹرویز اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عبدالعلیم خان نے کہا کہ اس وقت سب کی نظریں سکھر۔ حیدرآباد موٹر وے پر مرکوز ہیں، لہذا افسران اس منصوبے کی جلد تکمیل کے لیے فوری اقدامات اٹھائیں۔

انہوں نے ہدایت کی کہ حیدرآباد اور کراچی کی موٹرویز کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی) کے تحت مکمل کیا جائے گا۔ اجلاس میں حیدرآباد کراچی موٹر وے کی فیزیبلٹی پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔وفاقی وزیر کو سیالکوٹ۔کھاریاں موٹر وے (ایم۔ 12) پر جاری پیش رفت پر بریفنگ دی گئی۔ عبدالعلیم خان نے ہدایت کی کہ مستقبل کے ٹریفک لوڈ کو دیکھتے ہوئے سیالکوٹ۔کھاریاں موٹروے کو 4 کی بجائے اب 6 لین کا بنایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ اس موٹر وے کو کرتار پور سے منسلک کیا جائے گا تاکہ سکھ یاتریوں کو سہولت ملے۔ وفاقی وزیر نے اعلان کیا کہ سکھ مذہبی ٹورازم کے فروغ کے لیے کینیڈا، امریکہ اور یورپ میں خصوصی ’’روڈ شوز‘‘ منعقد کیے جائیں گے۔

عبدالعلیم خان نے زور دیا کہ موٹر ویز کو زیادہ قابل عمل اور مفید بنانے کے لیے انہیں بڑے شہروں سے جوڑا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نئی موٹرویز آج کے لیے نہیں بلکہ آئندہ 30 برسوں کی ضروریات کے مطابق بنائیں گے۔اجلاس میں این ایچ اے کے ’’رائٹ آف ویز‘‘ کے لیے اشتہارات اور دیگر انتظامی امور بھی زیر غور آئے۔