سیاحت کے فروغ کیلئے اقدامات اور افرادی قوت کو تربیت دینا ناگزیر ہے،پاکستان میں سیاحت کے بے پناہ مواقع ہیں جن سے استفادہ کرنے کی ضرورت ہے، صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا مہمان نوازی کے حوالے سے انتظامی تعلیمی پروگرام سے متعلق تقریب سے خطاب

اسلام آباد ۔ 16 فروری (اے پی پی) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ پاکستان میں سیاحت کے بے پناہ مواقع ہیں جن سے استفادہ کرنے کی ضرورت ہے، دنیا بھر کی قدیم تہذیبوں کے آثار یہاں موجود ہیں، جن کے ذریعے مذہبی سیاحت کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے مہمان نوازی کے حوالے سے انتظامی تعلیمی پروگرام سے متعلق منعقدہ …

اسلام آباد ۔ 16 فروری (اے پی پی) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ پاکستان میں سیاحت کے بے پناہ مواقع ہیں جن سے استفادہ کرنے کی ضرورت ہے، دنیا بھر کی قدیم تہذیبوں کے آثار یہاں موجود ہیں، جن کے ذریعے مذہبی سیاحت کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے مہمان نوازی کے حوالے سے انتظامی تعلیمی پروگرام سے متعلق منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا، جس کا اہتمام آغا خان ٹرسٹ کی جانب سے کیا گیا تھا۔ صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان سیاحت کے حوالے سے ایک منفرد حیثیت رکھتا ہے جہاں خوبصورت وادیوں، پہاڑوں اور دلکش مناظر کے علاوہ دنیا کی قدیم تہذیبوں کے آثار موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مہر گڑھ کی ہزار سالہ پرانی تہذیب ،گندھارا تہذیب اور بدھ مت کے مذہبی مقامات کے علاوہ سندھ سولائزیشن بھی موجود ہیں جس کے ذریعے ہم سیاحت کو فروغ دے سکتے ہیں۔ صدر مملکت نے کہا کہ بدھ مت مذہب کی قدیم تہذیب کے پاکستان میں موجود آثار دنیا بھر سے زیادہ ہیں اور بدھ مت مذہب اور بدھ بھکشووں کی تاریخ پاکستان، کوریا اور چین تک پھیلی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر سال بڑی تعداد میں بدھ بھکشو پاکستان آتے ہیں اور اپنے مذہبی مقامات کی یاترا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حال ہی میں پاکستان کرتارپور راہداری کھولنے کا اقدام کیا جس سے سیاحت کو فروغ دینے میں مدد ملے گش۔ صدر مملکت نے کہا کہ حکومتی اقدامات سے حالیہ برسوں میں سیاحت میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں کا گہوارہ ہے جس سے استفادہ کرنے کیلئے ہمیں اپنی افراد قوت کو تربیت دینا ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ مہرگڑھ کی تہذیب ہزار سال سے بھی زیادہ پرانی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مختلف شعبوں میں خواتین کے کردار سے انکار نہیں کیا جاسکتا، سیاحت کے شعبے میں بھی خواتین اپنا نمایاں کردار ادا کرسکتی ہیں۔ صدرمملکت نے کہا کہ پاکستان میں دنیا بھر سے سیاح آتے ہیں سیاحت کے فروغ کیلئے اقدامات اور افراد قوت کو تربیت دینا ناگزیر ہے، پاکستان کو سیاحت کے شعبے کیلئے ایک لاکھ تربیت یافتہ افراد کی ضرورت ہے جس کیلئے نیوٹیک اور ٹیوٹا جیسے اداروں کو کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے نتھیا گلی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ صرف اس تفریح مقام پر گزشتہ سال 20لاکھ سے زائد سیاح آئے۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی سفراء ملنے آتے ہیں میں نے انہیں ہمیشہ ہوٹل اور سیاحت کے شعبوں پر توجہ دینے کی تلقین کی ہے۔ یہ شعبے ملکی معیشت کی ترقی میں نمایاں کردار ادا کرسکتے ہیں۔ انہوں نے اس اہم موضوع پر کانفرنس کے انعقاد پر آغا خان ٹرسٹ اور پرنس کریم آغا خان کی کوششوں کی تعریف کی۔