ڈاکٹر طاہر القادری: حسینیت حق و احتساب جبکہ یزیدیت بدترین ملوکیت کی علامت ہے
سیدنا امام حسینؓ تعلیمات مصطفی اور خلافت راشدہ کے نظام کے محافظ تھے، ڈاکٹر طاہر القادری

مزید خبریں
لاہور۔25جون (اے پی پی):تحریک منہاج القرآن کے بانی و سرپرست اعلی شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے یوم عاشورہ پر اپنے خصوصی پیغام میں کہا ہے کہ حسینیت اور یزیدیت دو بیانئے اور دو نظریات ہیں۔ یزید بدترین ملوکیت اور امام حسین ؓ مصطفوی تعلیمات،احتساب اور جوابدہی پر مبنی خلافت راشدہ کے نظام کے محافظ تھے۔
علما کی ذمہ داری ہے کہ وہ سانحہ کربلا کی اصل فکر اور تعلیمات کے بارے میں نوجوانوں کو آگاہ کریں،یہ محض تاریخ نہیں ایمان و یقین کا معاملہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ یزید نے نظام خلافت کی اخلاقی قدروں کو پامال کیا،خلافت راشدہ نظام مصطفی ۖ کی عملی شکل ہے۔انہوں نے کہاکہ خلافت راشدہ کے نظام میں خلیفہ راشد حضرت عمر فاروق کو دجلہ کے کنارے بھوک پیاس سے مرنے والے بکری کے بچے کی بھی فکر تھی جبکہ یزیدی آمریت میں خانوادہ رسولۖﷺ کے مقدس نفوس بے دردی سے شہید کر دیئے گئے اور عمائدین سلطنت کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی ۔سیدنا امام حسین ؓتاجدار کائنات ۖ کی تعلیمات کے امین اوروارث تھے۔ انہوں نے کہاکہ خلافت راشدہ میں نیکی ،تقوی ،طہارت اور اہلیت کی بنیاد پر عہدے دیئے جاتے تھے،تاجدار کائنات ۖ نے امت کو اخلاقی قدروں میں لپٹا ہوا جو سیاسی،اخلاقی کلچر دیا تھا یزید نے ہوس اقتدار میں اسے ملیا میٹ کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ واقعہ کربلا محض سیدنا امام حسین ؓ کی اذیت ناک شہادت تک محدود نہیں بلکہ یہ یزیدی سوچ اور طرز حکمرانی کا ایک نوحہ اور المیہ ہے جس نے امت کی وحدت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔انہوں نے کہاکہ یزید کی آتشِ انتقام سیدنا امام حسین ؓ کو شہید کرنے کے بعد بھی نہ بجھی۔انہوں نے کہاکہ خلافت راشدہ کا مالیاتی کلچر یہ تھا کہ ایک عام شہری خلیفہ وقت سے پوچھ سکتا تھا کہ مال غنیمت کی ایک چادر سے ہماری قمیض نہیں بنی آپ کا کرتا کیسے بن گیا؟یزید اور اس کے حواریوں نے اس کے برعکس قومی خزانے کو شیر مادر کی طرح ہڑپ کیا۔سادگی کو عیش پرستی میں تبدیل کر دیا،قومی دولت کو خوشامدیوں اور یزید کے حواریوں پر نچھاور کیا جاتا رہا ۔یزید کا محل عیاشی کا اڈہ اور حدود کو توڑنے کا مرکز بنا ہوا تھا ۔یزید ملعون نے جھوٹ،تہمت اور بدکاری کے کلچر کی حوصلہ افزائی کی ،اس کے باوجود اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ یزید پر لعنت نہ کی جائے تو اسے اپنے ایمان کی فکر کرنی چاہئے۔








