سی ڈی ڈبلیو پی کی 15 ترقیاتی منصوبوں کی منظوری، 9 بڑے منصوبے حتمی منظوری کیلئے ایکنک کو بھجوا دیئے
سینٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی نے 34 ارب 74 کروڑ روپے سے زائد مالیت کے 15 ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دےدی

مزید خبریں
اسلام آباد۔25جون (اے پی پی):سینٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی (سی ڈی ڈبلیو پی) نے جمعرات کے روز 34 ارب 74 کروڑ روپے سے زائد مالیت کے 15 ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دےدی اور 431 ارب روپے لاگت کے 9 بڑے منصوبوں کو قومی اقتصادی کونسل کے ایگزیکٹو کمیٹی (ایکنک) کو حتمی منظوری کے لیے سفارش کی۔
کمیٹی کا اجلاس وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات/ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن پروفیسر احسن اقبال کی زیر صدارت ہوا۔ اجلاس میں سیکرٹری پلاننگ اویس منظور سمرا،چیف اکانومسٹ، وی سی پی آئی ڈی ای، پلاننگ کمیشن کے اراکین، وفاقی سیکرٹریز، صوبائی پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ کے سربراہان اور متعلقہ وفاقی وزارتوں اور صوبائی حکومتوں کے سینئر نمائندوں نے شرکت کی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ منصوبے ’’اڑان پاکستان‘‘ کے وژن کے مطابق ہیں جو ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن، جدید انفراسٹرکچر، انسانی سرمائے کی ترقی اور پائیدار ترقی پر توجہ مرکوز کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی)، ڈیٹا انفراسٹرکچر اور کنیکٹیویٹی میں سرمایہ کاری ایک مقابلہ جاتی اور علم پر مبنی معیشت کی تعمیر کے لیے ضروری ہے۔سی ڈی ڈبلیو پی کی طرف سے منظور کیے گئے منصوبوں میں ایک ارب 44 کروڑ روپے کی لاگت سے مروت رینج میں تابکار معدنیات کی تلاش، آزاد جموں و کشمیر کے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز اور ٹیچنگ ہسپتالوں میں 5 ارب 48 کروڑ روپے سے زائد کے سی ٹی سکین اور ایم آر آئی مشینوں کی تنصیب کے منصوبے ، اعلیٰ تعلیمی اداروں میں 3 ارب 16 کروڑ 66 لاکھ روپے سے زائد لاگت سے وزیراعظم کے ای سپورٹس اریناز اور ٹریننگ سینٹرز کا قیام اور 4 ارب روپے سے زائد مالیت کے جیو سپیشل ایکس کمپلیکس (جیو اے آئی ڈویلپمنٹ اینڈ انوویشن ہب) کی ترقی شامل ہیں۔فورم نے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے فیکلٹی آف سکیورٹی سٹڈیز میں 99 کروڑ 89 لاکھ روپے کی لاگت سے آئی ٹی انفراسٹرکچر کی اپ گریڈیشن، 70 کروڑ 87 لاکھ روپے کی لاگت سے پاک آواز سکیور موبائل کمیونیکیشن ایکو سسٹم، انٹیلی جنس بیورو اور فرنٹیئر کور کے اہلکاروں کے لیے رہائشی اور آپریشنل سہولیات کی تعمیر کیلئے 30 کروڑ 12 لاکھ روپے، ایف سی بلوچستان ویسٹ کے ہیڈ کوارٹر کی تعمیر کیلئے 2 ارب ایک کروڑ 90 لاکھ روپے کے منصوبے ، تربت میں 2 ارب 48 کروڑ 50 لاکھ روپے سے زائد لاگت کے فرنٹیئر کور سائوتھ کے لیے 120 بیڈز کا ہسپتال ، خواجہ خیل ، باغ میدان ، شن قمر، ضلع خیبر اور حد امبر ضلع مہمند میں ونگ ہیڈ کوارٹرز اور ایف سی کے پی نارتھ کی بارڈر آئوٹ پوسٹ کی تعمیر کیلئے 3 ارب 81 کروڑ روپے کی لاگت کے منصوبے اور 50 کروڑ روپے کی لاگت سے روبوٹکس سینٹر آف ایکسیلنس کے قیام کی بھی منظوری دی۔پاور سیکٹر میں لیسکو کے پاور ڈسٹری بیوشن سٹرینتھننگ پروجیکٹ-II کے تحت 6 ارب 25 کروڑ 57 لاکھ روپے سے تھری فیز ایڈوانسڈ میٹرنگ انفراسٹرکچر (اے ایم آئی) میٹرز کی سپلائی کی منظوری دی گئی جبکہ پنجاب میں ایک ارب 41 کروڑ روپے سے زائد لاگت کے دو نظر ثانی شدہ روڈ کنیکٹیویٹی سکیموں کی بھی منظوری دی گئی۔ایکنک کو بھیجے گئے منصوبوں میں 793 کروڑ روپے کا ایمرجنگ ٹیکنالوجیز ڈیٹا سینٹر شامل ہے جس کا مقصد ساورن اے آئی اور ہائی پرفارمنس کمپیوٹنگ انفراسٹرکچر فراہم کرنا ہے اور 1300 کروڑ روپے کا نیشنل آرٹیفیشل انٹیلی جنس ایکو سسٹم ڈویلپمنٹ پروگرام (این اے آئی ای ڈی پی) ہے جو تفصیلی امکان اور عملدرآمد کی منصوبہ بندی کے ذریعے پاکستان کے اے آئی ایکو سسٹم کو مضبوط بنانے کے لیے ہے۔سی ڈی ڈبلیو پی نے 37 ارب 19 کروڑ روپے کے پاکستان کمیونیکیشن سیٹلائٹ-2 (پاک سیٹ-2) منصوبے کی بھی سفارش کی جو ایک نئے کمیونیکیشن سیٹلائٹ کی تعیناتی اور گرائونڈ کنٹرول سہولیات کی اپ گریڈیشن کے ذریعے قومی سیٹلائٹ کمیونیکیشن کی صلاحیتوں کو بڑھائے گا۔ایکنک کو بھیجے گئے دیگر منصوبوں میں اسلام آباد پولیس کے لیے ایچ الیون میں 9 ارب 41 کروڑ 29 لاکھ روپے سے زائد کے سپیشل پروٹیکشن یونٹ کے قیام، آزاد جموں و کشمیر میں 9 ارب 99 کروڑ 99 لاکھ کی لاگت سے بجلی کی سپلائی نیٹ ورکس کی مضبوطی اور بہتری، این-5 پر لالہ موسیٰ بائی پاس کی تعمیر، روہڑی سے تفتان تک 996 کلومیٹر ایم ایل-3 ریلوے سیکشن کی اپ گریڈیشن، بلوچستان میں ماشکیل-چڈگی روڈ کی تعمیر اور میرپور آزاد جموں و کشمیر میں نظر ثانی شدہ رٹھوعہ ہریام برج منصوبے شامل ہیں۔رٹھوعہ ہریام برج سکیم کا جائزہ لیتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ یہ منصوبہ کئی سالوں سے تاخیر کا شکار تھا،حکومت نے 2022ء میں اقتدار سنبھالنے کے بعد اس کی بحالی کو ترجیح دی ہے۔انہوں نے کہا کہ طویل عرصے سے تاخیر کا شکار منصوبوں کی تکمیل حکومت کی ترقیاتی اقدامات کی بروقت ترسیل اور علاقائی رابطے کو بہتر بنانے کے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔








