سینیٹر جام سیف اللہ خان کی زیر صدارت ایوان بالا کی قائمہ کمیٹی برائے پٹرولیم کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس

"سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پٹرولیم کی ذیلی کمیٹی کے پہلے اجلاس میں توانائی کے شعبے سے متعلق امور اور مؤثر نگرانی کے نظام کو مزید بہتر بنانے پر غور کیا گیا۔”

اسلام آباد۔6جولائی (اے پی پی):ایوان بالا کی قائمہ کمیٹی برائے پٹرولیم کی ذیلی کمیٹی کا پہلا اجلاس پیر کو کنوینیر کمیٹی سینیٹر جام سیف اللہ خان کی زیر صدارت منعقد ہوا۔

سینیٹ سیکرٹریٹ کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق اجلاس میں وزیراعظم کے 15 ستمبر 2003ء کے احکامات اور گیس پیدا کرنے والے علاقوں کے پانچ کلومیٹر کے دائرہ کار میں واقع آبادیوں کو گیس کی فراہمی سے متعلق سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے پر گزشتہ دو دہائیوں سے عملدرآمد نہ ہونے کی وجوہات، ذمہ داران کے تعین اور اس ضمن میں موثر و بروقت اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ کنوینیر کمیٹی سینیٹر جام سیف اللہ خان نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان کی واضح ہدایات اور سپریم کورٹ کے احکامات کے باوجود ملک بھر میں گیس پیدا کرنے والے علاقوں کی مقامی آبادیوں کو ان کا بنیادی حق فراہم نہیں کیا جا سکا جو انتہائی افسوسناک امر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ذیلی کمیٹی کا بنیادی مقصد ان تمام رکاوٹوں اور مسائل کی نشاندہی کرنا ہے جن کی وجہ سے گزشتہ 23 برس سے ان احکامات پر عملدرآمد ممکن نہیں ہو سکا تاکہ ذمہ داری کا تعین کرتے ہوئے اس معاملے کا مستقل حل نکالا جا سکے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ آئندہ اجلاسوں میں تمام متعلقہ وزارتوں، گیس کمپنیوں اور اداروں کے سربراہان ذاتی طور پر شرکت کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح ڈیرہ بگٹی اور سوئی کے بعض علاقوں میں مقامی آبادی کو گیس فراہم کی جا رہی ہے، اسی اصول کے تحت گھوٹکی، ماڑی، قادرپور اور دیگر تمام گیس پیدا کرنے والے علاقوں کی مقامی آبادیوں کو بھی گیس کی سہولت فراہم کی جائے۔ اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے حکام نے بتایا کہ وزیراعظم پاکستان نے 15 ستمبر 2003ء کو ضلع دادو کے زمزمہ گیس فیلڈ کے افتتاح کے موقع پر ہدایت کی تھی کہ گیس فیلڈز کے پانچ کلومیٹر کے دائرے میں واقع تمام دیہات اور آبادیوں کو ترجیحی بنیادوں پر گیس فراہم کی جائے اور یہی اصول ملک بھر کے تمام گیس فیلڈز پر لاگو ہوگا۔ بعد ازاں سپریم کورٹ آف پاکستان نے 27 دسمبر 2013ء کے فیصلے میں بھی وزارت پٹرولیم کو ان ہدایات پر مکمل عملدرآمد یقینی بنانے کا حکم دیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے 2008ء میں فی صارف لاگت کی بنیاد پر گیس فراہمی کے نظرثانی شدہ معیار کی منظوری دی تھی تاہم مالی سال 2013-14 سے وفاقی حکومت کی جانب سے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے تحت گیس ترقیاتی منصوبوں کے لیے بلاک فنڈز کی فراہمی بند کر دی گئی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد کے لیے مالی سال 2020-21 میں دونوں گیس کمپنیوں، سوئی سدرن گیس کمپنی اور سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ کو پانچ کلومیٹر کے دائرہ کار میں واقع دیہات کا سروے مکمل کرنے کی ہدایت کی گئی۔ کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ پانچ کلومیٹر پالیسی کے تحت گیس فراہمی کے منصوبے پائپ لائن نیٹ ورک کی توسیع پر عائد پابندی (Moratorium) سے مستثنیٰ ہیں تاہم فنڈز کی عدم دستیابی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ کنوینیر کمیٹی نے ہدایت کی کہ ملک بھر میں دریافت ہونے والی تمام نئی گیس فیلڈز کا سروے جلد از جلد مکمل کرکے تفصیلی رپورٹ کمیٹی کو پیش کی جائے۔ سوئی ناردرن گیس حکام نے بتایا کہ خیبر پختونخوا میں گیس پیدا کرنے والے بیشتر علاقوں کو گیس فراہم کی جا چکی ہے جبکہ وزیرستان کے علاقوں کا سروے مکمل کرکے وزارت پٹرولیم کو ارسال کر دیا گیا ہے۔ اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر گھوٹکی نے بتایا کہ ماڑی گیس فیلڈ کے متاثرہ علاقوں سے بڑی تعداد میں شکایات موصول ہوئی ہیں جہاں مقامی آبادی کو گیس کنکشن فراہم نہیں کیے گئے جبکہ قادرپور میں بھی محدود تعداد میں کنکشن دیئے گئے ہیں۔ اس پر کنوینیر کمیٹی نے واضح کیا کہ گیس پیدا کرنے والے علاقوں کے عوام کو گیس کی فراہمی ان کا قانونی اور اخلاقی حق ہے اور اس حق سے انہیں محروم نہیں رکھا جا سکتا۔کنونیئرکمیٹی نے تمام متعلقہ اداروں اور گیس کمپنیوں سے اس حوالے سے تفصیلی تحریری رپورٹ طلب کرتے ہوئے سیکرٹری وزارت پٹرولیم کو ہدایت کی کہ تمام متعلقہ اداروں کے ساتھ مشاورت کے بعد وزیراعظم کے احکامات اور سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے کی وجوہات، ذمہ داران اور قابلِ عمل سفارشات پر مشتمل جامع رپورٹ 15 روز کے اندر کمیٹی کو پیش کی جائے۔ ذیلی کمیٹی نے آئندہ اجلاس میں وزارت خزانہ، وزارت منصوبہ بندی، وزارت پٹرولیم، اوگرا، او جی ڈی سی ایل، پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ، سوئی سدرن گیس کمپنی، سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز، ماڑی انرجیز اور دیگر متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام کو طلب کرنے کا بھی فیصلہ کیا۔ اجلاس کے دوران رکن کمیٹی سینیٹر ہدایت اللہ خان نے تجویز پیش کی کہ تمام متعلقہ ڈپٹی کمشنرز سے تحریری طور پر معلومات حاصل کی جائیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ گیس فیلڈز کے پانچ کلومیٹر کے دائرے میں واقع کن علاقوں کو گیس فراہم کی جا چکی ہے اور کون سے علاقے اب بھی اس سہولت سے محروم ہیں۔ کنوینیر کمیٹی نے اس تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ تمام متعلقہ اداروں کے باہمی تعاون سے ایسا موثر نظام وضع کیا جائے گا جس کے ذریعے وزیراعظم پاکستان کی ہدایات اور سپریم کورٹ کے فیصلے پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے اور گیس پیدا کرنے والے علاقوں کے عوام کو ان کا جائز حق بلاتاخیر فراہم کیا جائے۔

مزید خبریں