اسلام آباد ۔ 11 دسمبر (اے پی پی) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ ڈویژن نے 2008سے 2018تک سی ایس ایس امتحان کے نتائج کی تفصیلات طلب کر لیں ہیں ،کمیٹی کو بتایا گیا ہے کہ پورے ملک میں مختلف وزارتوں، ڈویژنوں اور ذیلی اداروں میں 78 ہزار 623 خالی آسامیاں پڑی ہیں،2007 میں بلوچستان کا کوٹہ 3.5 فیصد سے بڑھا کر 6 فیصد کر دیا گیا جس کے وجہ …
سینیٹر طلحہ محمود کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کابینہ ڈویژن کا اجلاس، 2008سے 2018 تک سی ایس ایس امتحان کے نتائج کی تفصیلات طلب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 11 دسمبر (اے پی پی) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ ڈویژن نے 2008سے 2018تک سی ایس ایس امتحان کے نتائج کی تفصیلات طلب کر لیں ہیں ،کمیٹی کو بتایا گیا ہے کہ پورے ملک میں مختلف وزارتوں، ڈویژنوں اور ذیلی اداروں میں 78 ہزار 623 خالی آسامیاں پڑی ہیں،2007 میں بلوچستان کا کوٹہ 3.5 فیصد سے بڑھا کر 6 فیصد کر دیا گیا جس کے وجہ سے اس کی 13118مزید سیٹیں بن گئیں، ریٹائر ہونے والے افسران کی تمام آسامیاں میرٹ پر بلوچستان کو منتقل ہو رہی ہیں اور ان پر تقرری کا عمل جاری ہے، پورے ملک میں تقرریوں کا کوٹہ میرٹ 7.5فیصد، پنجاب بشمول وفاق50فیصد، سندھ19فیصد، خیبرپختونخوا11.5فیصد، بلوچستان6فیصد، شمالی علاقہ جات4 فیصداور آزاد جمہوں کشمیر کا2 فیصدبنتا ہے، تقرریاں کوٹے کے مطابق عمل میں لائی جا رہی ہیں۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کابینہ ڈویژن کا اجلاس منگل کو کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر طلحہ محمود کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاﺅس میں منعقد ہوا ۔ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹر سکندر ماندرو کے 18ستمبر 2018کو سینیٹ اجلاس میں اٹھائے گئے عوامی اہمیت کے معاملہ برائے فیڈرل گورنمنٹ کی طرف سے نئی آسامیوں کے لئے صوبائی کوٹے کے معاملات، سینیٹر محمد اکرم کے 26ستمبر 2018 کے توجہ دلاﺅنوٹس برائے میڈیا رپورٹ کے مطابق 17270بلوچستان کی خالی آسامیاں، اشتیاق احمد کی عوامی عرضداشت برائے سول سرونٹ ایکٹ 6اور7 پر عملدرآمد کے علاوہ وفاقی حکومت میں ڈیپوٹیشن پر کام کرنے والے ملازمین کی تفصیلات، پیشہ وارانہ گروپ کے ملازمین کے پروموشنل کوٹے کی تقسیم اور سنٹرل سلیکشن بورڈ کے حوالے سے معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ قائمہ کمیٹی کو وزیرمملکت پارلیمانی امور و منسٹر انچارج اسٹیبلشمنٹ ڈویژن علی محمد اور سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن ڈاکٹر اعجاز منیر نے معاملات پر تفصیلی بریف کرتے ہوئے آگاہ کیا کہ وفاقی حکومت نے ملازمتوں کا کوٹہ سسٹم آرٹیکل 27(1)کے تحت متعارف کرایا جو چالیس سال تک کے لئے تھا اور 2013میں ختم ہو گیا جس کی سمری گزشتہ حکومت کو بھیجی تھی مگر کوئی منظوری نہیں دی گئی تھی۔ موجودہ حکومت کو کوٹہ سسٹم کے حوالے سے نئی سمری بھیجی ہے منظور ہونے پر کمیٹی کو آگاہ کر دیا جائے گا، البتہ تقرریاں پرانے کوٹے کے مطابق کی جا رہی ہیں، کچھ لوگ عدالت بھی گئے ہیں جیسے ہی فیصلہ آئے گا وہ بھی آگاہ کر دیا جائے گا۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر طلحہ محمود نے کہا کہ 2012میں سی ایس ایس کے امتحان کے نمبروں کے حوالے سے کچھ ترامیم کی گئی تھیں جس کی وجہ سے نتائج پر اچھے اثرات مرتب نہیں ہوئے۔ یہ تبدیلیاں کس کے حکم پر کی گئیں تھیں۔ آئندہ اجلاس میں کمیٹی کو آگاہ کیا جائے جس پر سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ ایف پی ایس سی کے ہر سال رولز بنتے ہیں۔ وزیراعظم پاکستان ان کی منظوری دیتا ہے جس پر چیئرمین کمیٹی نے وزیراعظم کی طرف سے منظور کردہ نوٹ کی تفصیلات طلب کر لیں۔ منسٹر انچارج کیبنٹ ڈویژن محمد علی نے کہا کہ قائمہ کمیٹی کو حقائق پر مبنی رپورٹ دی جائے گی ہمیں کوئی بات چھپانے کی ضرورت نہیں ہے جس پر چیئرمین کمیٹی طلحہ محمود نے 2008 سے لے کر اب تک سی ایس ایس کے امتحان کے نتائج کی تفصیلات طلب کر لیں۔ کتنی سیٹیں تھیں، کتنے لوگوں نے پاس کیا اور کتنے لوگوں کی ایلوکیشن کی گئی؟ انہوں نے کہا کہ اگر معاملات میں کچھ گڑبڑ نظر آئی تو کیس فوری طور پر ایف آئی اے کو ریفر کر دیا جائے گا۔سینیٹر طلحہ محمود نے کہا کہ ہر صوبے میں بے شمار آسامیاں خالی پڑی ہیں، ملک میں بے روزگاری بہت زیادہ ہے، رولز میں تبدیلی کی وجہ سے بے شمار امیدوار سیٹیں حاصل نہیں کر سکے، سسٹم کو بہتر کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ مختلف اداروں میں ڈیپوٹیشن پر افسران کی خدمات حاصل کر لی جاتی ہیں۔ بہتر یہی ہے کہ اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لئے متعلقہ مہارت کے لوگ ہی ڈیپوٹیشن پر لیے جائیں۔ سینیٹر روبینہ خالد نے کہا کہ قومی اسمبلی میں ایک آرڈینینس اس حوالے سے متعارف کرایا گیا ہے جس پر بے شمار لوگوں کو تحفظات ہیں۔ قائمہ کمیٹی اس آرڈینینس کا جائزہ لے۔ اراکین کمیٹی نے کہا بلوچستان کے حوالے سے اگر اخبار میں غلط خبر آئی تھی تو اس کی تردید نشر کرانی چاہیے تھی۔ قائمہ کمیٹی کو اشتیاق احمد کی عوامی عرضداشت کے حوالے سے بتایا گیا کہ تمام وزارتوں ڈویڑنوں کو سیکشن6اور7 پر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کر دی گئی ہے۔ قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ وفاقی اداروں میں 112افسران ڈیپوٹیشن پر کام کر رہے ہیںجس پر چیئرمین واراکین کمیٹی نے کہا کہ ڈیپوٹیشن کی وجہ صرف سیکشن آفیسر کی شارٹیج درج کی گئی ہے اگر تقرریاں وقت پر کر لی جاتیں تو یہ مسائل سامنے نہ آتے۔ قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا وفاقی اداروں میں 750سیکشن آفیسر کی آسامیاں ہیں جن میں سے 105ڈیپوٹیشن پر کام کر رہے ہیں۔ 403وفاقی اداروں میں ہیں اور سپریم کورٹ کے حکم پر مارچ سے اب تک 97افسران کو واپس ان کے محکموں میں بھی بھیج دیا گیا ہے۔ 25ملازمین نے حکم امتناعی حاصل کر رکھا ہے۔ قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ سنٹرل سلیکشن کا اجلاس مارچ میں ہوا تھا اس کی تفصیلات آئندہ اجلاس میں پیش کر دی جائیں گی اور ابھی بھی اس حوالے سے ایک اجلاس جاری ہے جس کے منٹس کی منظوری وزیراعظم پاکستان دیتے ہیں۔ منظوری ہونے پر 10دن کے اندر قائمہ کمیٹی کو تفصیلات فراہم کر دی جائیں گی۔ قائمہ کمیٹی نے سنٹرل سلیکشن بورڈ کے گزشتہ اجلاس میں ترقی پانے والے افسران کی تفصیلات 15دنوں میں طلب کر لیں۔ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹرز نجمہ حمید، روبینہ خالد اور نصیب اللہ کے علاوہ منسٹر انچارک کیبنٹ ڈویژن علی محمد، سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن ڈاکٹر اعجاز منیر، جوائنٹ سیکرٹری گلزار حسین شاہ، ڈی جی پاکستان پبلک ایڈمنسٹریشن ریسرچ سنٹر محمد لاکھڑ خان اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
ksd/mik/zri 1752








