سینیٹ میں آٹھ نجی ارکان کے بل پیش، متعلقہ قائمہ کمیٹیوں کے سپرد

سینیٹ میں آٹھ نجی ارکان کے بل پیش، مزید غور و خوض کے لیے متعلقہ قائمہ کمیٹیوں کے سپرد۔

اسلام آباد۔24اگست (اے پی پی):سینیٹ میں پیر کو آٹھ نجی ارکان کے بل پیش کئے گئے جنہیں مزید غور و خوض کے لئے متعلقہ قائمہ کمیٹیوں کے سپرد کر دیا گیا۔

پیر کو ایوان بالا کے اجلاس میں سینیٹر شہادت اعوان نے تعزیراتِ پاکستان 1860ء اور ضابطہ فوجداری 1898ء میں مزید ترامیم کے لئے فوجداری قوانین (ترمیمی) بل 2026ء پیش کیا۔سینیٹر محمد عبدالقادر نے فاطمہ انسٹی ٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ملتان بل 2026ء پیش کیا جس کا مقصد فاطمہ انسٹی ٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے قیام کی راہ ہموار کرنا ہے۔ انہوں نے تعزیراتِ پاکستان 1860ء اور ضابطہ فوجداری 1898ء میں مزید ترامیم کے لئے ایک اور فوجداری قوانین (ترمیمی) بل 2026ء بھی پیش کیا۔سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے مسلم عائلی قوانین (والدین کی کفالت) (ترمیمی) بل 2026ء پیش کیا جس کے ذریعے مسلم عائلی قوانین آرڈیننس 1961ء میں مزید ترامیم تجویز کی گئی ہیں۔سینیٹر کامران مرتضیٰ نے صنعتی تعلقات (ترمیمی) بل 2026ء پیش کیا، جس کا مقصد صنعتی تعلقات ایکٹ 2012ء میں مزید ترامیم کرنا ہے۔سینیٹر سرمد علی نے تعزیراتِ پاکستان 1860ء اور ضابطہ فوجداری 1898ء میں مزید ترامیم کے لئے فوجداری قوانین (ترمیمی) بل 2026ء پیش کیا۔سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے خاندانی عدالتیں (ترمیمی) بل 2026ء بھی پیش کیا جس کے ذریعے خاندانی عدالتیں ایکٹ 1964ء میں مزید ترامیم تجویز کی گئی ہیں۔ انہوں نے تعزیراتِ پاکستان 1860ء اور ضابطہ فوجداری 1898ء میں مزید ترامیم کے لئے ایک اور فوجداری قوانین (ترمیمی) بل 2026ء بھی پیش کیا۔تمام آٹھ نجی ارکان کے بل مزید غور و خوض کے لئے متعلقہ قائمہ کمیٹیوں کے سپرد کر دیئے گئے۔دریں اثناء قومی اسمبلی سے منظور ہو کر سینیٹ کو بھجوایا گیا ایک نجی رکن کا بل بھی متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا۔ سینیٹر بشریٰ انجم بٹ نے انسدادِ زیادتی (تحقیقات و سماعت) (ترمیمی) بل 2026ء پیش کیا جس کے ذریعے انسدادِ زیادتی (تحقیقات و سماعت) ایکٹ 2021ء میں ترامیم تجویز کی گئی ہیں۔