اسلام آباد۔10فروری (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قومی صحت کا اجلاس منگل کو سینیٹر امیر ولی الدین چشتی کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں صحت کے شعبے سے متعلق اہم قانون سازی، پالیسی اور انتظامی امور پر غور کیا گیا۔اجلاس میں ’’قومی آبادی و تولیدی صحت بل، 2026‘‘ پر غور، میڈیکل و ڈینٹل کالج داخلہ ٹیسٹ (ایم ڈی کیٹ) اور میڈیکل و ڈینٹل کالجوں میں خالی آسامیوں …
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قومی صحت کا اجلاس ، اہم قانون سازی، پالیسی اور انتظامی امور پر غور

مزید خبریں
اسلام آباد۔10فروری (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قومی صحت کا اجلاس منگل کو سینیٹر امیر ولی الدین چشتی کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں صحت کے شعبے سے متعلق اہم قانون سازی، پالیسی اور انتظامی امور پر غور کیا گیا۔اجلاس میں ’’قومی آبادی و تولیدی صحت بل، 2026‘‘ پر غور، میڈیکل و ڈینٹل کالج داخلہ ٹیسٹ (ایم ڈی کیٹ) اور میڈیکل و ڈینٹل کالجوں میں خالی آسامیوں سے متعلق امور کا جائزہ، آبادی میں اضافے اور ماں، نوزائیدہ اور بچوں کی صحت (ایم این سی ایچ)پر اس کے اثرات پر بحث، جبکہ وزارتِ قومی صحت خدمات، ضوابط اور ہم آہنگی کے مالی سال 2026-27 کے لیے مجوزہ پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) بجٹ پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
اجلاس میں سینیٹر سید مسرور احسن، سینیٹر روبینہ خالد، سینیٹر انوشہ رحمان احمد خان اور سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے شرکت کی۔ قائمہ کمیٹی نے ’’پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (ترمیمی) بل، 2025‘‘ کو بل پیش کرنے والے کی کمیٹی کے مسلسل تین اجلاسوں میں عدم حاضری کے باعث نمٹا دیا۔ اسی طرح نجی رکن کے بل “الیکٹرانک نکوٹین ڈیلیوری سسٹمز (ریگولیشن) بل، 2025” پر بل کی درخواست پر بحث مؤخر کر دی گئی۔قومی آبادی و تولیدی صحت بل، 2026 پر گفتگو کے دوران کمیٹی نے آبادی میں تیزی سے اضافے اور اس کے قومی وسائل، روزگار کے مواقع اور عوامی سہولیات پر منفی اثرات پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔
اراکین نے آبادی میں اضافے سے موثر انداز میں نمٹنے کے لیے ایک جامع اور یکساں قومی پالیسی کی ضرورت پر زور دیا۔ وزارتِ قومی صحت خدمات نے بل پر تکنیکی اعتراضات اٹھاتے ہوئے وفاقی ٹاسک فورس برائے آبادی کے وجود کا حوالہ دیا، تاہم سیکرٹری صحت خدمات نے بل کے مقصد کو تسلیم کرتے ہوئے آگاہ کیا کہ وفاقی ٹاسک فورس اس وقت غیر فعال ہے، جبکہ صوبوں کو منتقلی کے باعث صوبائی ٹاسک فورسز فعال ہیں۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ بے قابو آبادی میں اضافہ اور بے روزگاری ایک سنگین سماجی و معاشی چیلنج ہے۔
بل کی تجویز پر کمیٹی نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا کہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قومی صحت خدمات اور سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کا مشترکہ اجلاس بلایا جائے گا۔ اس اجلاس میں تمام سیاسی جماعتوں کے نمائندگان، وزارتِ مذہبی امور، صوبائی حکومتوں اور کونسل آف اسلامک آئیڈیالوجی (سی آئی آئی) کو مدعو کیا جائے گا تاکہ بل پر جامع بحث کی جا سکے۔ کمیٹی نے یہ سفارش بھی کی کہ قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ کے تحت وفاقی اکائیوں کے حصے کے تعین میں آبادی کو معیار نہ بنایا جائے۔
کمیٹی نے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کے بورڈ سے عوامی نمائندوں کو خارج کرنے پر اعتراض کیا اور ریگولیٹری ادارے میں بامعنی عوامی نمائندگی کی ضرورت پر زور دیا۔ اجلاس میں حالیہ ایم ڈی کیٹ امتحان کے انعقاد اور نتائج پر بریفنگ دی گئی۔ اراکین نے داخلہ پالیسی پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ایم ڈی کیٹ کو دیے گئے 50 فیصد ویٹیج کو غیر منصفانہ قرار دیا، کیونکہ اس کے مقابلے میں انٹرمیڈیٹ کی تعلیم کے لیے زیادہ وقت دستیاب ہوتا ہے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ موجودہ ویٹیج پارلیمنٹ کے منظور کردہ قانون کے تحت ہے، تاہم کمیٹی نے اس قانون پر نظرثانی کا فیصلہ کیا۔
مزید بتایا گیا کہ پنجاب اور سندھ کے نجی میڈیکل کالجوں میں خالی نشستیں اگلی میرٹ لسٹ کے اعلان کے بعد پُر کی جائیں گی، جبکہ ملک کے دیگر حصوں میں کوئی نشست خالی نہیں۔ چیئرمین نے ایم ڈی کیٹ کے موجودہ ویٹیج فارمولے کو ختم کرنے اور داخلہ معیار کو بین الاقوامی بہترین طریقہ کار سے ہم آہنگ کرنے کی سفارش کی۔کمیٹی کو آبادی میں اضافے کے رجحانات اور ان کے MNCH اشاریوں پر اثرات سے بھی آگاہ کیا گیا۔
اراکین نے پاکستان ڈیموگرافک اینڈ ہیلتھ سروے (پی ڈی ایچ ایس) کے انعقاد میں طویل تاخیر پر ناراضگی کا اظہار کیا، جو آخری بار 2017 میں کیا گیا تھا۔ ڈائریکٹر جنرل پاپولیشن (آبادی) نے بتایا کہ وفاقی حکومت کی رائٹسائزنگ پالیسی کے تحت اب یہ سروے پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس (پی بی ایس) کرے گا، جس کی تیاری آخری مراحل میں ہے۔ کمیٹی نے بالخصوص ناخواندہ خواتین میں تولیدی صحت سے متعلق آگاہی کے لیے جامع حکمت عملی وضع کرنے کی ہدایت کی۔
مزید یہ کہ کمیٹی نے پاپولیشن کمیشن کے تحت ایک آبادی فنڈ کے قیام کی تجویز دی، جس کے لیے پائیدار مالی وسائل، بشمول ادویہ ساز صنعت کو مراعات (مانع حمل ادویات پر سیلز ٹیکس میں کمی) اور لازمی شعبہ جاتی شراکتیں شامل ہوں۔
چیئرمین نے سیکرٹری صحت خدمات کو ہدایت کی کہ پی ڈی ایچ ایس کو ہنگامی بنیادوں پر مکمل کرایا جائے۔اجلاس میں وزارتِ قومی صحت خدمات، ضوابط اور ہم آہنگی کے PSDP بجٹ کی تجاویز کا بھی جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ اس کا آئندہ اجلاس شیخ زاید ہسپتال، لاہور میں منعقد ہوگا، جہاں ہسپتال کی بحالی اور خدمات کی بہتری سے متعلق امور پر غور کیا جائے گا۔








