شعبہ طب محض ایک پیشہ نہیں،انسانیت کی عظیم خدمت بھی ہے، سینیٹر عامر ولی الدین چشتی

شعبہ طب محض ایک پیشہ نہیں،انسانیت کی عظیم خدمت بھی ہے، سینیٹر عامر ولی الدین چشتی

حیدرآباد/ اسلام آباد۔13ستمبر (اے پی پی):قومی صحت کی خدمات، ضوابط اور رابطہ کاری سے متعلق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر عامر ولی الدین چشتی نے حیدرآباد میں کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز پاکستان ( سی پی ایس پی) کے 59 ویں کانووکیشن میں بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی اور طبی ماہرین کو ان کی شاندار کامیابیوں پر مبارکباد پیش کی۔سینیٹ سیکرٹریٹ کی جانب سے اتوار کو یہاں جاری پریس ریلیز کے مطابق اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے سینیٹر عامر ولی الدین چشتی نے کہا کہ کانووکیشن میں شرکت کرنا اور پاکستان کے ابھرتے ہوئے طبی ماہرین کی نمایاں کامیابیوں کے جشن میں شرکت میرے لئے اعزاز اور باعثِ مسرت ہے۔ انہوں نے سی پی ایس پی کو پاکستان میں پوسٹ گریجویٹ طبی تعلیم کا ایک ممتاز ادارہ قرار دیا جو پیشہ ورانہ مہارت، شفاف جانچ اور تعلیمی معیار کی بلندی کو برقرار رکھنے میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔

سینیٹر عامر ولی الدین چشتی نے کہا کہ 150 سے زائد فیلوز اور ممبران کو ان کی محنت سے حاصل کردہ اسناد وصول کرتے ہوئے دیکھنا انتہائی فخر کا باعث ہے اور اس سے پاکستان کے شعبہ صحت کے روشن مستقبل پر میرا اعتماد مزید پختہ ہوا ہے۔ انہوں نے سی پی ایس پی کی قیادت بالخصوص صدر پروفیسر محمد شعیب شفیع، سینئر نائب صدر پروفیسر خالد مسعود گوندل اور کونسل کے اراکین کی کاوشوں کو سراہا جو پوسٹ گریجویٹ طبی تعلیم کو مستحکم کرنے اور برطانیہ، آئرلینڈ، مشرقِ وسطیٰ اور دیگر خطوں میں پاکستانی طبی اسناد کی بین الاقوامی پذیرائی میں اضافے کے لیے کی گئی ہیں۔قومی صحت کی خدمات، ضوابط اور رابطہ کاری سے متعلق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے چیئرمین کی حیثیت سے سینیٹر عامر ولی الدین چشتی نے سی پی ایس پی اور اس کے مشن کے لیے کمیٹی کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی طبی تعلیم اور صحت کی دیکھ بھال کے بنیادی ڈھانچے کو درپیش بدلتے ہوئے چیلنجز سے آگاہ ہے اور مسائل کے حل، پالیسی سازی میں معاونت اور ادارے کے مقاصد کے حصول کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے میں ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔انہوں نے پاکستان میں صحت کی سہولیات کی فراہمی کو بہتر بنانے کے لیے سی پی ایس پی کی مسلسل خدمات کو سراہا، خاص طور پر عام لوگوں تک ماہرانہ طبی خدمات کی رسائی کو ممکن بنانے اور اعلیٰ تعلیم یافتہ ماہرین کی تربیت کے ذریعے ملک کے صحت کے نظام کو مضبوط بنانے میں ادارے کے کردار کی تعریف کی۔سینیٹر عامر ولی الدین چشتی نے تمام فارغ التحصیل فیلوز اور ممبران، ان کے والدین، اہل خانہ اور فیکلٹی ممبران کو مبارکباد پیش کی، جن کی لگن اور قربانیوں نے ان کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔

انہوں نے حال ہی میں سند یافتہ ماہرینِ طب پر زور دیا کہ وہ اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں ہمدردی، دیانتداری اور لگن کے ساتھ ادا کریں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ شعبہ طب محض ایک پیشہ نہیں بلکہ انسانیت کی ایک عظیم خدمت بھی ہے۔ انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ ماہرین کی یہ نئی نسل شفا اور امید کی کرن ثابت ہوگی اور پورے پاکستان میں صحت کی دیکھ بھال کے نتائج کو بہتر بنانے میں نمایاں کردار ادا کرے گی۔