شہریار آفریدی، ڈاکٹر فہمیدہ مرزا اور ذوالفقار عباس بخاری کا وفاقی پولیس کے زیر اہتمام خواتین کے عالمی دن کے حوالہ سے خصوصی تقریب سے خطاب

اسلام آباد ۔ 08 مارچ (اے پی پی) وفاقی پولیس کے زیر اہتمام پولیس لائن ہیڈ کوارٹرز میں خواتین کے عالمی دن کے حوالہ سے خصوصی تقریب منعقد کی گئی۔ اس موقع پر وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی، وفاقی وزیر برائے بین الصوبائی رابطہ ڈاکٹر فہمیدہ مرزا، وزیراعظم کے معاون برائے سمندر پار پاکستانیز ذوالفقار عباس بخاری اور انسپکٹر جنرل اسلام آباد پولیس محمد عامر ذوالفقار نے خطاب کیا۔ …

اسلام آباد ۔ 08 مارچ (اے پی پی) وفاقی پولیس کے زیر اہتمام پولیس لائن ہیڈ کوارٹرز میں خواتین کے عالمی دن کے حوالہ سے خصوصی تقریب منعقد کی گئی۔ اس موقع پر وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی، وفاقی وزیر برائے بین الصوبائی رابطہ ڈاکٹر فہمیدہ مرزا، وزیراعظم کے معاون برائے سمندر پار پاکستانیز ذوالفقار عباس بخاری اور انسپکٹر جنرل اسلام آباد پولیس محمد عامر ذوالفقار نے خطاب کیا۔ وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی نے کہا کہ خواتین کسی بھی معاشرے کی ترقی، خوشحالی اور اس کو مہذب بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں، اس حوالہ سے خواتین کا کردار بہت اہمیت کا حامل ہے، یہ خاتون ہی ہے جو ماں، بہن، بیوی اور بیٹی کی شکل میں ہمیں احترام اور تہذیب کے بارے میں پرعزم بناتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وطن عزیز میں کسی بھی قسم کی مشکلات ہوں خواتین نے مردوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر ثابت کیا کہ وہ کسی بھی طرح کم نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم خواتین کا دن بڑی دھوم دھام سے منا لیتے ہیں لیکن بڑے افسوس کی بات ہے کہ اسے ماں، بہن، بیٹی اور بیوی کی شکل میں معاشرہ وہ عزت نہیں دیتا جس کی وہ مستحق ہیں، اس حوالہ سے میڈیا بھی کسی سے پیچھے نہیں ہے، اسے آگے بڑھ کر اہم کردار ادا کرنا چاہئے، وہ معاشرہ میں عورت کی عزت کے رجحانات کو تقویت دے۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ خواتین پاکستان میں گھروں سے نکل کر اہم عہدوں پر مردوں کے درمیان برابری کی بنیاد پر کام کرتی ہیں تو پھر انہیں اپنے اندر جرأت اور ہمت کو فروغ دیتے ہوئے کسی قسم کی شرم محسوس نہیں کرنی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے معاشرہ کی یہ بہت بڑی ناکامی ہے کہ خواتین کی ایک غالب اکثریت گھر سے باہر کام نہیں کرتی اور اپنی صلاحیتوں کو گھر کی چار دیواری کے اندر پڑھنے لکھنے کے باوجود ضائع کرتی رہتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مہذب دنیا میں کوئی معاشرہ اس وقت تک ایک ذمہ دار قوم نہیں بن سکا جب تک اس نے مائوں، بہنوں، بیٹیوں اور بیویوں کے طور پر صحیح معنوں کے طور پر عزت نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ معاشرہ میں یہ بات دیکھنے میں آئی ہے کہ عورت کو تذلیل کا زیادہ نشانہ بنایا جاتا ہے۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ قرآن مجید میں اﷲ تعالیٰ نے کہا ہے کہ جب میں کسی کو بیٹی دیتا ہوں تو اس پر رحمت کے دروازے کھول دیتا ہوں، ہمارا دین ہمیں یہ بڑا واضح پیغام دیتا ہے کہ مائوں، بہنوں، بیٹیوں کا بہت زیادہ احترام ہے، میں اس حوالہ سے واضح پیغام دیتا ہوں کہ خواتین کی وراثت کا معاملہ ہو یا ان کی عزت و احترام کے بارے میں بات ہو ہم ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں یہ بات بھی بڑے افسوس سے کر رہا ہوں کہ میرے ملک میں آج بھی شادی کے حوالہ سے کوٹہ رکھا جاتا ہے، دین کے ٹھیکیدار جرگوں میں اپنے ذاتی مفادات کیلئے بیٹیوں کے رشتے کر دیتے ہیں۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے بین الصوبائی رابطہ ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے کہا کہ ہمیں اس اہم موقع پر کشمیر کی خواتین کو نہیں بھولنا چاہئے، کشمیر میں بھارتی قابض افواج اور دیگر سکیورٹی ادارے بیدردی سے خواتین کو تشدد کا سب سے زیادہ نشانہ بنا رہے ہیں، ہزاروں کی تعداد میں کشمیر کے اندر خواتین بیوہ ہو چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق کشمیریوں کو ان کے حقوق دیئے جائیں۔ میں جب 2008ء میں سپیکر قومی اسمبلی منتخب ہوئی تو اس وقت میں نے خواتین کے حقوق سے متعلق خصوصی طور پر قانون سازی کی۔ انہوں نے کہا کہ زمانہ بدل رہا ہے، آج خواتین کے سیاسی و سول حقوق کو اہمیت دی جا رہی ہے، خواتین پولیس افسران کو دیکھتی ہوں تو وہ کسی بھی طرح اپنے فرائض مردوں کے مقابلہ میں کسی کمی کے بغیر احسن طریقہ سے ادا کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کو سہولیات کی فراہمی کیلئے فوری اقدامات کی ضرورت ہے، اس حوالہ سے میں یہ بھی کہوں کہ خواتین کو سفری سہولیات کا فقدان ہے، حکومت اس حوالہ سے خصوصی طور پر اقدامات کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ سہولتوں کی فراہمی کا انتظام کرے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کو انصاف کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے اس سلسلہ میں جدید پولیس سٹیشنز قائم کئے جائیں جہاں خواتین بلا جھجک اپنے مسائل بیان کر سکیں اور انصاف حاصل کرنے میں انہیں کسی رکاوٹ کا سامنا نہ ہو۔ وزیراعظم کے معاون برائے سمندر پار پاکستانیز ذوالفقار عباس بخاری نے کہا کہ خواتین کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں خواتین کو ہراساں کرنے کے واقعات رونما ہو رہے ہیں، ہم اس طرح کے واقعات کی روک تھام کیلئے جلد اقدامات کو ٹھوس شکل دے رہے ہیں، یہ کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا کہ خواتین پر تشدد، ظلم اور جبر کیا جائے، پاکستان کی خود مختاری اور ترقی کے عمل میں خواتین کا کردار مثالی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا تصور یہ ہے کہ عورت کا آرمی، پولیس یا کسی بھی فورس سمیت تمام شعبوں میں آزادانہ حصہ ہونا چاہئے، وہ مکمل آزادی سے اپنے لئے فیصلہ کر سکیں خواہ انہیں ٹرک ڈرائیور ہی کیوں نہ بننا پڑے، اہلخانہ میں مرد حضرات کو ایسی خواتین کی حوصلہ افزائی کرنی چاہئے اور حقیقی مردانگی کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔ آئی جی اسلام آباد محمد عامر ذوالفقار نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کی عزت کے بغیر مرد نامکمل ہے، اگر مرد عورت کے متعلق مکمل شعور اور آگاہی کا ادراک رکھتے ہوں تو وہ خواتین کو زیادہ سے زیادہ عزت دیں۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی معاشرہ خواتین کے اہم کردار کے بغیر ترقی نہیں کر سکتا، تمام آسمانی کتابوں بالخصوص قرآن پاک میں بھی خواتین کے بارے میں واضح احکامات دیئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نہ صرف مختلف اداروں میں بلکہ پولیس میں بھی خواتین اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ حضرت آمنہ یا حضرت خدیجہ ، خاتون جنت فاطمة الزہرہ سمیت اسلام کی تاریخ خواتین کے کردار سے بھری پڑی ہے، خواتین نے نہ صرف مختلف شعبوں میں بلکہ مذہب اسلام کیلئے بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر اللہ تعالیٰ نے آپ کو دو بیٹیاں عطا کی ہیں تو آپ جنت میں جائیں گے۔

Leave a Reply