وفاقی وزیر برائے قومی صحت سید مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ صحت کے شعبے کو ’’سِک کیئر‘‘ سے نکال کر ’’ہیلتھ کیئر‘‘ کی طرف لے جانا ہوگا، صحت کے نظام کو صرف ہسپتال بنانے اور مریضوں کا علاج کرنے تک محدود نہیں رکھا جا سکتا بلکہ بیماریوں سے بچاؤ اور ہیلتھ کیئر پر توجہ دینا ہوگی کیونکہ بڑھتی ہوئی آبادی اور بیماریوں کے بوجھ کے باعث ملک میں ہسپتال، …
صحت کے شعبے کو ’’سِک کیئر‘‘سے نکال کر ’’ہیلتھ کیئر‘‘ کی طرف لے جانا ہوگا، بیماریوں سے بچاؤ قومی ترجیح ہے، وفاقی وزیر برائے قومی صحت
اسلام آباد۔8ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی صحت سید مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ صحت کے شعبے کو ’’سِک کیئر‘‘ سے نکال کر ’’ہیلتھ کیئر‘‘ کی طرف لے جانا ہوگا، صحت کے نظام کو صرف ہسپتال بنانے اور مریضوں کا علاج کرنے تک محدود نہیں رکھا جا سکتا بلکہ بیماریوں سے بچاؤ اور ہیلتھ کیئر پر توجہ دینا ہوگی کیونکہ بڑھتی ہوئی آبادی اور بیماریوں کے بوجھ کے باعث ملک میں ہسپتال، ڈاکٹر، طبی عملہ اور جدید طبی مشینری کی تعداد میں محض اضافہ کرکے صحت کے مسائل پر قابو نہیں پایا جا سکتا۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو یہاں سرینا ہوٹل میں ذیابیطس کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی آبادی 2023 کی مردم شماری میں تقریباً 24 کروڑ تھی جو اب ساڑھے 26 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے، ملک میں ہر سال تقریباً 67 لاکھ بچے پیدا ہو رہے ہیں یعنی ہماری آبادی میں ہر سال تقریباً نیوزی لینڈ کی آبادی کے برابر اضافہ ہو رہا ہے جبکہ ہر پانچ سال میں تقریباً آسٹریلیا کی آبادی کے برابر اضافہ ہو جاتا ہے۔ سید مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستان اس وقت دنیا کے تیزی سے بڑھنے والی آبادی والے ممالک میں شامل ہے اور 2030ء تک آبادی کے لحاظ سے دنیا کا چوتھا بڑا ملک بن جائے گا، ایسی صورتحال میں اگر آبادی کا ایک بڑا حصہ مسلسل بیمار رہے تو سوال یہ ہے کہ کتنے ہسپتال بنائے جائیں گے، کتنے ڈاکٹرز اور پیرا میڈکس بھرتی کئے جائیں گے اور کتنی مشینیں خریدی جائیں گی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو ’’سِک کیئر‘‘ سے نکل کر حقیقی ’’ہیلتھ کیئر‘‘ کی طرف جانا ہوگا اور صحت عامہ صرف وزارتِ صحت کی ذمہ داری نہیں بلکہ پورے معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ صحت کی دیکھ بھال بچے کی پیدائش سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے اور بچوں کی پیدائش میں مناسب وقفہ اس کا اہم حصہ ہے۔ انہوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں ہر سال تقریباً 11 ہزار خواتین حمل اور زچگی کے دوران جان سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہیں جبکہ ہر سال ایک سے پانچ سال کی عمر کے تقریباً چار لاکھ بچے موت کا شکار ہو جاتے ہیں جو روزانہ تقریباً 1300 بچوں کے برابر ہے۔انہوں نے کہا کہ کمزور ماؤں کے ہاں پیدا ہونے والے بچے بھی صحت کے مسائل کا شکار ہو سکتے ہیں اور ان میں سے زندہ بچ جانے والے بچوں میں نشوونما کی کمی یا سٹنٹنگ کا مسئلہ پیدا ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی نوجوان آبادی کا تقریباً 43 فیصد حصہ نشوونما کی کمی کا شکار ہے جو مستقبل کی انسانی صحت، پیداواری صلاحیت اور ملکی معیشت کے لئے ایک بڑا چیلنج ہے۔
سید مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستان میں تقریباً 68 فیصد بیماریوں کو پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں سے منسلک کیا جاتا ہے، اس لئے صاف پانی کی فراہمی صرف وزارتِ صحت کی ذمہ داری نہیں بلکہ مقامی حکومتوں اور بلدیاتی نظام سمیت تمام متعلقہ اداروں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان سے کراچی تک سیوریج کے پانی کو مؤثر طریقے سے ٹریٹ کرنے کا نظام ایک بڑا چیلنج ہے۔ اگر سیوریج کا پانی پینے کے صاف پانی میں شامل ہو جائے تو یہ مختلف بیماریوں کے پھیلاؤ کا سبب بن سکتا ہے، لہٰذا صحت کے مسائل کے حل کے لئے پانی، نکاسی آب اور صفائی کے نظام کو بھی صحت عامہ کی پالیسی کا حصہ بنانا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ہیپاٹائٹس سی کے تقریباً ایک کروڑ 10 لاکھ مریض موجود ہیں اور ملک کو اس حوالے سے انتہائی سنگین صورتحال کا سامنا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ہیپاٹائٹس سی کی بروقت تشخیص اور علاج نہ ہو تو یہ بیماری جگر کے سرطان سمیت سنگین پیچیدگیوں کا باعث بن سکتی ہے۔
سید مصطفیٰ کمال نے نے صحت کے شعبے کو قومی سلامتی اور قومی معیشت سے براہِ راست منسلک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر ملک کی بڑی آبادی بیماریوں کا شکار ہو تو اس کے اثرات صرف ہسپتالوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ ملکی پیداواری صلاحیت، روزگار، خاندانوں کی آمدنی اور مجموعی معیشت بھی متاثر ہوتی ہے۔ انہوں نے کورونا وائرس کی عالمگیر وبا کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ دنیا نے دیکھا کہ ایک ہی وقت میں بڑی تعداد میں لوگوں کے بیمار ہونے اور ہسپتالوں کا رخ کرنے سے امریکا، یورپ، برطانیہ، چین اور دیگر خطوں کے صحت کے نظام شدید دباؤ کا شکار ہوئے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اگرچہ اس وقت کوئی عالمی وبا نہیں، تاہم مختلف بیماریوں کے مجموعی بوجھ کے باعث ایک ہی وقت میں بڑی تعداد میں مریض ہسپتال پہنچ رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جہاں ہسپتالوں کی او پی ڈی میں ساڑھے تین سے چار سو افراد کے لئے گنجائش بنائی گئی ہے، وہاں بعض اوقات ساڑھے نو ہزار افراد پہنچ رہے ہیں جسے کوئی بھی ہسپتال انتظامیہ مؤثر انداز میں نہیں سنبھال سکتی۔
انہوں نے کہا کہ اس صورتحال سے نمٹنے کے لئے بیماریوں کی جڑ تک پہنچ کر روک تھام کی پالیسی اپنانا ہوگی۔انہوں نے کہا کہ ہسپتالوں میں مریضوں کے علاج کو بنیادی طور پر ’’سِک کیئر‘‘ کہا جا سکتا ہے جبکہ حقیقی صحت عامہ کا تقاضا یہ ہے کہ لوگوں کو بیمار ہونے سے پہلے بیماریوں سے محفوظ رکھا جائے۔ صحت کی سہولیات کا آغاز ہسپتال سے نہیں بلکہ گھر، خاندان اور معاشرے سے ہوتا ہے۔انہوں نے ذیابیطس سے بچاؤ اور آگاہی کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہا کہ صحت مند طرزِ زندگی کے حوالے سے شعور بچوں کی تعلیم اور اسکول کی سطح سے پیدا کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی ذمہ داریاں اپنی جگہ ہیں تاہم فرد کو بھی اپنی صحت کی ذمہ داری خود اٹھانا ہوگی۔ سید مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ذیابیطس کو کئی دیگر بیماریوں کی جڑ قرار دیا جاتا ہے اور اس کی بروقت تشخیص انتہائی اہم ہے۔
انہوں نے بتایا کہ تقریباً تین کروڑ 40 لاکھ افراد کی اس حوالے سے سکریننگ ہو چکی ہے جبکہ اندازے کے مطابق مزید 90 لاکھ سے ایک کروڑ افراد ایسے ہیں جن کی اسکریننگ ابھی نہیں ہوئی۔انہوں نے بتایا کہ حکومت نے ذیابیطس کی سکریننگ کے لئے 6.8 ارب روپے کا منصوبہ شروع کیا ہے جس کا آغاز اسلام آباد سے کیا جا رہا ہے اور بعد ازاں صوبوں کو بھی اس پروگرام میں شامل کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو صحت کے شعبے میں صرف بیماری کے علاج پر وسائل خرچ کرنے کے بجائے بیماریوں کی روک تھام، بروقت تشخیص، صاف پانی، صفائی، غذائیت، ماں اور بچے کی صحت اور عوامی آگاہی پر سرمایہ کاری کرنا ہوگی، کیونکہ صحت مند آبادی ہی مضبوط معیشت اور محفوظ مستقبل کی بنیاد بن سکتی ہے۔








