صدرمملکت ڈاکٹر عارف علوی کی زیر صدارت ٹریڈ ڈپلومیسی اور پاکستانی آم کو عالمی منڈیوں میں برآمد کے فروغ کے حوالہ سے اجلاس

اسلام آباد ۔ 25 جون (اے پی پی) صدرمملکت ڈاکٹر عارف علوی نے وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق (این ایف ایس آر) کو ہدایت کی ہے کہ آم کی برآمدات میں اضافہ کیلئے جامع حکمت عملی مرتب کی جائے، آم کی برآمدات میں اضافہ کیلئے ویلیو ایڈیشن اور مارکیٹنگ کی جارحانہ حکمت عملی کی ضرورت ہے تاکہ پاکستانی آم کی برآمدات کیلئے نئی منڈیوں تک رسائی حاصل کی جا …

اسلام آباد ۔ 25 جون (اے پی پی) صدرمملکت ڈاکٹر عارف علوی نے وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق (این ایف ایس آر) کو ہدایت کی ہے کہ آم کی برآمدات میں اضافہ کیلئے جامع حکمت عملی مرتب کی جائے، آم کی برآمدات میں اضافہ کیلئے ویلیو ایڈیشن اور مارکیٹنگ کی جارحانہ حکمت عملی کی ضرورت ہے تاکہ پاکستانی آم کی برآمدات کیلئے نئی منڈیوں تک رسائی حاصل کی جا سکے۔ ایوان صدر میڈیا آفس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے ان خیالات کا اظہار ٹریڈ ڈپلومیسی اور بہترین معیار کے پاکستانی آم کو عالمی منڈیوں میں متعارف کرانے اور آم کی قومی برآمدات کے فروغ کے حوالہ سے ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ و تحقیق سیّد فخر امام، سیکرٹری خارجہ سہیل محمود، سیکرٹری تجارت یوسف نسیم کھوکھر، چیئرمین پی اے آر سی ڈاکٹر محمد عظیم، سیکرٹری ہوا بازی حسن ناصر جامی اور آل پاکستان فروٹس اینڈ ویجیٹیبل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے سرپرست اعلیٰ وحید احمد نے شرکت کی۔ سیّد فخر امام نے آم کے کاشتکاروں اور برآمد کنندگان کو درپیش مسائل کے حوالہ سے صدر کو بریفنگ دی۔ انہوں نے بہترین زرعی طریقہ کار کے تحت آم کی پیداوار میں اضافہ کی ضرورت پر زور دیا۔ صدر ڈاکٹر عارف علوی نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان کو مارکیٹنگ کی موجودہ حکمت عملی بہتر بنانے کی ضرورت ہے تاکہ پاکستانی آم کی برآمدات میں اضافہ کیا جا سکے۔ صدر مملکت نے کہا کہ آم کی برآمدات میں اضافہ کی وسیع گنجائش ہے۔ انہوں نے متعلقہ وزارتوں کو ہدایت کی کہ کاشتکاری کی جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے فروغ اور انسانی وسائل کی تربیت کے ذریعے آم کی برآمدات کی موجودہ سہولیات کی اپ گریڈیشن کیلئے مو¿ثر اقدامات کئے جائیں جس سے آم کی ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ ہو گا۔ انہوں نے آم کے کاشتکاروں، برآمد کنندگان اور متعلقہ وزارتوں اور اداروں کے بہتر اشتراک کار کی ضرورت پر زور دیا جس سے زرعی مصنوعات کی برآمدات کے فروغ میں مدد حاصل کی جا سکتی ہے۔

مزید خبریں