صدر شی جن پنگ نے پیرو میں چینی امداد سے تعمیر ہونے والی پہلی بندرگاہ کا افتتاح کیا

لیما۔15نومبر (اے پی پی):چین کے صدر شی جن پنگ نے لاطینی امریکی ملک پیرو میں چین کی مالی معاونت سےتعمیر ہونے والی پہلی بندرگاہ کا افتتاح کردیا،اس پر 3.5 ارب ڈالر لاگت آئی ہے۔فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق صدر شی جن پنگ نے جمعرات کو چین کی پیرو میں لاطینی امریکا کی پہلی چینی امداد سے چلنے والی بندرگاہ کا افتتاح کیا جو براعظم پر بیجنگ کے …

لیما۔15نومبر (اے پی پی):چین کے صدر شی جن پنگ نے لاطینی امریکی ملک پیرو میں چین کی مالی معاونت سےتعمیر ہونے والی پہلی بندرگاہ کا افتتاح کردیا،اس پر 3.5 ارب ڈالر لاگت آئی ہے۔فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق صدر شی جن پنگ نے جمعرات کو چین کی پیرو میں لاطینی امریکا کی پہلی چینی امداد سے چلنے والی بندرگاہ کا افتتاح کیا جو براعظم پر بیجنگ کے بڑھتے اثر و رسوخ کی علامت ہے ۔ 3.5 ارب ڈالر کی لاگت سے تعمیر ہونے والی یہ بندرگاہ دارالحکومت لیما کے شمال میں تقریباً 80 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے،اس نے ایسے وقت میں چینی تجارت کے ایک بڑے مرکز کے طور پر کام کرنا ہے جب ڈونلڈ ٹرمپ کی دوبارہ وائٹ ہاؤس میں واپسی کے بعد ایشیائی مصنوعات پر ٹیرف میں اضافے کا خطرہ ہے۔

بندرگاہ کی افتتاحی تقریب میں پیرو کے صدر ڈینا بولارٹے نے لیما سے شرکت کی، جہاں وہ جمعہ اور ہفتہ کو ایشیا پیسیفک اکنامک کوآپریشن (اے پی ای سی ) کے سربراہی اجلاس میں شرکت کریں گے۔ پیرو کے صدر ڈینا بولارٹے نے کہا کہ چین ہماری معیشت کی ترقی میں ایک اہم کردار ادا کر رہا ہے۔صدر شی نے اپنے خطاب میں چین اور جنوبی امریکا کے درمیان رابطے کو فروغ دینے کا عزم ظاہر کیا۔ واضح رہے کہ پیرو گزشتہ دہائی میں لاطینی امریکا کی سب سے تیزی سے ترقی کرنے والی معیشتوں میں سے ایک ہے جبکہ یہ چین کا چوتھا سب سے بڑا لاطینی امریکی تجارتی پارٹنر ہے، ان کی دوطرفہ تجارت کا حجم2023 میں تقریباً 36 بلین ڈالر رہا۔