اسلام آباد ۔ یکم جون(اے پی پی) صدر مملکت ممنون حسین نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے اپنے خطاب میں مسئلہ کشمیر کا واحد حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت استصواب رائے کو قرار دیا۔ جمعرات کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کے دوران انہوں نے کہا کہ بھارت کے ساتھ تمام مسائل بات چیت کے ذریعے حل کرنا چاہتے ہیں لیکن اس سلسلے میں ہماری پرخلوص پیشکش …
صدر مملکت نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب میں اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت استصواب رائے کو مسئلہ کشمیر کا واحد حل قرار دیا

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ یکم جون(اے پی پی) صدر مملکت ممنون حسین نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے اپنے خطاب میں مسئلہ کشمیر کا واحد حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت استصواب رائے کو قرار دیا۔ جمعرات کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کے دوران انہوں نے کہا کہ بھارت کے ساتھ تمام مسائل بات چیت کے ذریعے حل کرنا چاہتے ہیں لیکن اس سلسلے میں ہماری پرخلوص پیشکش کا جواب اسی جذبے سے نہ دیئے جانے پر افسوس ہے بلکہ خطے میں جاسوسی اور تخریب کاری جیسی ناپسندیدہ سرگرمیوں کو فروغ دے کر حالات خراب کئے گئے۔ جس کا ثبوت پاک سرزمین پر بھارتی جاسوس کی گرفتاری اور اس کے اعترافی بیان سے ملتا ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان بنیادی اختلاف جموں و کشمیر کا مسئلہ ہے۔ پاکستان اپنے کشمیری بھائیوں کی سیاسی‘ سفارتی اور اخلاقی حمایت ہمیشہ جاری رکھے گا۔ بھارت لائن آف کنٹرول پر مسلسل جارحیت کا مظاہرہ کر رہا ہے جس سے بے گناہ کشمیریوں کے جانی و مالی نقصان کا بڑے پیمانے پر سلسلہ جاری ہے۔








