صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا بحریہ یونیورسٹی میں کانفرنس سے خطاب

اسلام آباد ۔ 6 مارچ (اے پی پی) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے نوجوانوں کو جدید دور کے تقاضوں کے مطابق ڈیجیٹل کمیونیکیشن کے میدان میں دستیاب مواقع سے استفادہ کرنے اور نیا پاکستان کے مقاصد کے حصول کے لئے سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبوں میں آگے بڑھنے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان سائنس کے شعبہ میں تیزی سے ترقی کررہا ہے، جامعات تعلیمی نصاب کو …

اسلام آباد ۔ 6 مارچ (اے پی پی) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے نوجوانوں کو جدید دور کے تقاضوں کے مطابق ڈیجیٹل کمیونیکیشن کے میدان میں دستیاب مواقع سے استفادہ کرنے اور نیا پاکستان کے مقاصد کے حصول کے لئے سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبوں میں آگے بڑھنے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان سائنس کے شعبہ میں تیزی سے ترقی کررہا ہے، جامعات تعلیمی نصاب کو عالمی معیار کے مطابق بنائیں جبکہ ہمیں مختلف شعبہ جات میں ٹیکنالوجی کے استعمال کو مزید فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے یہ بات بدھ کو یہاں بحریہ یونیورسٹی میںمواصلات، کمپیوٹنگ اور ڈیجیٹل نظام کے بارے میں دو روزہ کانفرنس کی افتتاحی نشست سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اس کانفرنس کا مقصد اساتذہ، ریسرچ کے اداروں اور صنعت کے لئے بین الاقوامی فورم فراہم کرنا ہے تاکہ وہ اپنا علم، تجربات اور تحقیقات کے ذریعے اس میں حصہ لیں، یہ مواصلات، کمپیوٹنگ اور ڈیجیٹل نظاموں کے شعبوں میں تازہ ترین ایجادات اورچیلنجوں پر تبادلہ خیال کرنے کےلئے ایک منفرد پلیٹ فارم فراہم کرتی ہے۔ کانفرنس تکنیکی سیشنز، مدعو کردہ ممتاز سپیکرز کی گفتگو اور پینل مباحثیوں پر مشتمل ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ ڈیجیٹل مواصلات، اعلیٰ سطح کی کمپیوٹنگ، معلومات کی سیکورٹی اور مصنوعی انٹیلی جنس ہمارا مستقبل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نوجوان اور باصلاحیت افراد کا ملک ہے، مجھے یقین ہے کہ مناسب وسائل، رہنمائی اور اعتماد فراہم کرنے کے ذریعے ہمارے نوجوانوں کو اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنے اور معاشرے کی بہتری کے لئے انتہائی اہم کردار ادا کرنے کی صلاحیت پیدا کی جا سکتی ہے“۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کی حکومت اس حقیقت سے اچھی طرح واقف ہے اور اسی وجہ سے انسانی وسائل کی ترقی اور اس کی مینجمنٹ کے تمام پہلوو¿ں پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔ صدر نے اس امر پرزور دیا کہ جامعات تعلیمی نصاب کو عالمی معیارکے مطابق بنائیں اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کریں۔ انہوں نے کہاکہ اس ضمن میں نوجوانوں کو آنے والے وقت کی ضروریات کے مطابق تیار کیا جائے تا کہ وہ ہر شعبہ زندگی میں اپنا مناسب کردار اد اکرسکیں۔ ڈاکٹر عارف علوی نے کہاکہ پاکستان سائنس کے میدان میں تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔ ہمیں انتخابی عمل سمیت مختلف شعبوں میں ٹیکنالوجی کے استعمال کو مزید فروغ دینا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ سائنس اور مواصلات کے شعبوں میں انقلاب برپا ہوچکے ہیں اور جدید ٹیکنالوجی سے مواصلاتی رابطوں میں بہت آسانی پیدا ہوئی ہے۔ دنوں کا کام منٹوں میںہو رہا ہے۔ انہوں نے سائنس اور مواصلات سے اپنے پرانے ناطے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ میں نے نظام زندگی میں ہمیشہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو ترجیح دی۔ پیشہ وارانہ زندگی میں بھی سائنس میگزین کا مطالعہ میرا شوق تھا۔ صدر مملکت نے کہا کہ انہوں نے 1980ءکی دہائی کے اوائل سے سے کمپیوٹر استعمال کرنا شروع کیا اور بعد ازاں تنظیمی امور میں رابطے کے لئے سمارٹ فون کو استعمال کرتے رہے اور اس طرح روز مرہ زندگی میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال ان کی ترجیحی رہی۔ صدر نے اس اہم موضوع پر کانفرنس کے کامیاب انعقاد پر بحریہ یونیورسٹی کو مبارکباد دیتے ہوئے کہاکہ سائنس و ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل سسٹمز اور مواصلات کے شعبوں پر توجہ مرکوز کرنا وقت کا تقاضا ہے۔ اس ضمن میں کانفرنس کا انعقاد خوش آئند ہے جس سے بالخصوص نوجوانوں کو سیکھنے اور استفادہ کرنے کا موقع میسرآئے گا۔قبل ازیں ریکٹر بحریہ یونیورسٹی وائس ایڈمرل (ر) محمد شفیق ایچ آئی (ایم) نے کہا کہ اس کانفرنس کا بنیادی مقصد عالمی شہریت کے خیال کو مقبولیت دینا ہے اور قومیت کے دور کو عالمیت کی طرف منتقل کرنے کےلئے ایک محرک فراہم کرنا ہے جو طالب علموں کو ان کی زندگی اور ماحول کو تشکیل دینے میں مدد فراہم کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس کانفرنس کا مرکزی نقطہ سائبر سکیورٹی رکھا گیا ہے کیونکہ سائبر سپیس کا عام لوگوں پر اثر غیر معمولی حیثیت اختیار کر تا جا رہا ہے۔ اس کانفرنس کو کمپیوٹنگ، مواصلات اور ڈیجیٹل سسٹمز کے شعبوں میں چیلنجوں اور مواقع کا احاطہ کرتے ہوئے مختلف موضوعات کے حوالہ سے تقسیم کیا گیا ہے۔ کانفرنس کے کلیدی مقررین میں یونیورسٹی آف ساو¿تھ ویلز، برطانیہ کے پروفیسر ڈاکٹر جوناتھن اینڈریو ویر، انسٹیوٹ آف ٹیکنالوجی، آسٹریا کے ڈاکٹر گیرہارڈ زکر اور پولی ٹیکنک یونیورسٹی آف ویلینسیا، سپین کے ڈاکٹر جیمی لوریٹ نے بھی تعلیمی اداروں میں ایک عالمی نصاب کی تشکیل پر روشنی ڈالی۔ کانفرنس کے سپیکرز نے مواصلات، کمپیوٹنگ اور ڈیجیٹل سسٹمز پر اپنے متعلقہ ریسرچ مضامین پیش کئے۔ کانفرنس میں برطانیہ، آسٹریا، سپین، کوریا، امریکہ، اٹلی، پرتگال، انڈونیشیا اور پاکستان کے ممتاز معروف مقررین نے حصہ لیا۔ پروفیسر انجینئر ڈاکٹر نجم الاسلام ڈین فیکلٹی آف انجینئرنگ سائنسز بحریہ یونیورسٹی نے شرکاءکا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ بحریہ یونیورسٹی ملک میں تحقیقات کے کلچر کو فروغ دینے پر خصوصی توجہ دیتی ہے اور علم پر مبنی معیشت کے حوالہ سے اپنی ذمہ داری کو احسن طور پر یقینی بناتی ہے۔

Leave a Reply