صدر مملکت کا راول انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ سائنسز اسلام آباد کے پہلے کانوووکیشن سے خطاب

اسلام آباد ۔ 6 مارچ (اے پی پی) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے بیماریوں سے بچاﺅ کی حفاظتی تدابیر کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا ہے کہ بیماریوں کی بروقت تشخیص سے بہتر علاج معالجہ میں مدد ملتی ہے، ڈاکٹروںکو انسانی خدمت کے جذبے سے سرشار ہو کر علاج کے ساتھ ساتھ بیماریوں سے بچاﺅ کا شعور بھی اجاگر کرنا چاہیے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ …

اسلام آباد ۔ 6 مارچ (اے پی پی) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے بیماریوں سے بچاﺅ کی حفاظتی تدابیر کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا ہے کہ بیماریوں کی بروقت تشخیص سے بہتر علاج معالجہ میں مدد ملتی ہے، ڈاکٹروںکو انسانی خدمت کے جذبے سے سرشار ہو کر علاج کے ساتھ ساتھ بیماریوں سے بچاﺅ کا شعور بھی اجاگر کرنا چاہیے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو کنونشن سنٹر میں راول انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ سائنسز اسلام آباد کے پہلے کانوووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ صدرمملکت ڈاکٹر عارف علوی نے فارغ التحصیل ہونے والے طلباءوطالبات اور ان کے اساتذہ کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ طب کے شعبہ میں طلباءو طالبات نے جو محنت کی ہے اس کا ثمر انہیں مل رہا ہے تاہم انہوں نے اس امر پر زور دیاکہ جس بھی ذمہ داری کا حلف اٹھائیں اس پر پورا اتریں۔ میں نے بحیثیت ایم این اے اور صدر مملکت ایک حلف اٹھایا ہے اور اس پر عمل پیرا ہونے کی کوشش کرتا ہوں، نوجوان ڈاکٹروں کو بھی چاہیے کہ وہ دکھی انسانیت کی خدمت کرکے اپنے حلف کی پاسداری کی بھرپور کوشش کریں۔ انہوں نے کہا کہ آج کامیاب ہونے والے طلباءو طالبات کی محنت میں جہاںوالدین اور اساتذہ کی محنت شامل ہے وہیں اس ملک کا بھی احسان ہے، اس ملک نے انہیں بہت کچھ دیا ہے، کامیاب زندگی گزارنے کے لئے ملک کا احسان کبھی دل سے نہیں اترنا چاہیے۔ انہوں کا کہنا تھا کہ علم تو حاصل کر لیا جاتا ہے اس کے بعد مذہب بھی کچھ ذمہ داریاں عائد کرتا ہے، قرآن پاک کی نزول ہونے والی پہلی آیت میں بھی تعلیم پر زور دیا گیا اور قرآن پاک میںجگہ جگہ علم حاصل کرنے کا حکم دیاگیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ طب کا شعبہ صرف کمائی کا ذریعہ نہیں ہونا چاہیے بلکہ ڈاکٹر کے مریض سے خدمت اور ہمدردی کا رشتہ قائم ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہاکہ انسان مرنے کے بعد بھی تین طر ح کے کام اس کے لئے باعث اجر ہوتے ہیں جس میں صالح اولاد، کارخیر میں حصہ ڈالنا اور علم کو دوسروں میں بانٹنا شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ علم حاصل کرنا اور علم نہ حاصل کرنا برابر نہیں ہوتا جو علم حاصل کرتا ہے اس کی ذمہ داریاں بڑھ جاتی ہیں۔ علم ایک قیمتی چیز ہے جو خوش قسمت لوگوں کو ملتی ہے جس کا فائدہ مستقبل کی عملی زندگی میں ہوتا ہے۔ علم کا بہترین استعمال دوسروںکو سکھانا اور اچھائی پیداکرنا ہے۔ انہوں نے کہاکہ شعبہ طب انسانی خدمت کی لازوال مثال ہے، ڈاکٹر میں جتنا خدمت کا جذبہ ہو گا اتنی اس کے ہاتھ میں شفا ہو گی، ڈاکٹر انسانی تکلیف میں کمی کرتا ہے جس کا بہت اجر ہے۔ صدر نے کہاکہ میری والدہ مجھے اکثر کہا کرتی تھیں کہ اللہ تعالیٰ ڈاکٹر کے ہاتھ میں اس وقت شفا دیتا ہے جب ڈاکٹر کا مریض کے ساتھ فکر کا رشتہ مضبوط ہوتا ہے۔ صدر نے شعبہ طب سے وابستہ افراد پر زور دیتے ہوئے کہا کہ طب کے شعبہ میں مہارت کی انتہائی اہمیت ہے، ڈاکٹر کو علاج کے ساتھ ساتھ بیماریوں سے بچاﺅ کے لئے آگاہی بھی پیدا کرنی چاہیے، ڈاکٹر خود معاشرے کی تکالیف کو محسوس کریں اور انسانی خدمت کے جذبے سے سرشار ہو کر دکھی انسانیت کی خدمت کریں، یہی کوشش معاشرے کو بیماریوں سے دور رکھ سکتی ہے۔ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علی نے صفائی کی اہمیت کا اجاگر کرتے ہوئے کہاکہ اسلام میں صفائی کو نصف ایمان قرار دیاگیا ہے، طہارت بیماریوں سے دور رکھتی ہے اور طہارت و صفائی سے متعدد بیماریوں سے بچا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ بیماریوں کی جلد تشخیص سے بہتر علاج ممکن ہوتا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق دنیا کے مقابلہ میں پاکستان میں بیماریوں سے اموات کی شرح بہت زیادہ ہے۔ ہمیں بیماریوں سے بچاﺅ کی حفاظتی تدابیر پر بھی عمل کرنا ہوگا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ بریسٹ کینسر سمیت دیگر موذی امراض کی جلد تشخیص کے لئے کوشیشں کی جائیں اور تمباکو نوشی جیسی چیزیں جو موذی امراض کا موجب ہیں ان سے دور رہا جائے۔

Leave a Reply