اسلام آباد ۔ 9 اپریل (اے پی پی) پی ٹی آئی آزاد کشمیر کے صدر بیرسٹر سلطان محمود چودھری نے بھارتی فوج کی طرف سے مقبوضہ کشمیر میں جاری قتل عام اور لائن آف کنٹرول کی مسلسل خلاف ورزیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج دنیا کورونا وائرس جیسی مہلک وبا سے مقابلے میں مصروف ہے لیکن بدقسمتی سے بھارتی حکومت اور اس کی فوج آج بھی …
صدر پی ٹی آئی آزاد کشمیر بیرسٹر سلطان محمود چودھری کی بھارتی فوج کی طرف سے مقبوضہ کشمیر میں جاری قتل عام اور لائن آف کنٹرول کی مسلسل خلاف ورزیوں کی مذمت

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 9 اپریل (اے پی پی) پی ٹی آئی آزاد کشمیر کے صدر بیرسٹر سلطان محمود چودھری نے بھارتی فوج کی طرف سے مقبوضہ کشمیر میں جاری قتل عام اور لائن آف کنٹرول کی مسلسل خلاف ورزیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج دنیا کورونا وائرس جیسی مہلک وبا سے مقابلے میں مصروف ہے لیکن بدقسمتی سے بھارتی حکومت اور اس کی فوج آج بھی فسطائی حربوں سے باز نہیں آرہی اور مقبوضہ جموں وکشمیرکے آزادی پسند نوجوانوں کو چن چن کر شہید کررہی ہے جو کہ نہ صرف تشویشناک ہے بلکہ پرامن جدوجہد آزادی کے ہر راستے کو مسدور کرنے کی ایک مذموم کوشش ہے۔ بی بی سی کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک سو دنوں میں ساٹھ سے زائد نوجونوں کو شہید کیاگیا۔ اس بھارتی رویے نے جنوبی ایشیا کے امن کو داؤ پر لگا دیا ہے۔ اگر مقبوضہ کشمیر میں اسی طرح قتل عام جاری رہا، شہریوں کے مکانوں کو جلایاجاتارہا تو ہم خاموش تماشائی بن کر نہیں رہیں گے اور ہر قسم کا ردعمل دیکھانے کے لیے آزاد ہوں گے۔ بھارتی حکومت نے حالیہ دنوں میں کشمیر میں ڈومیسائل کے قانون میں تبدیلی کرکے ہمارے ان خدشات کی تصدیق کردی ہے کہ وہ ریاست جموں وکشمیر میں آبادی کے تناسب کو بگاڑنے اور مسلمانوں کو اقلیت میں بدلنے کی مذموم کوششوں میں مصروف ہے جو کہ ایک بین الاقوامی جرم ہے۔بیرسٹر سلطان محمود نے کہا کہ کشمیری کسی قیمت پر ریاست میں دوسرے درجے کے شہری کا اسٹیٹس قبول نہیں کریں گے۔ اپنی زمینیں فروخت کریں گے اورنہ غیرریاستی باشندوں کی آباد کاری کی اجازت دیں گے۔لائن آف کنٹرول پر جاری خلاف ورزیوں پر تبصرہ کرتے ہوئے بیرسٹر سلطان نے کہا کہ یہ وقت تھا کہ بھارت کشمیریوں سے ہمدردی ظاہر کرتا اور پہلے سے تشدد زدہ اور فائرنگ سے متاثرہ علاقوں میں لوگوں کو امن سے رہنے دیتا لیکن چونکہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور بھارتیہ جنتاپارٹی کو انسانیت اور شہریوں کی فلاح وبہبودسے غرض نہیں اس لیے انہوں نے عالمی وبا کے باوجود بھی اپنے سیاسی اور فسطائی ایجنڈے پر عمل درآمد جاری رکھا ہوا ہے۔ اسی لیے جیلوں میں محبوس سینکڑوں کشمیری سیاسی کارکنوں کو رہا نہیں کیاجارہاہے اور انہیں کرونا وائرس کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ کرونا کے خطرے سے بچنے کے لیے انٹرنیٹ کی ضرورت آج جس قدر ہے پہلے کبھی نہ تھی لیکن اس کے باوجود آج بھی کشمیری فور جی انٹرنٹ سروس سے محروم ہیں۔ اس طرح عام کشمیریوں کو روزگار، علاج اور ڈاکٹروں تک رسائی سے بھی محروم کردیا گیاہے جو کہ عالمی قانون کے مطابق ایک سنگین جرم ہے۔انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف حکومت پاکستان کے اشتراک سے بھارت کے اس طرزعمل کو بے نقاب کرنے کے لیے پوری دنیا میں مہم چلائے گی اورکسی بھی قیمت پر بھارتی قبضے کو قبول نہیں کرے گی۔








