صوبائی وزیر لائیو اسٹاک کا حیدرآباد میں مختلف اداروں کا دورہ، بارکوڈ کے بغیر ویکسین اور ادویات کے استعمال پر پابندی

حیدرآباد۔ 13 جولائی (اے پی پی):صوبائی وزیر لائیو اسٹاک اینڈ فشریز محمد علی ملکانی نے پیر کے روز حیدرآباد میں اینیمل سائنس کمپلیکس، پولٹری ٹریننگ سینٹر، ڈائریکٹوریٹ آف اینیمل بریڈنگ، کولڈ اسٹوریج، عالمی بینک کے تعاون سے جاری سندھ لائیو اسٹاک اینڈ ایکوا کلچر ڈویلپمنٹ پراجیکٹ اور سینٹرل ویٹرنری ڈائگناسٹک لیبارٹری کا دورہ کیا اور مختلف شعبوں کی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر سیکرٹری لائیو اسٹاک اینڈ فشریز …

حیدرآباد۔ 13 جولائی (اے پی پی):صوبائی وزیر لائیو اسٹاک اینڈ فشریز محمد علی ملکانی نے پیر کے روز حیدرآباد میں اینیمل سائنس کمپلیکس، پولٹری ٹریننگ سینٹر، ڈائریکٹوریٹ آف اینیمل بریڈنگ، کولڈ اسٹوریج، عالمی بینک کے تعاون سے جاری سندھ لائیو اسٹاک اینڈ ایکوا کلچر ڈویلپمنٹ پراجیکٹ اور سینٹرل ویٹرنری ڈائگناسٹک لیبارٹری کا دورہ کیا اور مختلف شعبوں کی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر سیکرٹری لائیو اسٹاک اینڈ فشریز ڈاکٹر کاظم حسین جتوئی، ڈائریکٹر جنرل لائیو اسٹاک ڈاکٹر حزب اللہ بھٹو، ڈائریکٹر جنرل سندھ انسٹیٹیوٹ آف اینیمل ہیلتھ ڈاکٹر نظیر حسن کلہوڑو، ڈائریکٹر جنرل فارمز اینڈ ایکسٹینشن ڈاکٹر مبارک جتوئی، ڈائریکٹر جنرل ان لینڈ فشریز عبداللطیف کورائی، ڈائریکٹر جنرل پولٹری پروڈکشن سید صلاح الدین شاہ، ڈائریکٹر جنرل میرین فشریز ڈاکٹر عاصم کریم، ڈائریکٹر اینیمل بریڈنگ ڈاکٹر جمال الدین جونیجو، ڈائریکٹر اینیمل ہسبنڈری ڈاکٹر نوبت خان کھوسو، ڈائریکٹر فارمز جے دیو، حسن درس اور دیگر افسران بھی ان کے ہمراہ تھے۔

صوبائی وزیر نے مویشیوں میں استعمال ہونے والی ویکسین اور ادویات کے بارے میں بریفنگ لی اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ بارکوڈ کے بغیر کسی بھی دوا یا ویکسین کو استعمال میں نہ لایا جائے۔ انہوں نے مصنوعی افزائش نسل کے پروگرام کا بھی جائزہ لیا اور متعلقہ افسران سے اس کی پیش رفت سے متعلق تفصیلات طلب کیں۔ محمد علی ملکانی نے کولڈ اسٹوریج کے انتظامات کا معائنہ کرتے ہوئے ضروری ہدایات جاری کیں اور افسران پر زور دیا کہ وہ دفتری کارروائیوں کے بجائے عملی میدان میں کارکردگی دکھائیں۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ لائیو اسٹاک کے افسران اور عملہ حکومت کی پالیسی اور دی گئی ہدایات کے مطابق فرائض انجام دیں تاکہ مویشی پال حضرات کو زیادہ سے زیادہ سہولیات اور فوائد فراہم کیے جا سکیں۔