ضائع ہونے والی ونڈ انرجی کو منافع بخش توانائی میں بدلنے کی ضرورت ہے،ماہرین توانائی

اسلام آباد۔17جنوری (اے پی پی):توانائی کے ماہرین اور پالیسی سازوں نے کہا ہے کہ اگر ونڈ اور سولر انرجی کو مختلف صنعتی اور اقتصادی شعبوں کے ساتھ مربوط کیا جائے تو نہ صرف ضائع ہونے والی بجلی کو منافع میں بدلا جا سکتا ہے بلکہ روزگار کے نئے مواقع اور برآمدی آمدنی میں اضافہ بھی ممکن ہے۔ یہ باتیں پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی (ایس ڈی پی آئی) کے پاکستان …

اسلام آباد۔17جنوری (اے پی پی):توانائی کے ماہرین اور پالیسی سازوں نے کہا ہے کہ اگر ونڈ اور سولر انرجی کو مختلف صنعتی اور اقتصادی شعبوں کے ساتھ مربوط کیا جائے تو نہ صرف ضائع ہونے والی بجلی کو منافع میں بدلا جا سکتا ہے بلکہ روزگار کے نئے مواقع اور برآمدی آمدنی میں اضافہ بھی ممکن ہے۔

یہ باتیں پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی (ایس ڈی پی آئی) کے پاکستان میں ونڈ کرٹلمنٹ: سیکٹر کپلنگ کے ذریعے آگے کا راستہ کے موضوع پر منعقدہ ویبنارمیں مقررین نے کہیں ۔ ایس ڈی پی آئی کے انرجی یونٹ کے سربراہ انجینئر عبید الرحمن ضیا نے بتایا کہ پاکستان میں سستی ونڈ انرجی کا بڑھتا ہوا حصہ ضائع ہو رہا ہے کیونکہ سسٹم اسے صحیح طریقے سے استعمال کرنے کے قابل نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ سیکٹر کپلنگ ونڈ پاور کو صرف گرڈ کے لئے بجلی کے بجائے مختلف صنعتی اور اقتصادی شعبوں میں توانائی کے ایک اہم ذریعہ کے طور پر استعمال کرنے کا نیا نظریہ پیش کرتی ہے جس سے ضائع ہونے والی بجلی کو منافع میں بدلا جا سکتا ہے، توانائی کی افادیت بڑھے گی اور سرکلر ڈیٹ کم ہوگا۔ونڈ انرجی کے ماہر عرفان احمد نے کہا کہ کرٹلمنٹ صرف ونڈ پروجیکٹس کا نقصان نہیں بلکہ یہ قومی نقصان ہے کیونکہ کم بجلی کی ترسیل سے ٹیرف کم ہوتا ہے اور ونڈ ٹربائنز پر دبائو پڑتا ہے جس سے آلات کی زندگی کم ہو جاتی ہے۔ بعض سرمایہ کار پہلے ہی دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری منتقل کر چکے ہیں۔

محمد حمزہ نعیم نے کہا کہ پاکستان کا مسئلہ بجلی پیداوار کا نہیں بلکہ گرڈ کی لچک اور توسیع کا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیکٹر کپلنگ کے لیے گرڈ کی منصوبہ بندی، مارکیٹ اصلاحات اور لچکدار ٹیرف کی ضرورت ہے۔تنویر افضل مرزا نے کہا کہ ضروری ونڈ پروجیکٹس کی کرٹلمنٹ ایک پالیسی تضاد ہے اور حکومت کی منصوبہ بندی اور صنعتی پالیسی میں سیکٹر کپلنگ کو شامل کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے پاکستان کے 180 کلومیٹر طویل ونڈ کوریڈور کی نشاندہی کی جو 50000 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔وزارت منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات کے ماہر عرفان احمدنے کہا کہ حکومت برآمدی معیشت کی بحالی کے لئے منصوبہ بندی کر رہی ہے اور سیکٹر کپلنگ توانائی کے مسائل حل کرنے کا صاف اور موثر موقع فراہم کرتی ہے۔

ایس ڈی پی آئی کے ماہرڈاکٹر خالد ولید نے مربوط توانائی، وسائل اور اقتصادی منصوبہ بندی کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ سیکٹر کپلنگ روزگار پیدا کر سکتی ہے،برآمدی آمدنی بڑھا سکتی ہے اور ہائیڈروجن، اسٹوریج ٹیکنالوجیز اور صنعتی بجلی کاری کے ذریعے بجلی کے نظام کو مستحکم کر سکتی ہے۔انہوں نے خاص اقتصادی زونزکے مواقع اور چین کی غیر فعال توانائی کی سرمایہ کاری کو پاکستان کی توانائی کی منتقلی کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کے امکانات پر بھی روشنی ڈالی۔