اسلام آباد۔17جنوری (اے پی پی):عالمی شہرت یافتہ پاکستانی مصور عبدالرحمٰن چغتائی کی برسی ہفتہ 17 جنوری کو منائی گئی۔ عبدالرحمٰن چغتائی21 ستمبر1897کو لاہور کے کوچہ چابک سواراں میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق عہدِ شاہ جہانی کے مشہور معمار خاندان سے تھا جس نے تاج محل آگرہ، جامع مسجد دہلی، اور لال قلعہ دہلی کے نقشے تیار کئے تھے۔عبدالرحمٰن چغتائی کے دادا رنجیت سنگھ کے میرِ تعمیرات رہے۔قیامِ پاکستان کے …
عالمی شہرت یافتہ پاکستانی مصور عبدالرحمٰن چغتائی کی برسی ہفتہ کو منائی گئی

مزید خبریں
اسلام آباد۔17جنوری (اے پی پی):عالمی شہرت یافتہ پاکستانی مصور عبدالرحمٰن چغتائی کی برسی ہفتہ 17 جنوری کو منائی گئی۔ عبدالرحمٰن چغتائی21 ستمبر1897کو لاہور کے کوچہ چابک سواراں میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق عہدِ شاہ جہانی کے مشہور معمار خاندان سے تھا جس نے تاج محل آگرہ، جامع مسجد دہلی، اور لال قلعہ دہلی کے نقشے تیار کئے تھے۔عبدالرحمٰن چغتائی کے دادا رنجیت سنگھ کے میرِ تعمیرات رہے۔قیامِ پاکستان کے بعد عبدالرحمٰن چغتائی نے پاکستان کا پہلا ڈاک ٹکٹ ڈیزائن کیا۔ ریڈیو پاکستان اور پاکستان ٹیلی ویژن کے مونوگرام بھی انہوں نے ہی ڈیزائن کئے جبکہ ملک میں مصوری کی پہلی نمائش بھی عبدالرحمٰن چغتائی کی تھی۔
عبدالرحمٰن نے مصوری کو پہلے مشغلے کے طور پر اختیار کیا اور پھر میوسکول آف آرٹس لاہور میں باقاعدہ داخلہ لیا اور 1914میں ڈرائینگ کا امتحان امتیازی حیثیت سے پاس کیا۔ اس دوران انہوں نے استاد میراں بخش سے خاصا استفادہ کیا۔وہ میو سکول میں مصوری کے استاد بھی رہے۔ 1919 میں لاہور میں بھارتی مصوری کی ایک نمائش نے ان کی طبیعت پر مہمیز کا کام کیا۔
انہوں نے اپنے پرنسپل کے مشورے پر اپنی تصاویر کلکتہ کے رسالے ’ماڈرن ریویو‘ میں اشاعت کیلئے بھیجیں۔ یہ تصاویر شائع ہوئیں تو ہر طرف ان کے فن کی دھوم مچ گئی۔ انہوں نے مصوری میں اپنے جداگانہ اسلوب کی بنیاد ڈالی جو بعد ازاں چغتائی آرٹ کے نام سے مشہور ہوا۔ عبدالرحمٰن چغتائی کو متعدد قومی و بین الاقوامی اعزازات اور ایوارڈز سے نوازا گیا۔ فن مصوری کا جگمگاتا ہیرا 17 جنوری 1975 میں لاہور میں انتقال کر گیا۔ عبدالرحمٰن چغتائی کی برسی کے موقع پر ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں خراج عقیدت پیش کیا گیا۔








