عالمی معاشی درجہ بندی کے ادارے موڈیز نے پاکستان کی معیشت پر اپنی تازہ رپورٹ جاری کر دی ، پاکستان کی آﺅٹ لک کو منفی سے بی تھری مستحکم قرار دیدیا

اسلام آباد ۔ 2 دسمبر (اے پی پی) عالمی معاشی درجہ بندی کے ادارے موڈیز نے پاکستان کی معیشت پر اپنی تازہ رپورٹ جاری کر دی ہے جس میں پاکستان کی آﺅٹ لک کو منفی سے بی تھری مستحکم کر دیا ہے ۔ پیر کو موڈیز کی طرف سے جاری ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکومت پاکستان نے بین الاقوامی ادائیگیوں کی صورتحال بہتر کی ہے۔ مثبت …

اسلام آباد ۔ 2 دسمبر (اے پی پی) عالمی معاشی درجہ بندی کے ادارے موڈیز نے پاکستان کی معیشت پر اپنی تازہ رپورٹ جاری کر دی ہے جس میں پاکستان کی آﺅٹ لک کو منفی سے بی تھری مستحکم کر دیا ہے ۔ پیر کو موڈیز کی طرف سے جاری ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکومت پاکستان نے بین الاقوامی ادائیگیوں کی صورتحال بہتر کی ہے۔ مثبت اقدامات کی بدولت معاشی صورتحال میں بہتری کے آثار نمایاں ہیں۔ پاکستان ایک بڑی معیشت ہے، زرمبادلہ کے ذخائر میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔ حکومتی پالیسیوں سے محسوس ہو رہا ہے کہ پاکستان کی ادائیگیوں کی صورتحال میں مزید بہتری آئے گی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکومت کے اقدامات کی وجہ سے بیرونی اقتصادی خطرات میں کمی آئے گی۔ موڈیز نے دوسرے پاکستان انٹرنیشنل سکوک کمپنی لمیٹڈ اور تھرڈ پاکستان انٹرنیشنل سکوک کمپنی لمیٹڈ کے حوالے سے بی تھری فارن کرنسی ریٹنگ کی تصدیق کی ہے۔ کرنٹ اکاﺅنٹ خسارے میں کمی، پالیسی فریم ورک اور دیگر اقدامات کی وجہ سے پاکستان میں معاشی صورتحال کے لئے بیرونی خطرات میں کمی رہے گی تاہم غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کو بڑھنے میں کچھ وقت لگے گا۔ رواں اور آئندہ مالی سال کے دوران بھی کرنٹ اکاﺅنٹ خسارے میں جی ڈی پی کے تقریباً 2.2 فیصد تک کمی جاری رہنے کا امکان ہے جو کہ مالی سال 2017-18ءمیں 6 فیصد سے زائد اور مالی سال 2018-19ءمیں تقریباً 5 فیصد تھا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پالیسی اقدامات اور دیگر وجوہات کی بناءپر ادائیگیوں کے توازن میں بہتری کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے۔ پاکستان کی بی اے تھری لوکل کرنسی بانڈ اور ڈیپازٹ سیلنگ میں تبدیلی نہیں کی گئی۔ بی ٹو فارن کرنسی بانڈ سیلنگ اور سی اے اے ون فارن کرنسی ڈیپازٹ سیلنگ بھی وہی رہے گی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ درآمدات میں کمی کرنٹ اکاﺅنٹ خسارے کو کم رکھنے میں اہم کردار ادا کرے گی جبکہ بجلی کے جاری منصوبوں کی تکمیل سے بھی درآمدات میں کمی آئے گی اور بجلی کی پیداوار میں ڈیزل کی بجائے کوئلہ، قدرتی گیس کے استعمال اور پن بجلی کی پیداوار کی وجہ سے بتدریج تیل کی درآمدات بھی کم ہوں گی۔ موڈیز نے کہا کہ پچھلے 18 ماہ کے دوران ایکسچینج ریٹ میں ردوبدل کی وجہ سے برآمدات میں بتدریج اضافے کی وجہ سے بھی کرنٹ اکاﺅنٹ خسارے میں کمی کی وجہ ہے۔ حکومت ملک کی تجارتی مسابقت بڑھانے کے لئے اقدامات کر رہی ہے اور حال ہی میں نیشنل ٹیرف پالیسی تیار کی گئی ہے جس کا مقصد برآمدات کے لئے سہولیات مہیاءکرنا ہے۔ اگر تجارت کے تناظر میں بہتری کے لئے اقدامات کئے جاتے ہیں تو اس سے برآمدات میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔ موڈیز نے کہا ہے کہ اسٹیٹ بینک کو مضبوط بنانے اور کرنسی میں لچک پیدا کرنے سمیت پالیسی اقدامات سے بیرونی معاشی خطرات میں کمی لانے میں مدد ملے گی۔ حکومت نیا اسٹیٹ بینک ایکٹ متعارف کرانے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے تاکہ حکومتی قرضوں کے لئے مرکزی بینک کی فنانسنگ روکی جا سکے اور اسٹیٹ بینک کے قیمت کے استحکام کے بنیادی مقصد کی وضاحت کی جا سکے۔ پاکستان کے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر پچھلے کچھ ماہ کے دوران سات سے آٹھ ارب ڈالر کے لگ بھگ رہے ہیں جو کہ دو سے اڑھائی ماہ تک اشیاءکی درآمد کے لئے کافی ہیں۔ موڈیز نے توقع ظاہر کی ہے کہ مالی سال 2019-20ءمیں مالیاتی خسارہ جی ڈی پی کے 8.6 فیصد کے لگ بھگ رہے گا جو کہ 2018-19ءمیں 8.9 فیصد تھا اور اسے 2021-23ءتک تقریباً 7 فیصد تک لایا جائے گا۔ جی ڈی پی کے تناسب سے حکومت کا ریونیو بڑھنے کا امکان ہے اور ٹیکس کا دائرہ بڑھانے کے لئے مالیاتی حکام نے کئی ٹیکس استثنیٰ اور رعایتیں ختم کی ہیں اور انکم ٹیکس کے لئے کم از کم تھریش ہولڈ میں کمی لائی ہے۔ حکام ٹیکس چوری روکنے اور سیلز ٹیکس کا دائرہ بڑھانے کے لئے آٹو میٹک انکم ٹیکس فائلنگ کا نظام بھی متعارف کرا رہے ہیں۔ آئی ایم ایف اور عالمی بینک کی حمایت سے ریونیو اقدامات موثر بنائے جا سکتے ہیں تاہم موڈیز نے یہ تخمینہ لگایا کہ اقتصادی نمو کے ماحول میں آئی ایم ایف پروگرام کے تحت مقرر کیا جانے والا ریونیو کا ہدف مکمل طور پر حاصل کرنا ایک چیلنج ہوگا۔ مالی سال 2019-20ءمیں پاکستان کی جی ڈی پی کی شرح نمو پچھلے مالی سال کے 3.3 فیصد کے مقابلے میں 2.9 فیصد تک رہنے کی توقع ہے۔ اخراجات کے شعبہ میں حکومت نے نیا پبلک فنانشل مینجمنٹ ایکٹ متعارف کرایا ہے جس کی جون 2019ءمیں منظوری دی گئی اور اس کا مقصد بجٹ کے شعبہ میں نظم و ضبط پیدا کرنا ہے۔ مودی نے کہا کہ 2023ءتک حکومتی قرضے آئندہ چند سال کے زیادہ عرصے میں تقریباً 75 سے 76 فیصد کی شرح تک کم ہوں گے جو کہ اس وقت جی ڈی پی کے 82 سے 83 فیصد کے لگ بھگ ہیں۔