عشقِ عمرانی کے نعرے کا اصل مقصد ریاست اور افواجِ پاکستان کے خلاف بغاوت پر اُکسانا ہے، اختیارولی خان

پشاور۔ 01 نومبر (اے پی پی):وزیرِاعظم کے کوآرڈینیٹر برائے اطلاعات و خیبر پختونخوا امور اختیار ولی خان نے کہا ہے کہ وزیرِاعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی آج کل ایک نعرہ لگا رہے ہیں کہ میں عشقِ عمرانی میں مارا جاؤں گا، عشقِ عمرانی کے نعرے کا اصل مقصد ریاست اور افواجِ پاکستان کے خلاف بغاوت پر اُکسانا ہے۔ نوشہرہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اختیار ولی خان نے کہا …

پشاور۔ 01 نومبر (اے پی پی):وزیرِاعظم کے کوآرڈینیٹر برائے اطلاعات و خیبر پختونخوا امور اختیار ولی خان نے کہا ہے کہ وزیرِاعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی آج کل ایک نعرہ لگا رہے ہیں کہ میں عشقِ عمرانی میں مارا جاؤں گا، عشقِ عمرانی کے نعرے کا اصل مقصد ریاست اور افواجِ پاکستان کے خلاف بغاوت پر اُکسانا ہے۔ نوشہرہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اختیار ولی خان نے کہا کہ سوشل میڈیا پر وزیرِاعلیٰ سہیل آفریدی کی ویڈیو موجود ہے جس میں وہ صاف طور پر کہہ رہے ہیں کہ ہم کور کمانڈر ہاؤس پر چڑھائی کے لیے پہنچ گئے ہیں، ہمیں یہاں سے حملہ کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سہیل آفریدی اور پی ٹی آئی کو ریاست کے کمزور ہونے یا اداروں کو نقصان پہنچنے کی کوئی پرواہ نہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ وزیرِاعلیٰ کا ایجنڈا کیا ہے؟ قوم کو بتایا جائے، اگر فوجی تنصیبات پر حملہ دہشت گردی نہیں تو پھر دہشت گردی کسے کہتے ہیں؟ اختیار ولی خان نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں مسلسل تیسری مرتبہ پی ٹی آئی کی حکومت قائم ہے مگر عوامی فلاح و ترقی کے لیے کون سا منصوبہ مکمل ہوا؟ نہ کوئی نیا اسپتال بنا، نہ نئی یونیورسٹی، نہ ہی کوئی سڑک۔ تین بار مسلسل اقتدار کسی بھی جماعت کو آج تک نہیں ملا، مگر اس کے باوجود خیبر پختونخوا کے عوام کے حالات میں کوئی بہتری نظر نہیں آ رہی۔

انہوں نے کہا کہ سہیل آفریدی قبائلی ضلع سے تعلق رکھتے ہیں۔ گزشتہ 13 سالوں میں ان کی جماعت نے قبائلی اضلاع کے لیے کیا خدمات انجام دی ہیں؟ کیا عشقِ عمرانی کے نام پر عوامی فلاح و بہبود کو پسِ پشت ڈال دیا جائے گا؟ اختیار ولی خان نے کہا کہ یہ لوگ دن بہ دن ریاست پر حملہ آور ہو رہے ہیں اور نوجوانوں کے ذہنوں میں نفرت کے بیج بو رہے ہیں۔ پی ٹی آئی کے کارکنان نے پختون روایات کا جنازہ نکال دیا ہے، سوشل میڈیا ہو یا کوئی دوسرا فورم، جب دلیل ختم ہو جاتی ہے تو گالم گلوچ ان کا وطیرہ بن جاتا ہے۔

اختیار ولی خان نے وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو بتائیں، آپ نے کہا تھا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے بغیر کابینہ تشکیل نہیں دوں گا، تو پھر کابینہ کی تشکیل کس کے کہنے پر عمل میں آئی؟ انہوں نے کہا کہ کابینہ کی تشکیل سوالیہ نشان بن چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئی کابینہ میں کوئی نیا چہرہ شامل نہیں، وہی پرانے لوگ شامل ہیں۔

ریاست مخالف پروپیگنڈا کرنے اور 9 مئی جیسے گھناؤنے واقعے پر معافی مانگنی چاہیے۔ آپ کی کابینہ میں وہ لوگ شامل ہیں جو 9 مئی کے واقعے میں ملوث تھے، ذرا اپنے اردگرد نظر دوڑائیں، سب کچھ واضح ہو جائے گا۔ اختیار ولی خان نے کہا کہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا تھا کہ کوئی سزا یافتہ شخص حکومت سازی میں حصہ نہیں لے سکتا اور نہ ہی اس پر اثرانداز ہو سکتا ہے، تو پھر آج خیبر پختونخوا میں یہ سب کیسے ہو رہا ہے؟ عوام کو گمراہ نہ کیا جائے۔

مزید خبریں