عوام کے لیے فضائی سفر سستا اور قابل برداشت بنانا انتہائی اہمیت کا حامل ہے، سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے دفاع

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع نے اپنے موقف کا اعادہ کرتے ہوئے ہدایت کی ہےکہ عوام کے لیے فضائی سفر کو زیادہ سے زیادہ سستا اور قابل برداشت بنانا انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

اسلام آباد۔4جون (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع نے اپنے موقف کا اعادہ کرتے ہوئے ہدایت کی ہےکہ عوام کے لیے فضائی سفر کو زیادہ سے زیادہ سستا اور قابل برداشت بنانا انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ کمیٹی کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر محمد طلحہ محمود کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہائوس میں منعقد ہوا۔قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں قومی ہوا بازی کے شعبے سے متعلق اہم امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) سے متعلق مجوزہ قانون سازی، اندرون ملک ہوائی سفر کے کرایوں کے ڈھانچے کے بارے میں استفسارات اور علاقائی فضائی آپریشنز سے متعلق سٹریٹجک پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹر فاروق ایچ نائیک، سینیٹر سلیم مانڈوی والا، سینیٹر عمر فاروق، سیکرٹری وزارت دفاع اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں مجوزہ قانونی ترمیم پر تفصیلی غور کیا گیا جس کے تحت پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کارپوریشن (کنورژن) ایکٹ 2016ء کو منسوخ کرنے کی تجویز زیر غور آئی۔ سینیٹر فاروق ایچ نائیک اور سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے اس اقدام کے پس منظر اور وجوہات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ اصل ایکٹ کی صرف شق 7(الف) برقرار رکھی جائے گی۔ سینیٹرز نے مجوزہ منسوخی آرڈیننس کے مکمل اور جامع ہونے کے حوالے سے شدید تحفظات کا اظہار کیا اور اس امر پر زور دیا کہ ایک مکمل، موثر اور قانونی طور پر قابلِ عمل فریم ورک ناگزیر ہے۔ کمیٹی نے موجودہ ملازمین پر ممکنہ منفی اثرات کے حوالے سے گہری تشویش کا اظہار کیا اور واضح کیا کہ کسی بھی نئی قانون سازی میں ملازمین کے حقوق اور روزگار کے تحفظ کی ٹھوس ضمانتیں فراہم کی جانی چاہئیں۔قائمہ کمیٹی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ دستاویزات اگلے اجلاس میں مکمل جانچ پڑتال کے لیے پیش کی جائیں۔

قائمہ کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ متعلقہ حکام اس بل کی منظوری کے عمل میں کسی قسم کی جلد بازی نہ کریں۔ اجلاس میں پی آئی اے ہیڈکوارٹرز کی منتقلی سے متعلق کسی بھی تجویز کی مذمت کی گئی۔ کمیٹی نے حکومتی اصلاحات کی حمایت کے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے واضح کیا کہ ملازمین کی فلاح و بہبود اس کی اولین ترجیح رہے گی۔ ہوا بازی کے شعبے میں رسائی اور مسابقت کو فروغ دینے کے عزم کے تحت کمیٹی کو سائوتھ ایئر کی جانب سے ایک نئی فزیبلٹی پلان پر بریفنگ بھی دی گئی۔ ریکارڈ کے مطابق اس نجی فضائی کمپنی نے حکومت کے ساتھ باہمی مفاہمت کے تحت پاکستان کے جنوبی علاقوں میں فضائی آپریشنز شروع کرنے کا منصوبہ بنایا ہے جس میں گلگت کے لیے اور چترال سے پروازوں کا آغاز بھی شامل ہے۔ کمیٹی نے اس پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ متعدد کمپنیوں کے درمیان بڑھتی ہوئی مسابقت پاکستان میں کاروبار دوست ماحول کے فروغ میں معاون ثابت ہوگی۔قائمہ کمیٹی نے ہدایت کی کہ چھوٹے ہوائی اڈوں کی سہولیات پر توجہ دیں تاکہ انہیں نئی فضائی کارروائیوں کے لیے مکمل طور پر تیار کیا جا سکے۔

مزید برآں کمیٹی نے ہدایت کی کہ ایس پی ایس اے اور حکومت/نجکاری کمیشن کے درمیان ہونے والے باضابطہ معاہدے کو آئندہ اجلاس میں پیش کیا جائے۔ قائمہ کمیٹی نے اندرون ملک فضائی سفر کے کرایوں کے اہم معاملے کا بھی جائزہ لیا، بالخصوص کوئٹہ کے لیے پروازوں کے زیادہ کرایوں سے متعلق عوامی اہمیت کے مسئلے پر غور کیا گیا۔ پی آئی اے کی جانب سے پیش کردہ تفصیلی جواب میں بتایا گیا کہ ایئرلائن متحرک قیمتوں اور مختلف مسافروں کے لیے کرایوں کی درجہ بندی کے نظام پر عمل پیرا ہے۔

پی آئی اے کے مطابق جولائی 2025ء کے دوران کوئٹہ جانے والی پروازوں کے کرایے 19,700 روپے سے شروع ہوئے جبکہ ٹیکسوں سمیت زیادہ سے زیادہ کرایہ 53,095 روپے تک رہا۔ ایئرلائن نے یہ بھی بتایا کہ کم کرایوں پر نشستوں کی قابل ذکر تعداد دستیاب تھی اور اوسط کرایہ 24,520 روپے ریکارڈ کیا گیا۔پی آئی اے نے موقف اختیار کیا کہ یہ مسابقتی قیمتوں کا ڈھانچہ ادارے کی تجارتی پائیداری کے لیے ناگزیر ہے تاہم کمیٹی نے اپنے موقف کا اعادہ کرتے ہوئے ہدایت کی کہ عوام کے لیے فضائی سفر کو زیادہ سے زیادہ سستا اور قابل برداشت بنانا انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔