اسلام آباد۔8دسمبر (اے پی پی):ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) نے کہاہے کہ مستقبل میں غذائی سلامتی کومحفوظ بنانے کیلئے موسمیاتی تبدیلیوں اور پانی کی قلت جیسے مسائل پرقابوپانے کے ساتھ ساتھ زرعی نظام کی مکمل تبدیلی ناگزیر ہے۔یہ بات ایشیائی ترقیاتی بینک کی ایک حالیہ رپورٹ میں کہی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق دنیا اس وقت خوراک کے سنگین بحران کے دہانے پر کھڑی ہے اور تقریباً 2.3 ارب …
غذائی سلامتی کو محفوظ بنانے کیلئے موسمیاتی تبدیلیوں اور پانی کی قلت جیسے مسائل پر قابو پانے کے ساتھ ساتھ زرعی نظام کی مکمل تبدیلی ناگزیر ہے، ایشیائی ترقیاتی بینک

مزید خبریں
اسلام آباد۔8دسمبر (اے پی پی):ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) نے کہاہے کہ مستقبل میں غذائی سلامتی کومحفوظ بنانے کیلئے موسمیاتی تبدیلیوں اور پانی کی قلت جیسے مسائل پرقابوپانے کے ساتھ ساتھ زرعی نظام کی مکمل تبدیلی ناگزیر ہے۔یہ بات ایشیائی ترقیاتی بینک کی ایک حالیہ رپورٹ میں کہی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق دنیا اس وقت خوراک کے سنگین بحران کے دہانے پر کھڑی ہے اور تقریباً 2.3 ارب لوگ غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ اقوام متحدہ کے تخمینوں کے مطابق سال 2050ء تک عالمی آبادی تقریباً 10 ارب تک پہنچ جائے گی جس کے نتیجہ میں خوراک کی طلب میں 50 فیصد تک اضافہ ہوسکتاہے۔
ماہرین کے مطابق اس صورتحال سے نمٹنے کیلئے صرف فصلوں کی پیداوارمیں اضافہ ضروری نہیں بلکہ موسمیاتی تبدیلیوں اور پانی کی قلت جیسے مسائل پرقابوپانے کے ساتھ ساتھ زرعی نظام کی مکمل تبدیلی بھی ناگزیر ہے۔رپورٹ کے مطابق ماضی میں سبز انقلاب نے دنیا کو قحط سے بچایا مگر اس کے ماحولیاتی اثرات سنگین ثابت ہوئے، دوسرے سبزانقلاب کو پائیدار، ماحول دوست اور ٹیکنالوجی پر مبنی ہونا چاہیے اور یہ اسی وقت ممکن ہے جب زرعی تعلیم میں سرمایہ کاری بڑھائی جائے۔
رپورٹ کے مطابق 1950ء سے 1970ء تک زرعی تعلیم اور تحقیق پر بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری سے قحط کا خطرہ کم ہوا، مگر 1970ء کے بعد سے سرمایہ کاری میں مسلسل کمی ہوئی اور امریکہ میں زرعی تحقیق پر خرچ 2019ء تک ایک تہائی کم ہو چکا ہے۔ موسم کے مطابق نئی فصلیں پیدا کرنے والے سائنسدانوں کی ضرورت، چھوٹے کسانوں تک جدید ٹیکنالوجی کی رسائی، ڈیٹا سائنس اور خودکار نظام چلانے والی ورک فورس،چھوٹے کسانوں کے لیے نئی کاروباری راہیں،زرعی شعبے میں نوجوانوں کی شمولیت،ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے موثر اقدامات اور غربت میں کمی و پائیدار دیہی ترقی کیلئے زرعی تعلیم کی اہمیت مسلمہ ہے۔
اس صورتحال کے تناظرمیں ایشیائی ترقیاتی بینک نے عالمی زرعی جامعات کے اشتراک سے گلوبل ہائی ٹیک ایگریکلچر ایجوکیشن نیٹ ورک کی تشکیل کا اعلان کیا ہے جس کا مقصد نئی نسل کے زرعی ماہرین، سائنسدانوں اور ایگرو انٹرپرینیورز کی تیاری ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر زرعی شعبے میں بائیوٹیکنالوجی، روبوٹکس، مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل مارکیٹ تک رسائی شامل کی جائے تو عالمی زرعی نظام نئی سمت اختیار کر سکتا ہے اور نوجوانوں کے لیے معیشت کا نیا ستون بن سکتا ہے۔








