اسلام آباد۔12فروری (اے پی پی):گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ غربت کے خاتمے، ماحولیاتی تحفظ اور سماجی ترقی کے اہداف کیلئے حکومت سمیت نجی شعبے اور کارپوریٹ اداروں کا مؤثر کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ہی پائیدار اور ہمہ گیر ترقی کا واحد راستہ ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو یہاں نیشنل فورم فار انوائرنمنٹ اینڈ ہیلتھ کے زیر اہتمام منعقدہ …
غربت کے خاتمے، ماحولیاتی تحفظ اور سماجی ترقی کے اہداف کیلئے حکومت سمیت نجی شعبے اور کارپوریٹ اداروں کا مؤثر کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے ، فیصل کریم کنڈی

مزید خبریں
اسلام آباد۔12فروری (اے پی پی):گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ غربت کے خاتمے، ماحولیاتی تحفظ اور سماجی ترقی کے اہداف کیلئے حکومت سمیت نجی شعبے اور کارپوریٹ اداروں کا مؤثر کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ہی پائیدار اور ہمہ گیر ترقی کا واحد راستہ ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو یہاں نیشنل فورم فار انوائرنمنٹ اینڈ ہیلتھ کے زیر اہتمام منعقدہ 18ویں سالانہ سی ایس آر سمٹ اور تقسیم ایوارڈ تقریب سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔تقریب میں گورنر نے 70 سے زائد قومی و ملٹی نیشنل اداروں کو کارپوریٹ سوشل رسپانسبلٹی کے میدان میں نمایاں خدمات پر ایوارڈز سے بھی نوازا۔
گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے سمٹ کے انعقاد پر این ایف ای ایچ کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 18 برسوں سے یہ فورم ذمہ داری، پائیداری اور انسانیت کی خدمت کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اس وقت غربت، عدم مساوات اور ماحولیاتی خطرات جیسے چیلنجز کا سامنا ہے جن سے نمٹنے کے لئے مضبوط سیاسی عزم، دوراندیش قیادت اور عوام دوست پالیسیوں کی ضرورت ہے۔
گورنر خیبرپختونخوا نے پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومتوں کے دوران متعارف کرائے گئے فلاحی اقدامات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ملک کی تاریخ کا ایک مؤثر اور وسیع ترین سماجی تحفظ کا منصوبہ ہے جس نے لاکھوں مستحق خاندانوں کو مالی سہارا فراہم کیا اور خصوصاً خواتین کو بااختیار بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔
گورنر نے کہا کہ غربت کے خاتمے اور سماجی بہتری کے لئے کارپوریٹ سیکٹر کو چاہئے کہ وہ حکومت کے ساتھ اشتراک عمل کو مزید مضبوط کرے تاکہ ملک بھر میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ منصوبوں کے ذریعے پسماندہ طبقات کی زندگیوں میں حقیقی تبدیلی لائی جا سکے۔








