قاہرہ ۔12نومبر (اے پی پی):عالمی ادارہ صحت غزہ اور لبنان میں اسرائیلی حملوں کا نشانہ بننے والے ہسپتالوں کو بحال کرنے اور خصوصی علاج کی ضرورت والے مریضوں کو وہاں سے نکالنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے ۔ مشرقی بحیرہ روم کے لیے ڈبلیو ایچ او کے ریجنل ڈائریکٹر ڈاکٹر حنان بلخی نے مقبوضہ فلسطینی سرزمین اور لبنان اور جنگ سے متاثرہ سوڈان کی ہنگامی صورتحال پر ایک پریس …
غزہ اور لبنان میں اسرائیلی حملوں کا نشانہ بننے والے ہسپتالوں کو بحال کرنے ، مریضوں کو وہاں سے نکالنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں، عالمی ادارہ صحت

مزید خبریں
قاہرہ ۔12نومبر (اے پی پی):عالمی ادارہ صحت غزہ اور لبنان میں اسرائیلی حملوں کا نشانہ بننے والے ہسپتالوں کو بحال کرنے اور خصوصی علاج کی ضرورت والے مریضوں کو وہاں سے نکالنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے ۔ مشرقی بحیرہ روم کے لیے ڈبلیو ایچ او کے ریجنل ڈائریکٹر ڈاکٹر حنان بلخی نے مقبوضہ فلسطینی سرزمین اور لبنان اور جنگ سے متاثرہ سوڈان کی ہنگامی صورتحال پر ایک پریس بریفنگ کے دوران غزہ میں اقوام متحدہ کی پناہ گزین ایجنسی یو این آر ڈبلیو اے کے اہم کردار کا بھی اعتراف کیا اور وہاں کے لئے امن کی اپیل کی۔
انہوں نے کہا کہ ہم فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقے، لبنان اور سوڈان میں فوری اور پائیدار جنگ بندی اور انسانی جانیں بچانے والی امداد کی فراہمی کے لئے بلا رکاوٹ رسائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے خدشات کے عین مطابق غزہ اور لبنان میں جنگ شدت اختیار کر گئی ہے، جس سے مشرق وسطیٰ میں تباہ کن بگاڑ پیدا ہو گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم فوجی کارروائیوں کے دوران ہسپتالوں کو فعال رکھنے اور خصوصی دیکھ بھال کے محتاج مریضوں کو نکالنے کے لیے انتھک محنت کر رہے ہیں۔
عالمی ادارہ صحت نے غزہ میں جنگ شروع ہونے کے بعد اب تک 90 مریضوں اور ان کی تیمار داری کرنے والے 139 افراد کو متحدہ عرب امارات اور رومانیہ منتقل کیا ہے ۔ ڈاکٹر حنان بلخی نے کہا کہ اس جنگ کے صدمے اور جذباتی نقصانات کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔انہوں نے انکشاف کیا کہ انہیں گزشتہ ہفتوں کے دوران غزہ سے کئی مریضوں کی منتقلی کی اجازت نہیں دی گئی بلکہ ڈبلیوایچ اوکی امدادی ٹیموں کے قریب شدید بمباری کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ غزہ میں واقعی کوئی محفوظ جگہ نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ غزہ میں چھوٹے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کی مہم میں کامیابی حاصل ہو ئی جس میں یواین آر ڈبلیو اے کے عملہ کا مرکزی کردار رہا۔ واضح رہے کہ اسرائیل نے گزشہ دنوں یو این آر ڈبلیو اے پر بھی پابندی عائد کر دی ہے۔








