غزہ میں تنازع ختم کرنے کے لئے سفارتی کوششوں کی ضرورت ہے، سعودی عرب

ڈبلن۔30جنوری (اے پی پی):سعودی عرب نے غزہ میں امن کے راستے کو تنازع کے خاتمے کے بنیادی مقاصد سے ہٹنے سے روکنے کے لیے سفارتی کوششوں، بات چیت اور مشترکہ عمل کو تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔العربیہ اردو کے مطابق یہ بات سعودی وزارت خارجہ کے سینئر عہدیدار ڈاکٹر منال رضوان نے دو ریاستی حل کے نفاذ کے لیے عالمی اتحاد کے آٹھویں اجلاس میں شرکت کے …

ڈبلن۔30جنوری (اے پی پی):سعودی عرب نے غزہ میں امن کے راستے کو تنازع کے خاتمے کے بنیادی مقاصد سے ہٹنے سے روکنے کے لیے سفارتی کوششوں، بات چیت اور مشترکہ عمل کو تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔العربیہ اردو کے مطابق یہ بات سعودی وزارت خارجہ کے سینئر عہدیدار ڈاکٹر منال رضوان نے دو ریاستی حل کے نفاذ کے لیے عالمی اتحاد کے آٹھویں اجلاس میں شرکت کے دوران سعودی عرب کی نمائندگی کرتے ہوئے کہی۔ یہ اجلاس آئرلینڈ کی وزارت خارجہ اور تجارت کے زیر اہتمام آئرلینڈ کے دارالحکومت ڈبلن میں منعقد ہوا۔

اجلاس میں سعودی وزارت خارجہ میں سینئرعہدیدار ڈاکٹر منال رضوان نےفلسطینی نیشنل اتھارٹی کی حمایت، اس کی ادارہ جاتی صلاحیتوں کی تعمیر اور غزہ اور مغربی کنارے کے درمیان ادارہ جاتی و جغرافیائی تعلق کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے تاکہ فلسطینی سرزمین کیسالمیت برقرار رہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عالمی اتحاد امن کے راستوں کو ہم آہنگ کرنے اور سیاسی حل کی حمایت میں ان کی مطابقت اور تاثیر کو یقینی بنانے کے لئے ایک منفرد بین الاقوامی پلیٹ فارم ہے۔ اسی تناظر میں انہوں نے امریکا کے کلیدی کردار اور صدر ٹرمپ کی قیادت میں کی جانے والی کوششوں کو سراہا اور اس بات پر زور دیا کہ جامع امن منصوبے پر عمل درآمد کے لئے امریکاکے ساتھ ہم آہنگی تنازع کو ختم کرنے اور علاقائی انضمام اور پائیدار استحکام کے مرحلے کی طرف منتقلی کا ایک حقیقی موقع ہے۔

انہوں نے سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 2803 پر عمل درآمد کی اہمیت پر بھی زور دیا جو اس مرحلے کے لیے قانونی اور سیاسی حوالہ ہے۔ انہوں نے خاص طور پر امن کونسل کے کام، اسرائیلی افواج کے انخلا کی یقین دہانی، اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور سیاسی پیش رفت کے لئے ضروری حالات پیدا کرنے کے حوالے سے بھی بات کی۔ ڈاکٹر منال رضوان نے واضح کیا کہ امن قائم کرنے میں آئرلینڈ کا تجربہ اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ پیچیدہ تنازعات اس وقت حل ہو سکتے ہیں جب امن کے عمل کو ایک جامع راستے، واضح سیاسی افق، تشدد کے خاتمے، بات چیت کے فروغ اور اعتماد سازی سے جوڑ دیا جائے۔

انہوں نے قابض اسرائیلی افواج کی جانب سے جنگ بندی کے معاہدے کی جاری خلاف ورزیوں کے خطرات سے دوبارہ خبردار کیا اور نیویارک اعلامیہ، جامع امن منصوبہ اور سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 کی اہمیت پر زور دیا جو اپنے مقاصد میں ایک مربوط اور متفقہ فریم ورک کی تشکیل کرتے ہیں۔ انہوں نے علاقائی اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ کام جاری رکھنے کے سعودی عرب کے عزم کا اعادہ کیا تاکہ ایک منصفانہ اور پائیدار امن حاصل کیا جا سکے جو فلسطینی عوام کی خود ارادیت اور اپنی آزاد ریاست کے قیام کی امنگوں کو پورا کرے۔ اجلاس میں عالمی اتحاد کے رکن ممالک اور بین الاقوامی شراکت داروں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

 

مزید خبریں