غزہ میں جنگ بندی کے ایک سال کے دوران 340 سے زائد بچے شہید، سینکڑوں زخمی ہوئے، یونیسیف
غزہ میں جنگ بندی کے ایک سال کے دوران 340 سے زائد بچے شہید، سینکڑوں زخمی ہوئے، یونیسیف

مزید خبریں
اقوام متحدہ ۔17اکتوبر (اے پی پی):اقوام متحدہ کے بچوں کے ادارے یونیسیف نے کہا ہے کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے اعلان کو ایک سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود غزہ میں 340 سے زیادہ بچے شہید اور سینکڑوں زخمی ہو چکے ہیں۔یونیسیف کے ترجمان ریکارڈو پیریز نے کہا کہ اپنے بچوں کو کھونے والے خاندانوں کے لیے یہ ہولناک اعداد و شمار جنگ بندی کے حقیقی مفہوم کی عکاسی نہیں کرتے۔انہوں نے جنیوا میں صحافیوں کو بتایا کہ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران غزہ میں فضائی حملوں، ڈرون حملوں اور فائرنگ کے واقعات میں پانچ لڑکوں اور دو لڑکیوں کی ہلاکت کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جبکہ کم از کم 33 بچے شدید زخمی ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ دو لڑکے پہلے لگنے والے زخموں کے باعث بھی دم توڑ گئے۔
ریکارڈو پیریز نے کہا کہ اسرائیل اور حماس کی جنگ کے اثرات بچوں کی زندگی کے ہر پہلو پر مرتب ہو رہے ہیں، جن میں ان کے سونے کی جگہ، خوراک اور تعلیم تک رسائی شامل ہیں۔غزہ میں خوراک لے جانے والے تجارتی ٹرکوں کی آمد سے متعلق سوال پر یونیسیف کے ترجمان نے کہا کہ بچوں کی بحالی کے لیے انسانی امداد اور تجارتی سامان کی بلا تعطل فراہمی ناگزیر ہے۔انہوں نے گزشتہ سال جنگ بندی سے قبل غزہ شہر کے دورے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت امدادی سامان علاقے میں نہیں پہنچ رہا تھا اور اقوام متحدہ کے حمایت یافتہ ماہرین نے وہاں قحط کا اعلان کیا تھا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ بچوں اور خاندانوں کو ضروری اشیا، خدمات اور زندگی بچانے والے سامان سے محروم ہونے کی صورتحال دوبارہ پیدا نہیں ہونی چاہیے۔
یونیسیف کی یہ تنبیہ ایسے وقت سامنے آئی ہے جب غزہ میں درجہ حرارت کم ہو رہا ہے اور بے گھر خاندان بارش کا پانی خیموں میں داخل ہونے سے روکنے کے لیے آٹے کی خالی بوریوں میں ریت بھر رہے ہیں۔غزہ میں نکاسی آب کا نظام اسرائیلی بمباری سے بری طرح متاثر ہوا ہے، جس کے باعث صفائی اور آلودہ پانی کا بحران سنگین ہو گیا ہے۔ ریکارڈو پیریز نے خبردار کیا کہ شیخ رضوان کے بارش کے پانی کے ذخیرے سمیت مختلف مقامات پر گندا پانی جمع ہے۔
موسم سرما کی بارشیں قریب آنے کے باعث اس پانی کو نکالنے کے لیے وقت کم رہ گیا ہے۔ آلودہ پانی رہائشی علاقوں میں پھیلنے سے بچوں اور ان کے خاندانوں کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔یونیسیف کے مطابق غزہ میں اب بھی تقریباً آٹھ لاکھ بچے بے گھر ہیں، جن میں سے بیشتر خیموں یا بمباری سے تباہ شدہ غیر محفوظ عمارتوں میں رہ رہے ہیں۔
اندازے کے مطابق جنگ کے دوران یا جنگ بندی کے بعد تقریباً 60 ہزار بچے اپنے ایک یا دونوں والدین کو کھو چکے ہیں، جبکہ تقریباً ہر بچے کو ذہنی صحت کی بحالی کے لیے کسی نہ کسی قسم کی مدد درکار ہے۔فلسطینی عوام کے لیے اقوام متحدہ کی امدادی کوششوں کے تحت یونیسیف نے جنگ بندی کے بعد پانچ لاکھ 60 ہزار سے زائد بچوں کو دوبارہ تعلیمی سرگرمیوں میں شامل ہونے میں مدد فراہم کی ہے۔ ان میں یونیسیف کے تعاون سے چلنے والے 200 سے زائد تعلیمی مراکز کے بچے بھی شامل ہیں۔ادارے نے تین لاکھ 80 ہزار سے زائد افراد کو ڈیجیٹل نقد امداد اور 12 لاکھ افراد کو صاف پانی بھی فراہم کیا ہے۔







