اسلام آباد۔26اکتوبر (اے پی پی):پاکستان میں فرانس کے سفیر کو پیر کو دفتر خارجہ طلب کر کے حا ل ہی میں بعض غیر ذمہ دار عناصر کی جانب سے گستاخانہ خاکے دوبارہ شائع کرنے اور قرآن پاک کی بیحرمتی کے واقعات پر شدید احتجاج کیا اور ایسے واقعات کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔فرانسیسی سفیر پر زور دیا گیا کہ اس طرح کی غیر قانونی اور اسلامو فوبیا کی کارروائیوں …
فرانسیسی سفیر طلب، گستاخانہ خاکے دوبارہ شائع کرنے اور قرآن پاک کی بیحرمتی کے واقعات پر شدید احتجاج کیا

مزید خبریں
اسلام آباد۔26اکتوبر (اے پی پی):پاکستان میں فرانس کے سفیر کو پیر کو دفتر خارجہ طلب کر کے حا ل ہی میں بعض غیر ذمہ دار عناصر کی جانب سے گستاخانہ خاکے دوبارہ شائع کرنے اور قرآن پاک کی بیحرمتی کے واقعات پر شدید احتجاج کیا اور ایسے واقعات کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔فرانسیسی سفیر پر زور دیا گیا کہ اس طرح کی غیر قانونی اور اسلامو فوبیا کی کارروائیوں سے پاکستان سمیت پوری دنیا کے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔ فرانس کے سفیر کو بتایا گیا کہ آزادی اظہار رائے کے نام پر اس طرح کے اقدامات کو جواز نہیں بنایا جاسکتا۔ سفیر کو مزید بتایا گیا کہ پاکستان تنگ نظری اور سیاسی فوائد کے لئے اسلام کو دہشت گردی سےجوڑنے کی شدید مذمت کرتا ہے۔ اس طرح کے اشتعال انگیز بیانات اور اقدامات بین المذاہبی منافرت ، دشمنی اور محاذ آرائی کو فروغ دینے باعث بنتے ہیں، جس کے نتیجے میں معاشرے کے مختلف طبقات کے مابین امن اور ہم آہنگی کیلئے کوششیں متاثر ہو سکتی ہیں۔اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ عوامی جذبات یا مذہبی عقائد کو ٹھیس یا نقصان پہنچانے اور مذہبی منافرت کے لئے آزادی اظہار رائے کا غلط استعمال نہیں کیا جانا چاہئے۔ اس بات پر زور دیا گیا کہ اس طرح کے اقدامات اور بیانات سے عوام اور تہذیبوں کے مابین تقسیم کو مزید تقویت ملے گی اور پرامن بقائے باہمی کے ساتھ ساتھ سماجی اور بین المذاہب ہم آہنگی کیلئے عالمی کوششوں کو بھی نقصان پہنچے گا۔ نسل پرستی ، عدم رواداری اور پاپولزم کے بڑھتے ہوئے اس دور میں وقیانوسی تصورات کو تقویت دینے کے بجائے لوگوں اور برادریوں میں ہم آہنگی کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔








