فرانسیسی کمپنی "لا مارک اون موا” نے احتیاطی تدابیر کے طور پر شیر خوار بچوں کے دودھ کی تین کھیپیں واپس منگوا لی

پیرس ۔29جنوری (اے پی پی):فرانسیسی کمپنی "لا مارک اون موا" نے احتیاطی تدابیر کے طور پر شیر خوار بچوں کے دودھ کی تین کھیپیں واپس منگوا لی ہیں، کیونکہ ان میں زہریلے مادے "سیریولائڈ" کی موجودگی کا خدشہ ہے۔العربیہ کے مطابق فرانس میں مصنوعات کی واپسی سے متعلق سرکاری ویب سائٹ پر شائع ہونے والے انتباہ میں بتایا گیا ہے کہ ان مصنوعات کی واپسی کا عمل حکام کی جانب …

پیرس ۔29جنوری (اے پی پی):فرانسیسی کمپنی "لا مارک اون موا” نے احتیاطی تدابیر کے طور پر شیر خوار بچوں کے دودھ کی تین کھیپیں واپس منگوا لی ہیں، کیونکہ ان میں زہریلے مادے "سیریولائڈ” کی موجودگی کا خدشہ ہے۔العربیہ کے مطابق فرانس میں مصنوعات کی واپسی سے متعلق سرکاری ویب سائٹ پر شائع ہونے والے انتباہ میں بتایا گیا ہے کہ ان مصنوعات کی واپسی کا عمل حکام کی جانب سے سیریولائڈ کی ممکنہ موجودگی سے متعلق نئی سفارشات کے بعد شروع کیا گیا ہے۔ گذشتہ چند ہفتوں کے دوران نیسلے، ڈینون اور لاکٹالیس جیسی کئی دیگر کمپنیوں نے بھی احتیاطی طور پر بچوں کے دودھ کی مصنوعات بازار سے ہٹا لی ہیں۔

شیر خوار بچوں کے دودھ کی صنعت کو گذشتہ کئی ہفتوں سے بحران کا سامنا ہے، کیونکہ متعدد کمپنیوں نے ایسی مصنوعات واپس منگوائی ہیں جن میں زہریلے مادے سیریولائڈ سے آلودگی کا خدشہ ہے، جو اسہال اور قے کا باعث بن سکتا ہے۔ فرانسیسی وزیر صحت اسٹیفنی ریسٹ نے جمعہ کو بتایا کہ مشتبہ آلودہ دودھ مارکیٹ سے ہٹا لیا گیا ہے۔ نیسلے نے خاص طور پر 6 جنوری کو یورپی ممالک سے بچوں کے دودھ کی مخصوص کھیپیں واپس منگوائی تھیں۔ فرانسیسی تفتیش کار ان دو بچوں کی ہلاکت کے اسباب جاننے کی کوشش کر رہے ہیں جنہوں نے مبینہ طور پر نیسلے کے فارمولے سے تیار کردہ دودھ استعمال کیا تھا۔

مزید خبریں