اسرائیلی سپریم کورٹ نے وزیراعظم نیتن یاہو کی حکومت کو حکم دیا ہے کہ وہ ایسے کٹر یہودی خاندانوں سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کو سزا دے جو عدالتی فیصلے کے بعد بھی اسرائیل کے لیے فوجی خدمات انجام دینے کو تیار نہیں ہیں یا عدالتی فیصلہ تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہیں۔
فوج میں خدمات نہ دینے والے کٹر یہودی نوجوانوں کو سزا دی جائے،اسرائیلی سپریم کورٹ
تل ابیب۔27اپریل (اے پی پی):اسرائیلی سپریم کورٹ نے وزیراعظم نیتن یاہو کی حکومت کو حکم دیا ہے کہ وہ ایسے کٹر یہودی خاندانوں سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کو سزا دے جو عدالتی فیصلے کے بعد بھی اسرائیل کے لیے فوجی خدمات انجام دینے کو تیار نہیں ہیں یا عدالتی فیصلہ تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہیں۔ العربیہ اردو کے مطابق اسرائیل میں ہر شہری کے لیے فوج میں ایک مخصوص مدت کے لیے خدمات انجام دینا لازم ہے۔ تاہم مذہبی حوالے سے کٹر اور مستقبل میں ربی بننے والے خاندانوں کے کٹر یہودیوں کو اس سے کافی عرصہ استثنا ملا رہا ہے حالانکہاسرائیل کو جنگوں پر ابھارنے میں یہ یہودی طبقہ سب سے آگے ہے حتیٰ کہ پارلیمنٹ اور حکومت میں ان کٹر یہودیوں کے ووٹوں سے جیت کر آنے والے لیڈر بھی ہمیشہ جنگیں جاری رکھنے کی حمایت کرتے ہیں مگر خود جنگ کا حصہ بننا تو درکنار فوج کا بھی حصہ بننا قبول نہیں کرتے۔
اسرائیلی سپریم کورٹ نے 2024 میں اس سلسلے میں باضابطہ حکم دیا تھا کہ سب شہریوں کو بلا استثنا فوج کے لیے خدمات دینا لازم ہے۔ اس سلسلے میں حکومت جو مسلسل دوسرے ممالک کے خلاف جنگ میں ہے کوئی عملی اور سنجیدہ اقدام نہیں کر سکی کہ یہ کٹر یہودی خاندانوں کے افراد بھی فوجی خدمات دینے پر آمادہ ہوں۔ اس بارے میں گزشتہ روز ایک بار پھر سپریم کورٹ نے حکم جاری کیا ہے جس میں اب تک کوئی کوئی ٹھوس اقدام نہ لینے کا بھی نوٹس لیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ اس بارے میں عملی اقدامات لینے کا کوئی متبادل نہیں ہے۔
سپریم کورٹ اس سے پہلے بھی بار بار کٹر یہودیوں کو فوج میں لازمی خدمات سے استثنا کو چیلنج کرتی رہی ہے،لیکن اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو ان کٹر یہودیوں کے ووٹوں سے جیت کر آنے والے ارکان پارلیمنٹ اور جماعتوں کے ساتھ اتحاد کر کے اپنی حکومت بنانے میں کامیاب ہوئے تھے اس لیے ان کی حکومت انتہا پسند یہودیوں کے خلاف عدالتی احکامات پر عمل درآمد کے لیے اقدامات کرنے کوکم تیار نظر آتی ہے۔ سپریم کورٹ نے ایک بار پھر اس بارے میں حکم دیا ہے۔ اس میں ان کٹر مذہبی خاندانوں کے لیے ٹرانسپورٹ میں سبسڈائزڈ کرایوں کی سہولت، ٹیکسوں میں رعایت اور ان کے بچوں کے لیے عام اسرائیلیوں سے بڑھ کر دی جانے والے والی چائلڈ کیئر کی سہولتوں کو بھی ختم کرنے کا کہا گیا ہے۔
جج نوم سولبرگ نے کہا کہ ہم یہ پابندیاں نہیں لگا رہے بلکہ رعایتوں اور اضافی فائدوں کو روک رہے ہیں۔ فوج میں ملازمت کرنا ایک جائز اور قانونی مقصد کےتحت ہے اس لیے اضافی فوائد کی اہلیت کے سلسلے میں اسے بھی خیال میں رکھنا چاہیے تھا۔ اسرائیل کے اس انتہائی مراعات یافتہ طبقے کی تعداد شروع میں کم تھی مگر اب اس کی آبادی مجموعی آبادی کے 14 فیصد کو چھو گئی ہے۔ اسرائیلی فوج کے اعداد و شمار کے مطابق اس طبقے کے صرف دو فیصد لوگ فوج میں عدالتی حکم کے بعد گئے ہیں جبکہ ان کٹر یہودیوں سے تعلق رکھنے والے 66 ہزار نوجوانوں کو لازمی فوجی ملازمت کے لیے خود کو پیش کرنا چاہیے تھا۔









