فیصل آباد۔ 04 نومبر (اے پی پی):پلسز ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے ماہرین نے کاشتکاروں کو آبپاش علاقوں میں چنے کی کاشت 15 نومبر تک اورجہلم،راولپنڈی،گجرات،نارووال کے اضلاع میں 10 نومبر تک مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے ۔ انہوں نے بتایا ہے کہ گزشتہ سال پنجاب میں چنے کے تقریباََ21لاکھ 97ہزار ایکڑ رقبہ سے 4لاکھ8 9ہزار ٹن پیداوار حاصل ہوئی۔انہوں نے کہاکہ چنا ربیع کی ایک اہم پھلی دار فصل ہے …
فیصل آباد،کاشتکاروں کو آبپاش علاقوں میں چنے کی کاشت 15 نومبر تک مکمل کرنے کی ہدایت

مزید خبریں
فیصل آباد۔ 04 نومبر (اے پی پی):پلسز ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے ماہرین نے کاشتکاروں کو آبپاش علاقوں میں چنے کی کاشت 15 نومبر تک اورجہلم،راولپنڈی،گجرات،نارووال کے اضلاع میں 10 نومبر تک مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے ۔
انہوں نے بتایا ہے کہ گزشتہ سال پنجاب میں چنے کے تقریباََ21لاکھ 97ہزار ایکڑ رقبہ سے 4لاکھ8 9ہزار ٹن پیداوار حاصل ہوئی۔انہوں نے کہاکہ چنا ربیع کی ایک اہم پھلی دار فصل ہے اور پنجاب میں چنے کا تقریباََ92فیصد رقبہ بارانی علاقوں پر مشتمل ہے۔انہوں نے کہ کہ چنے کی اچھی پیداوار کے لئے کاشتکار بارانی علاقوں میں کاشت جلد مکمل کریں جبکہ آبپاش علاقوں میں کاشت 15نومبر تک جاری رکھی جاسکتی ہے جبکہ کاشت سے پہلے بیج کو پھپھوندی کش زہر اور جراثیمی ٹیکہ بھی لگائیں۔انہوں نے کہاکہ دیسی چنے کی ترقی دادہ اقسام پنجاب 2008، تھل 2006،تھل2020،نیاب سی ایچ104، بلکسر 2000، ونہار 2000، بٹل 98،بٹل2016،نیاب سی ایچ2016، سی ایم 98، بھکر 2011وغیرہ اور کابلی چنے کی ترقی دادہ اقسام سی ایم 2008، نور 2009، روہی چنا21، نور 91،ٹمن 2013اور نور 2013وغیرہ کا صحت مند بیج استعمال کرکے اچھی پیداوار کاحصول ممکن بنایاجاسکتاہے۔
انہوں نے کہاکہ کاشتکار دیسی و کابلی چنے کی عام جسامت والے دانوں کی اقسام کا 30کلو گرام اور موٹے دانوں والی اقسام کا 35کلو گرام بیج فی ایکڑ استعمال کریں نیز کاشت بذریعہ ڈرل یا پور کریں تاکہ بیج کی روئیدگی اچھی ہو۔ انہوں نے کہاکہ قطاروں کا درمیانی فاصلہ ایک فٹ اور پودوں کا درمیانی فاصلہ 6انچ ہو نا چاہیے۔








