اسلام آباد۔10فروری (اے پی پی):قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور ڈویژن نے لیاری ایلیویٹڈ فریٹ کوریڈور منصوبہ پی ایس ڈی پی کے ذریعے مقامی، کم لاگت اور موثر ڈیزائن کے تحت مکمل کرنے کی سفارش کی ہے۔کمیٹی نے تجویز دی کہ پی ایس ڈی پی کے ذریعے اس منصوبے کی لاگت کو تین برسوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے جس کے تحت ہر سال تقریباً 40 ارب …
قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور کی لیاری ایلیویٹڈ فریٹ کوریڈور منصوبہ پی ایس ڈی پی کے ذریعے مقامی، کم لاگت اور موثر ڈیزائن کے تحت مکمل کرنے کی سفارش

مزید خبریں
اسلام آباد۔10فروری (اے پی پی):قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور ڈویژن نے لیاری ایلیویٹڈ فریٹ کوریڈور منصوبہ پی ایس ڈی پی کے ذریعے مقامی، کم لاگت اور موثر ڈیزائن کے تحت مکمل کرنے کی سفارش کی ہے۔کمیٹی نے تجویز دی کہ پی ایس ڈی پی کے ذریعے اس منصوبے کی لاگت کو تین برسوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے جس کے تحت ہر سال تقریباً 40 ارب روپے مختص کر کے لیاری ایلیویٹڈ فریٹ کوریڈور منصوبہ کومکمل کیا جاسکتاہے۔ قائمہ کمیٹی کا اجلاس قائم مقام چیئرمین ڈاکٹر مرزا اختیار بیگ کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ قائمہ کمیٹی نے کراچی میں پانی کی فراہمی کے منصوبہ ک فور اور لیاری ایلیویٹڈ فریٹ کوریڈور(ایل ایف ایف سی) منصوبے سے متعلق امور پر غور کیا اور فریٹ کوریڈور کی قومی لاجسٹکس اور اقتصادی ترقی میں اس کے سٹریٹجک اہمیت پر زور دیا۔ کمیٹی نے اس امر پر زور دیا کہ اس منصوبے کو سرکاری شعبہ کے ترقیاتی پروگرام(پی ایس ڈی پی) میں شامل کر کے مکمل کیا جانا چاہیے کیونکہ یہ مالیاتی لحاظ سے سب سے موزوں اور کم لاگت طریقہ کار ہے۔
کمیٹی کو بتایا گیا کہ کورین ایگزم بینک نے منصوبے کے لیے 164 ارب روپے کی تعمیراتی لاگت کے ساتھ فنانسنگ کی تجویز دی ہے جبکہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے مقامی طور پر عملدرآمد کے ماڈل کے تحت اس منصوبے کی لاگت کا تخمینہ 88.6 ارب روپے لگایا ہے، اگرچہ کورین ایگزم بینک نے ایک فیصد شرح سود پر چالیس سال کے لیے قرض کی پیشکش کی ہے تاہم کمیٹی نے مشاہدہ کیا کہ پی ایس ڈی پی کے ذریعے فنانسنگ قومی مفاد کے لیے زیادہ موزوں ہوگی کیونکہ اس سے مجموعی لاگت اور طویل المدت مالی ذمہ داریوں میں کمی آئے گی۔ کمیٹی نے نوٹ کیا کہ لیاری ایلیویٹڈ فریٹ کوریڈور کی معاشی استعداد نہایت وسیع ہے کیونکہ منصوبہ سے مال برداری کی نقل و حرکت کو بہتر بنانے ، کراچی میں ٹریفک کے دبائو کو کم کرنے ، کراچی پورٹ ٹرسٹ کے استعمال کو موثر بنانے اور قومی تجارت و معاشی نمو میں نمایاں کردار ادا کرنے میں معاون ثابت ہوگا۔ کمیٹی کو مزید آگاہ کیا گیا کہ کورین ایگزم بینک کے مجوزہ ماڈل میں زیادہ بھاری اور مہنگا ڈیزائن شامل ہے
جس میں درآمد شدہ سٹیل کے پلوں کی تعمیر بھی شامل ہے، صرف ان سٹیل پلوں کی لاگت کا تخمینہ 61 ارب روپے ہے ، اس کے برعکس این ایچ اے کے پاس تکنیکی صلاحیت موجود ہے کہ وہ کنکریٹ سے اسی معیار کے پل تقریباً 23 ارب روپے کی لاگت سے تعمیر کر سکتی ہے جس سے قومی خزانے کو خاطر خواہ بچت ہوگی۔ کمیٹی نے سفارش کی کہ لیاری ایلیویٹڈ فریٹ کوریڈور منصوبہ پی ایس ڈی پی کے ذریعے مقامی، کم لاگت اور موثر ڈیزائن کے تحت مکمل کیا جائے تاکہ مقامی وسائل کا بہترین استعمال، منصوبے کی لاگت میں کمی اور عوامی سرمائے کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے اورساتھ ہی ملک کے طویل المدت معاشی و انفراسٹرکچر اہداف کو آگے بڑھایا جا سکے۔ کمیٹی نے مزید تجویز دی کہ پی ایس ڈی پی کے ذریعے اس منصوبے کی لاگت کو تین برسوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے جس کے تحت ہر سال تقریباً 40 ارب روپے مختص کر کے لیاری ایلیویٹڈ فریٹ کوریڈور تعمیر کیا جائے۔ کمیٹی کو ایشیائی ترقیاتی بینک کے مالی تعاون سے جاری سینٹرل ایشیا ریجنل اکنامک کوآپریشن پروگرام کی پیش رفت سے بھی آگاہ کیا گیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ ٹرانچ ون اور ٹرانچ ٹو پر پیش رفت قابل ستائش رہی ہے
جبکہ ٹرانچ تھری اس وقت زیر عمل ہے۔ مزید بتایا گیا کہ ٹرانچ فورکا آغاز ابھی تک نہیں ہوا کیونکہ اس کا انحصار ٹرانچ تھری کی تکمیل پر ہے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ ٹرانچ تھری میں تاخیر کی بنیادی وجوہات زمین کے حصول کے مسائل، طریقہ کار کی سست روی اور ٹھیکوں کے اجراء و خریداری کے عمل میں کمزوریاں ہیں۔ کام کی سست رفتار کا سخت نوٹس لیتے ہوئے کمیٹی نے ٹرانچ تھری کی تکمیل میں تاخیر پر تشویش کا اظہار کیا اور زور دیا کہ ایسی تاخیر سے کاریک پروگرام کے مجموعی ٹائم لائن اور مقاصد بری طرح متاثر ہوتے ہیں۔ کمیٹی نے سفارش کی کہ تمام زیر التواء مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے اور ٹرانچ تھری پر عملدرآمد کو تیز کیا جائے تاکہ مطلوبہ اہداف حاصل کیے جا سکیں۔ کمیٹی کو عالمی بینک کے مالی تعاون سے جاری بنیادی ڈھانچہ کے منصوبوں پر بھی بریفنگ دی گئی۔ اس ضمن میں بتایا گیا کہ خیبر پاس اکنامک کوریڈور منصوبہ اس وقت ڈیزائن کے مرحلے میں ہے تاہم طریقہ کار کے مسائل کے باعث پیش رفت میں تاخیر ہوئی ہے۔ کمیٹی نے اس منصوبے کی سٹریٹجک اہمیت کو نوٹ کیا جس کا مقصد پاکستان اور افغانستان کے درمیان روابط کو بہتر بنانا، سفر کے دورانیے اور لاجسٹک اخراجات کو کم کرنا اور علاقائی تجارت کو فروغ دینا ہے۔
کمیٹی کو کراچی موبلٹی پروجیکٹ سے متعلق بھی آگاہ کیا گیا جس کا مقصد شہری نقل و حرکت کو بہتر بنانا ہے۔ کمیٹی نے میٹروپولیٹن شہر کی بڑھتی ہوئی ٹرانسپورٹ ضروریات کے تناظر میں اس منصوبے کی اہمیت کو تسلیم کیا۔ کمیٹی کو خیبر پختونخوا رورل ایکسیسبلٹی پروجیکٹ پر بھی بریفنگ دی گئی جس کا مقصد خیبر پختونخوا میں دیہی علاقوں کو ہر موسم میں قابلِ رسائی سڑکوں کے ذریعے بہتر طور پر منسلک کرنا ہے کمیٹی نے تمام ڈونر فنڈڈ منصوبوں کی بروقت تکمیل کی ضرورت پر زور دیا اور سفارش کی کہ متعلقہ حکام موثر رابطہ کاری، طریقہ کار میں آسانی اور مضبوط نگرانی کے نظام کو یقینی بنائیں تاکہ تاخیر سے بچا جا سکے اور ان منصوبوں کے سماجی و معاشی فوائد کو زیادہ سے زیادہ حاصل کیا جا سکے۔ اجلاس میں اراکین قومی اسمبلی ڈاکٹر مرزا اختیار بیگ، محمد طفیل، محمد خان ڈاہا، عمار احمد خان لغاری، اختر بی بی، ہما چغتائی، سیدہ شہلا رضا، محمد جاوید حنیف خان، نیلم اور زیب جعفر نے شرکت کی جبکہ سیکرٹری اقتصادی امور ڈویژن، وزارت اقتصادی امور کے حکام اور دیگر متعلقہ افسران بھی موجود تھے۔








