قائمہ کمیٹی برائے خزانہ ومحصولات کی وزارت اقتصادی امور کو لیسکو میں خریداری کے عمل اور ملکی قرضہ جات کی تفصیلی رپورٹ فراہم کرنے کی ہدایت

اسلام آباد۔31اکتوبر (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ ومحصولات نے وزارت اقتصادی امور کو لیسکو میں خریداری کے عمل اور ملک کے تازہ ترین قرضہ جات کے اعداد و شمار پر تفصیلی رپورٹ آئندہ اجلاس سے قبل کمیٹی کو فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔ قائمہ کمیٹی کااجلاس جمعہ کویہاں کمیٹی کے چیئرمین سیف اللہ ابڑوکی زیرصدارت منعقدہوا، ارکان کی جانب سے وزیر اقتصادی امور کی عدم حاضری …

اسلام آباد۔31اکتوبر (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ ومحصولات نے وزارت اقتصادی امور کو لیسکو میں خریداری کے عمل اور ملک کے تازہ ترین قرضہ جات کے اعداد و شمار پر تفصیلی رپورٹ آئندہ اجلاس سے قبل کمیٹی کو فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔

قائمہ کمیٹی کااجلاس جمعہ کویہاں کمیٹی کے چیئرمین سیف اللہ ابڑوکی زیرصدارت منعقدہوا، ارکان کی جانب سے وزیر اقتصادی امور کی عدم حاضری پر تشویش کااظہارکیاگیا۔ کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ بامقصد بحث اور موثر ہم آہنگی کے لیے اجلاس میں وزیر کی شرکت نہایت ضروری ہے۔ اجلاس میں چیئرمین سینیٹ کی جانب سے ملتان کے تاریخی علاقے کی بحالی و تزئین کے لیے مختص غیر خرچ شدہ فنڈز کے اجراء سے متعلق چیئرمین سینیٹ کے ریفرکردہ معاملہ جائزہ لیاگیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ منصوبے کی کل منظور شدہ لاگت تقریباً 850 ملین روپے ہے جو دو مراحل پرمشتمل ہے ۔

چیئرمین کمیٹی نے 679 ملین روپے کے ان غیر خرچ شدہ فنڈز کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا جو مینجمنٹ کمیٹی نے مناسب رپورٹنگ یا جواب دہی کے بغیر دیگر منصوبوں میں منتقل کر دی تھی۔ کمیٹی کو مزید آگاہ کیا گیا کہ منصوبے کی فزیبلٹی رپورٹ کی تیاری پر 170 ملین روپے خرچ کیے گئے۔ اقتصادی امور ڈویژن نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ منصوبہ وفاقی حکومت سے صوبائی حکومت کو منتقل کر دیا گیا ہے۔

کمیٹی نے اس امر پر حیرت کا اظہار کیا کہ مختلف منصوبہ جاتی اجزاء کے لیے مختص فنڈز مناسب طریقے سے استعمال نہیں ہوئے۔ کمیٹی نے کسی بھی فنڈ کی دوبارہ تقسیم شفاف اور دستاویزی عمل کے تحت ہونے پرزوردیا۔ کمیٹی نے وزارت اقتصادی امورکوتمام متعلقہ دستاویزات بشمول منظوریوں، نظرثانی شدہ پی سی ون، فنڈز کے استعمال کا ریکارڈ اور فزیبلٹی رپورٹ کی کاپی فراہم کرنے کی ہدایت کی۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا اور سفارش کی کہ وزارت اقتصادی امورآئندہ اجلاس میں کمشنر اور ڈپٹی کمشنر ملتان، چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ حکومت پنجاب اور سیکرٹری لوکل گورنمنٹ اینڈ کمیونٹی ڈویلپمنٹ حکومت پنجاب کو مدعو کرے۔اجلاس میں آئی ایم ایف فنڈز سے متعلق پچھلی سفارشات پر عملدرآمد کا بھی جائزہ لیا جس میں موصولہ فنڈز، تقسیم، ادائیگیاں، ہر سال ادا کیا گیا سود اور مجموعی قرض کی تفصیلات شامل تھیں۔

چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ اگرچہ مجموعی اعداد و شمار دستیاب ہیں تاہم ان کے لیے واضح آڈٹ ٹریل یا شفاف حساب کتاب موجود نہیں۔ انہوں نے کہا کہ آنے والی حکومتوں کی جانب سے آئی ایم ایف پروگرامز پر انحصار کم کرنے کے وعدے واضح اعداد و شمار اور ادائیگیوں کے شفاف ریکارڈ میں تبدیل نہیں ہو سکے۔ سینیٹر ہدایت اللہ خان نے گرانٹس یا بیلنس آف پیمنٹس سپورٹ کے طور پر دکھائے گئے اعداد وشمارکے ڈھانچہ جاتی اصلاحات کے لیے استعمال ہونے سے متعلق جبکہ سینیٹر سید وقار مہدی نے استعمال شدہ فنڈز کے اہداف سے متعلق سوالات کئے ۔ حکام نے بتایا کہ اہداف موجود ہیں مگر نظامی شفافیت اور ڈیٹا کی دستیابی محدود ہے۔

چیئرمین کمیٹی کے ایک سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ بجٹ کے تحت فنڈز 2010ء، 2019ء اور 2020ء میں موصول ہوئے۔ چیئرمین کمیٹی نے توسیعی فنڈسہولت پروگرام کی تفصیلات سے متعلق استفسارکیا۔ کمیٹی کوبتایاگیا کہ 30 جون 2025ء تک پاکستان کے کل بیرونی قرضہ جات وواجبات تقریباً 126 ارب ڈالر ہیں ۔ سینیٹر ہدایت اللہ خان نے 2008ء، 2013ء، 2018ء، 2022ء اور 2024 ء میں بیرونی قرضوں اور آئی ایم ایف ذمہ داریوں کی تفصیلات فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ چیئرمین نے اس تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ درست اور تصدیق شدہ اعداد و شمار پارلیمانی نگرانی کے لیے لازمی ہیں۔

چیئرمین کمیٹی نیوزارت اقتصادی امور کو 2008ء سے لیکر 2024ء تک کے تمام بیرونی سرکاری قرضوں کی جامع تفصیلات فراہم کرنے اور ہر منصوبے کے لحاظ سے مختص رقم، قرض دینے والے اداروں کی درجہ بندی اور قرضوں کے معاہدوں کی تفصیلات فراہم کرنے کی ہدایت کی۔کمیٹی نے توانائی کے جاری منصوبوں کا بھی جائزہ لیا جن میں ایشیائی ترقیاتی بینک کے فنڈ سے چلنے والے پاور ڈسٹری بیوشن سٹرینتھنگ پروجیکٹ کے تحت لیسکو کے ذریعے ایس ٹی جی سامان کی خریداری شامل تھی۔ اس منصوبے کے ایس ٹی جی حصے کے لیے 80 ملین ڈالر کا قرضہ منظور کیا گیا تھا۔ آٹھ پیکجوں کے تحت خریداری کا عمل جاری ہے جس میں تکنیکی جانچ تیسرے فریق کے ذریعے کی جا رہی ہے۔

سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے خریداری کے طریقہ کار میں بے ضابطگیوں پر تشویش کا اظہار کیا۔پبلک پریکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی کے منیجنگ ڈائریکٹر کی بریفنگ کے بعد کمیٹی نے مشاہدہ کیا کہ لیسکونے پیپرا کے قواعد و ضوابط کی مکمل خلاف ورزی کی ہے، پاور ڈویژن کے جائنٹ سیکرٹری نے بھی ان خلاف ورزیوں کی تصدیق کی۔ کمیٹی نے اس امر پر حیرت ظاہر کی کہ زیادہ تر کم ترین بولی دینے والے فریقین کو پیپرا قوانین پر عمل کیے بغیر’’نان ریسپانسیو‘‘ قرار دیا گیا اور ایک بولی دہندہ جسے منصوبے کے ایک حصے میں اہل قرار دیا گیا تھا، اسے دوسرے حصے میں نااہل قرار دیا گیا۔ تفصیلی غور و خوض کے بعد کمیٹی نے فیصلہ کیااورسفارش کی کہ وزارت توانائی (پاور ڈویژن) اس منصوبے کے خریداری کے عمل کو فی الفور روک دے۔

کمیٹی نے وزارت اقتصادی امور کواس معاملے پرایشیائی ترقیاتی بینک کو باضابطہ طور پر خط لکھنے کی بھی ہدایت کی۔ کمیٹی نے سفارش کی کہ وزارت توانائی (پاور ڈویژن) پبلک پریکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی رولز 2004 پر مکمل عملدرآمد کو یقینی بنائے، منصوبے کے ٹینڈرنگ عمل سے متعلق تمام دستاویزات کمیٹی کو فراہم کرے اور ملوث افسران کے خلاف کارروائی کرے۔ اجلاس میں سینیٹر فلک ناز نے چترال میں ناقص سڑکوں کے باعث مقامی آبادی اور سیاحت کو درپیش مشکلات پر تشویش ظاہر کی۔

نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے بتایا کہ 85 فیصد بحالی کا کام مکمل ہو چکا ہے اور بقیہ کام نومبر 2025ء تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔ چیئرمین کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ کمیٹی کا اگلا اجلاس چترال میں منعقد کیا جائے گا تاکہ منصوبے پر پیش رفت کا جائزہ لیا جا سکے اور صوبائی حکومت کے نمائندوں کو بھی اجلاس میں شرکت کے لیے آگاہ کیا جائے تاکہ این ایچ اے کے ساتھ معاملہ حل کیا جا سکے۔

سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے اس بات پر زور دیا کہ شفافیت، خریداری کے قوانین کی پابندی اور مالی معلومات کی درست فراہمی دوطرفہ و کثیرالجہتی منصوبوں کی ساکھ کے لیے نہایت اہم ہے۔ وزارت اقتصادی امور کو ہدایت دی گئی کہ وہ لیسکوکے خریداری کے عمل اور ملک کے تازہ ترین قرضہ جات کے اعداد و شمار پر تفصیلی رپورٹ آئندہ اجلاس سے قبل کمیٹی کو فراہم کرے۔ اجلاس میں سینیٹرز سید وقار مہدی، حاجی ہدایت اللہ خان، کامل علی آغا، فلک ناز، روبینہ خالد اور وزارت اقتصادی امور کے ایڈیشنل سیکرٹری سمیت دیگر حکام نے شرکت کی۔

مزید خبریں